سورۃ ابراھیم ۔ مکمل مع اردو ترجمہ

سورۃ ابراھیم ۔ مکمل مع اردو ترجمہ

سورۃ ابراہیم مع اردو ترجمہ۔ سورہ ابراہیم مکی سورہ ہے جو کہ ۵۲ آیات اور ۷ رکوع پر مشتمل ہے۔ ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری

Play Audio

Download MP3

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

الٓرٰ ۟ کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ اِلَیۡکَ لِتُخۡرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ۬ۙ بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ اِلٰی صِرَاطِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَمِیۡدِ ۙ﴿۱﴾

الٓرا۔ یہ ایک پرنور کتاب ہے اس کو ہم نے تم پر اس لئے نازل کیا ہے کہ تم لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاؤ یعنی انکے پروردگار کے حکم سے عزت والے خوبیوں والے مالک کے رستے کی طرف۔

اللّٰہِ الَّذِیۡ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ وَیۡلٌ لِّلۡکٰفِرِیۡنَ مِنۡ عَذَابٍ شَدِیۡدِۣ ۙ﴿۲﴾

یعنی اس اللہ کے راستے کی طرف کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور ان کافروں کے لئے عذاب شدید کی وجہ سے تباہی اور بربادی مقدر ہے۔

الَّذِیۡنَ یَسۡتَحِبُّوۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا عَلَی الۡاٰخِرَۃِ وَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ یَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ؕ اُولٰٓئِکَ فِیۡ ضَلٰلٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۳﴾

جو آخرت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی کو پسند کرتے اور لوگوں کو اللہ کے رستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں یہ لوگ بڑے دور کی گمراہی میں ہیں۔

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوۡمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُمۡ ؕ فَیُضِلُّ اللّٰہُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۴﴾

اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہ اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انہیں احکام الٰہی کھول کھول کر بتا دے۔ پھر اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ رہنے دیتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ غالب ہے حکمت والا ہے۔

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی بِاٰیٰتِنَاۤ اَنۡ اَخۡرِجۡ قَوۡمَکَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ۬ۙ وَ ذَکِّرۡہُمۡ بِاَیّٰىمِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ ﴿۵﴾

اور ہم نے موسٰی کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ۔ اور ان کو اللہ کے دن یاد دلاؤ۔ اور اس میں ان لوگوں کے لئے جو صابر و شاکر ہیں نشانیاں ہیں۔

وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہِ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ اَنۡجٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَسُوۡمُوۡنَکُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ یَسۡتَحۡیُوۡنَ نِسَآءَکُمۡ ؕ وَ فِیۡ ذٰلِکُمۡ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ عَظِیۡمٌ ٪﴿۶﴾٪۱

اور جب موسٰی نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ نے جو تم پر مہربانیاں کی ہیں انکو یاد کرو جبکہ اس نے تم کو فرعون کی قوم سے رہائی بخشی۔ وہ لوگ تمہیں برے برے عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔

وَ اِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّکُمۡ لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ وَ لَئِنۡ کَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ ﴿۷﴾

اور جب تمہارے پروردگار نے تم کو آگاہ کیا کہ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو یاد رکھو کہ میرا عذاب بھی سخت ہے۔

وَ قَالَ مُوۡسٰۤی اِنۡ تَکۡفُرُوۡۤا اَنۡتُمۡ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ حَمِیۡدٌ ﴿۸﴾

اور موسٰی نے صاف صاف کہدیا کہ اگر تم اور جتنے اور لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ناشکری کرو تو بھی اللہ بےنیاز ہے قابل تعریف ہے۔

اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ نَبَؤُا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوۡدَ ۬ؕۛ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ؕۛ لَا یَعۡلَمُہُمۡ اِلَّا اللّٰہُ ؕ جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَرَدُّوۡۤا اَیۡدِیَہُمۡ فِیۡۤ اَفۡوَاہِہِمۡ وَ قَالُوۡۤا اِنَّا کَفَرۡنَا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِہٖ وَ اِنَّا لَفِیۡ شَکٍّ مِّمَّا تَدۡعُوۡنَنَاۤ اِلَیۡہِ مُرِیۡبٍ ﴿۹﴾

بھلا تم کو ان لوگوں کے حالات کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے۔ یعنی نوح اور عاد اور ثمود کی قوم اور جو انکے بعد تھے۔ جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ جب انکے پاس انکے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیئے کہ خاموش رہو اور کہنے لگے کہ ہم تو تمہاری رسالت کو تسلیم نہیں کرتے اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم کو اس میں بھاری شک ہے۔

قَالَتۡ رُسُلُہُمۡ اَفِی اللّٰہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یَدۡعُوۡکُمۡ لِیَغۡفِرَ لَکُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِکُمۡ وَ یُؤَخِّرَکُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ قَالُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَا ؕ تُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا کَانَ یَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۰﴾

انکے پیغمبروں نے کہا کیا تم کو اللہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے بلا تا ہے کہ تمہارے گناہ بخشے اور ایک مدت مقرر تک تمکو مہلت دے۔ وہ بولے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تمہارا یہ منشا ہے کہ جن چیزوں کو ہمارے بڑے پوجتے رہے ہیں انکے پوجنے سے تم ہمیں روکدو تو اچھا کوئی کھلی دلیل لاؤ یعنی معجزہ دکھاؤ۔

قَالَتۡ لَہُمۡ رُسُلُہُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ مَا کَانَ لَنَاۤ اَنۡ نَّاۡتِیَکُمۡ بِسُلۡطٰنٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۱﴾

پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ہاں ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نبوت کا احسان کرتا ہے۔ اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم اللہ کے حکم کے بغیر تم کو تمہاری فرمائش کے مطابق معجزہ دکھائیں اور اللہ ہی پر مومنوں کو تو بھروسہ رکھنا چاہیے۔

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَکَّلَ عَلَی اللّٰہِ وَ قَدۡ ہَدٰىنَا سُبُلَنَا ؕ وَ لَنَصۡبِرَنَّ عَلٰی مَاۤ اٰذَیۡتُمُوۡنَا ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُتَوَکِّلُوۡنَ ﴿٪۱۲﴾٪۲

اور ہم کیوں اللہ پر بھروسہ نہ رکھیں حالانکہ اس نے ہم کو ہمارے دین کے سیدھے رستے بتائے ہیں اور جو تکلیفیں تم ہم کو دیتے ہو اس پر ہم صبر کریں گے۔ اور اہل توکل کو تو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِرُسُلِہِمۡ لَنُخۡرِجَنَّکُمۡ مِّنۡ اَرۡضِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِیۡ مِلَّتِنَا ؕ فَاَوۡحٰۤی اِلَیۡہِمۡ رَبُّہُمۡ لَنُہۡلِکَنَّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۳﴾

اور جو کافر تھے انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ یا تو ہم تم کو اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے یا تم ہمارے مذہب میں واپس آ جاؤ۔ پس انکے پروردگار نے انکی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کر دیں گے۔

وَ لَنُسۡکِنَنَّـکُمُ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ؕ ذٰلِکَ لِمَنۡ خَافَ مَقَامِیۡ وَ خَافَ وَعِیۡدِ ﴿۱۴﴾

اور انکے بعد تم کو اس زمین میں آباد کر دیں گے۔ یہ اس شخص کے لئے ہے جو قیامت کے روز میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے اور میرے عذاب سے خوف کرے۔

وَ اسۡتَفۡتَحُوۡا وَ خَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیۡدٍ ﴿ۙ۱۵﴾

اور پیغمبروں نے اللہ سے فتح چاہی اور ہر سرکش ضدی نامراد رہ گیا۔

مِّنۡ وَّرَآئِہٖ جَہَنَّمُ وَ یُسۡقٰی مِنۡ مَّآءٍ صَدِیۡدٍ ﴿ۙ۱۶﴾

اسکے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ والا پانی پلایا جائے گا۔

یَّتَجَرَّعُہٗ وَ لَا یَکَادُ یُسِیۡغُہٗ وَ یَاۡتِیۡہِ الۡمَوۡتُ مِنۡ کُلِّ مَکَانٍ وَّ مَا ہُوَ بِمَیِّتٍ ؕ وَ مِنۡ وَّرَآئِہٖ عَذَابٌ غَلِیۡظٌ ﴿۱۷﴾

وہ اسکو گھونٹ گھونٹ کر کے پئے گا اور گلے سے نہیں اتار سکے گا اور ہر طرف سے اسے موت آ رہی ہو گی مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا اور اسکے بعد سخت عذاب ہو گا۔

مَثَلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ اَعۡمَالُہُمۡ کَرَمَادِۣ اشۡتَدَّتۡ بِہِ الرِّیۡحُ فِیۡ یَوۡمٍ عَاصِفٍ ؕ لَا یَقۡدِرُوۡنَ مِمَّا کَسَبُوۡا عَلٰی شَیۡءٍ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِیۡدُ ﴿۱۸﴾

جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا انکے اعمال کی مثال راکھ کی سی ہے کہ آندھی کے دن اس پر زور کی ہوا چلے جو اسے اڑا لے جائے۔ اسی طرح جو کام وہ کرتے رہے ان پر انکو کچھ قابو نہ ہو گا۔ یہی تو پرلے سرے کی گمراہی ہے۔

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ اِنۡ یَّشَاۡ یُذۡہِبۡکُمۡ وَ یَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ﴿ۙ۱۹﴾

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے؟ اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کر دے اور تمہاری جگہ نئی مخلوق پیدا کر دے۔

وَّ مَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیۡزٍ ﴿۲۰﴾

اور یہ اللہ کو کچھ بھی مشکل نہیں۔

وَ بَرَزُوۡا لِلّٰہِ جَمِیۡعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡۤا اِنَّا کُنَّا لَکُمۡ تَبَعًا فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا مِنۡ عَذَابِ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ قَالُوۡا لَوۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ لَہَدَیۡنٰکُمۡ ؕ سَوَآءٌ عَلَیۡنَاۤ اَجَزِعۡنَاۤ اَمۡ صَبَرۡنَا مَا لَنَا مِنۡ مَّحِیۡصٍ ﴿٪۲۱﴾٪۳

اور قیامت کے دن سب لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے تو غریب پیروکار بڑے بن بیٹھنے والوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم اللہ کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کر سکتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ اگر اللہ ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرہٹ ظاہر کریں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ رہائی کی ہمارے لئے نہیں ہے۔

وَ قَالَ الشَّیۡطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰہَ وَعَدَکُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ وَ وَعَدۡتُّکُمۡ فَاَخۡلَفۡتُکُمۡ ؕ وَ مَا کَانَ لِیَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُکُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِیۡ ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِیۡ وَ لُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِکُمۡ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِیَّ ؕ اِنِّیۡ کَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَکۡتُمُوۡنِ مِنۡ قَبۡلُ ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۲﴾

اور جب حساب کتاب کا کام فیصل ہو چکے گا تو شیطان کہے گا جو وعدہ اللہ نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا اور جو وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو گمراہی اور باطل کی طرف بلایا تو تم نے جلدی سے اور بےدلیل میرا کہنا مان لیا۔ تو آج مجھے ملامت نہ کرو اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے بیشک جو ظالم ہیں انکے لئے درد دینے والا عذاب ہے۔

وَ اُدۡخِلَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ ؕ تَحِیَّتُہُمۡ فِیۡہَا سَلٰمٌ ﴿۲۳﴾

اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ بہشتوں میں داخل کئے جائیں گے جنکے نیچے نہریں بہ رہی ہیں اپنے پروردگار کے حکم سے وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے وہاں وہ ہر ملاقات پر ایکدوسرے کو سلام کہیں گے۔

اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّ فَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ ﴿ۙ۲۴﴾

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے وہ ایسی ہے جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط ہو اور شاخیں آسمان میں پھیلی ہوں۔

تُؤۡتِیۡۤ اُکُلَہَا کُلَّ حِیۡنٍۭ بِاِذۡنِ رَبِّہَا ؕ وَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۲۵﴾

وہ اپنے پروردگار کے حکم سے ہر موقع پر پھل لاتا ہو اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

وَ مَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیۡثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیۡثَۃِۣ اجۡتُثَّتۡ مِنۡ فَوۡقِ الۡاَرۡضِ مَا لَہَا مِنۡ قَرَارٍ ﴿۲۶﴾

اور ناپاک بات یعنی غلط عقیدے کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے کہ وہ زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے اسکو ذرا بھی قرار و ثبات نہیں۔

یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیۡنَ ۟ۙ وَ یَفۡعَلُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُ ﴿٪۲۷﴾٪۴

اللہ مومنوں کے دلوں کو صحیح اور پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی رکھے گا اور اللہ بےانصافوں کو گمراہ کر دیتا ہے۔ اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ بَدَّلُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ کُفۡرًا وَّ اَحَلُّوۡا قَوۡمَہُمۡ دَارَ الۡبَوَارِ ﴿ۙ۲۸﴾

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا۔ اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں لا اتارا۔

جَہَنَّمَ ۚ یَصۡلَوۡنَہَا ؕ وَ بِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴿۲۹﴾

یعنی دوزخ میں کہ سب ناشکرے اس میں داخل ہوں گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔

وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ اَنۡدَادًا لِّیُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ قُلۡ تَمَتَّعُوۡا فَاِنَّ مَصِیۡرَکُمۡ اِلَی النَّارِ ﴿۳۰﴾

اور ان لوگوں نے اللہ کے شریک مقرر کئے کہ لوگوں کو اسکے رستے سے گمراہ کریں۔ کہدو کہ چند روز فائدے اٹھا لو آخر کار تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

قُلۡ لِّعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یُقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ یُنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَ لَا خِلٰلٌ ﴿۳۱﴾

اے پیغمبر میرے مومن بندوں سے کہدو کہ نماز پڑھا کریں اور اس دن کے آنے سے پیشتر جس میں نہ اعمال کا سودا ہوگا اور نہ دوستی کام آئے گی ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے رہیں۔

اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخۡرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزۡقًا لَّکُمۡ ۚ وَ سَخَّرَ لَکُمُ الۡفُلۡکَ لِتَجۡرِیَ فِی الۡبَحۡرِ بِاَمۡرِہٖ ۚ وَ سَخَّرَ لَکُمُ الۡاَنۡہٰرَ ﴿ۚ۳۲﴾

اللہ ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ اور آسمان سے مینہ برسایا۔ پھر اس سے تمہارے کھانے کے لئے پھل پیدا کئے۔ اور کشتیوں اور جہازوں کو تمہارے زیرفرمان کیا تاکہ وہ سمندر میں اس کے حکم سے چلیں اور نہروں کو بھی تمہارے زیرفرمان کیا۔

وَ سَخَّرَ لَکُمُ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ دَآئِبَیۡنِ ۚ وَ سَخَّرَ لَکُمُ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ ﴿ۚ۳۳﴾

اور سورج اور چاند کو تمہارے لئے کام میں لگا دیا کہ دونوں دن رات ایک ڈگر پر چل رہے ہیں۔ اور رات اور دن کو بھی تمہاری خاطر کام میں لگا دیا۔

وَ اٰتٰىکُمۡ مِّنۡ کُلِّ مَا سَاَلۡتُمُوۡہُ ؕ وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَظَلُوۡمٌ کَفَّارٌ ﴿٪۳۴﴾٪۵

اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سے تم کو عنایت کیا اور اگر اللہ کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کر سکو مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بےانصاف ہے ناشکرا ہے۔

وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ رَبِّ اجۡعَلۡ ہٰذَا الۡبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجۡنُبۡنِیۡ وَ بَنِیَّ اَنۡ نَّعۡبُدَ الۡاَصۡنَامَ ﴿ؕ۳۵﴾

اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار اس شہر کو لوگوں کے لئے امن کی جگہ بنا دے اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ بتوں کی پرستش کرنے لگیں بچائے رکھیو۔

رَبِّ اِنَّہُنَّ اَضۡلَلۡنَ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ ۚ فَمَنۡ تَبِعَنِیۡ فَاِنَّہٗ مِنِّیۡ ۚ وَ مَنۡ عَصَانِیۡ فَاِنَّکَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۶﴾

اے پروردگار انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سو جس شخص نے میرا کہا مانا وہ میرا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو تو بخشنے والا ہے مہربان ہے۔

رَبَّنَاۤ اِنِّیۡۤ اَسۡکَنۡتُ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ بِوَادٍ غَیۡرِ ذِیۡ زَرۡعٍ عِنۡدَ بَیۡتِکَ الۡمُحَرَّمِ ۙ رَبَّنَا لِیُـقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجۡعَلۡ اَفۡئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہۡوِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ وَارۡ زُقۡہُمۡ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۳۷﴾

اے پروردگار میں نے اپنی اولاد ایک وادی میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت و ادب والے گھر کے پاس لا بسائی ہے۔ اے پروردگار تاکہ یہ نماز پڑھیں سو تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ انکی طرف جھکے رہیں اور انکو میووں سے روزی دیتے رہنا تاکہ تیرا شکر کریں۔

رَبَّنَاۤ اِنَّکَ تَعۡلَمُ مَا نُخۡفِیۡ وَ مَا نُعۡلِنُ ؕ وَ مَا یَخۡفٰی عَلَی اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ﴿۳۸﴾

اے پروردگار جو بات ہم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ تو سب جانتا ہے اور اللہ سے کوئی چیز مخفی نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں۔

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ وَہَبَ لِیۡ عَلَی الۡکِبَرِ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِسۡحٰقَ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ لَسَمِیۡعُ الدُّعَآءِ ﴿۳۹﴾

اللہ کا شکر ہے جس نے مجھ کو بڑی عمر میں اسمٰعیل اور اسحٰق بخشے۔ بیشک میرا پروردگار دعا سننے والا ہے۔

رَبِّ اجۡعَلۡنِیۡ مُقِیۡمَ الصَّلٰوۃِ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ٭ۖ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلۡ دُعَآءِ ﴿۴۰﴾

اے پروردگار مجھ کو ایسی توفیق عنایت کر کہ نماز پڑھتا رہوں اور میری اولاد کو بھی یہ توفیق بخش اے پروردگار میری دعا قبول فرما۔

رَبَّنَا اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡحِسَابُ ﴿٪۴۱﴾٪۶

اے پروردگار حساب کتاب کے دن میری اور میرے ماں باپ کی اور مومنوں کی مغفرت کیجیو۔

وَ لَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰہَ غَافِلًا عَمَّا یَعۡمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ ۬ؕ اِنَّمَا یُؤَخِّرُہُمۡ لِیَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِیۡہِ الۡاَبۡصَارُ ﴿ۙ۴۲﴾

اور مومنو یہ نہ سمجھنا کہ یہ ظالم جو کام کر رہے ہیں اللہ ان سے بیخبر ہے۔ وہ انکو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جبکہ دہشت کے سبب آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔

مُہۡطِعِیۡنَ مُقۡنِعِیۡ رُءُوۡسِہِمۡ لَا یَرۡتَدُّ اِلَیۡہِمۡ طَرۡفُہُمۡ ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُہُمۡ ہَوَآءٌ ﴿ؕ۴۳﴾

اور لوگ سر اٹھائے ہوئے میدان قیامت کی طرف دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں خود اپنی طرف لوٹ نہ سکیں گی۔ اور انکے دل مارے خوف کے ہوا ہو رہے ہوں گے۔

وَ اَنۡذِرِ النَّاسَ یَوۡمَ یَاۡتِیۡہِمُ الۡعَذَابُ فَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رَبَّنَاۤ اَخِّرۡنَاۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ۙ نُّجِبۡ دَعۡوَتَکَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ ؕ اَوَ لَمۡ تَکُوۡنُوۡۤا اَقۡسَمۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ مَا لَکُمۡ مِّنۡ زَوَالٍ ﴿ۙ۴۴﴾

اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کر دو جب ان پر عذاب آ جائے گا تب ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مہلت عطا کر تاکہ ہم تیری دعوت توحید قبول کریں۔ اور تیرے پیغمبروں کے پیچھے چلیں تو جواب ملے گا کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ تم کو اس حال سے جسمیں تم ہو زوال نہیں ہوگا۔

وَّ سَکَنۡتُمۡ فِیۡ مَسٰکِنِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ تَبَیَّنَ لَکُمۡ کَیۡفَ فَعَلۡنَا بِہِمۡ وَ ضَرَبۡنَا لَکُمُ الۡاَمۡثَالَ ﴿۴۵﴾

اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم انکے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہو چکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح کا معاملہ کیا تھا۔ اور تمہارے سمجھانے کے لئے مثالیں بیان کر دی تھیں۔

وَ قَدۡ مَکَرُوۡا مَکۡرَہُمۡ وَ عِنۡدَ اللّٰہِ مَکۡرُہُمۡ ؕ وَ اِنۡ کَانَ مَکۡرُہُمۡ لِتَزُوۡلَ مِنۡہُ الۡجِبَالُ ﴿۴۶﴾

اور انہوں نے بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ اور انکی سب تدبیریں اللہ کے ہاں لکھی ہوئی ہیں۔ گو وہ تدبیریں ایسی غضب کی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔

فَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰہَ مُخۡلِفَ وَعۡدِہٖ رُسُلَہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴿ؕ۴۷﴾

تو ایسا خیال نہ کرنا کہ اللہ نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے وہ اسکے خلاف کرے گا۔ بیشک اللہ زبردست ہے بدلہ لینے والا ہے۔

یَوۡمَ تُبَدَّلُ الۡاَرۡضُ غَیۡرَ الۡاَرۡضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوۡا لِلّٰہِ الۡوَاحِدِ الۡقَہَّارِ ﴿۴۸﴾

جس دن یہ زمین دوسری ہی زمین بنا دی جائےگی اور آسمان بھی بدل دیئے جائیں گے اور سب لوگ اللہ کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے جو یکتا ہے بڑا زبردست ہے۔

وَ تَـرَی الۡمُجۡرِمِیۡنَ یَوۡمَئِذٍ مُّقَرَّنِیۡنَ فِی الۡاَصۡفَادِ ﴿ۚ۴۹﴾

اور اس دن تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

سَرَابِیۡلُہُمۡ مِّنۡ قَطِرَانٍ وَّ تَغۡشٰی وُجُوۡہَہُمُ النَّارُ ﴿ۙ۵۰﴾

انکے کرتے تارکول کے ہوں گے اور انکے چہروں کو آگ لپٹ رہی ہوگی۔

لِیَجۡزِیَ اللّٰہُ کُلَّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۵۱﴾

یہ اس لئے کہ اللہ ہر شخص کو اسکے اعمال کا بدلہ دے۔ بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

ہٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنۡذَرُوۡا بِہٖ وَ لِیَعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّکَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿٪۵۲﴾٪۷

یہ قرآن لوگوں کے نام اللہ کا پیغام ہے تاکہ ان کو اس سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے اور تاکہ اہل عقل نصیحت حاصل کریں۔

سورۃ الرعد سورۃ حجر