سورۃ بنی اسرائیل ۔ مکمل مع اردو ترجمہ

سورۃ بنی اسرائیل ۔ مکمل مع اردو ترجمہ

سورۃ بنی اسرائیل مع اردو ترجمہ۔ سورہ بنی اسرائیل مکی سورہ ہے جو کہ ۱۱۱ آیات اور ۱۲ رکوع پر مشتمل ہے۔ ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری

Play Audio

Download MP3

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿۱﴾

وہ قادر مطلق جو ہر خامی سے پاک ہے ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام یعنی خانہ کعبہ سے مسجد اقصٰے یعنی بیت المقدس تک جسکے چاروں طرف ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائیں۔ بیشک وہ سننے والا ہے دیکھنے والا ہے۔

وَ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ وَ جَعَلۡنٰہُ ہُدًی لِّبَـنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اَلَّا تَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِیۡ وَکِیۡلًا ؕ﴿۲﴾

اور ہم نے موسٰی کو کتاب عنایت کی تھی اور اسکو بنی اسرائیل کے لئے راہنما مقرر کیا تھا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ ٹھہرانا۔

ذُرِّیَّۃَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ ؕ اِنَّہٗ کَانَ عَبۡدًا شَکُوۡرًا ﴿۳﴾

اے ان لوگوں کی اولاد جنکو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا۔ بیشک نوح ہمارے شکرگذار بندے تھے۔

وَ قَضَیۡنَاۤ اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ فِی الۡکِتٰبِ لَتُفۡسِدُنَّ فِی الۡاَرۡضِ مَرَّتَیۡنِ وَ لَتَعۡلُنَّ عُلُوًّا کَبِیۡرًا ﴿۴﴾

اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سےکہدیا تھا کہ تم زمین میں دو دفعہ فساد مچاؤ گے اور بڑی سرکشی کرو گے۔

فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ اُوۡلٰىہُمَا بَعَثۡنَا عَلَیۡکُمۡ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّیَارِ ؕ وَ کَانَ وَعۡدًا مَّفۡعُوۡلًا ﴿۵﴾

پس جب پہلے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے اپنے سخت لڑائی لڑنے والے بندے تم پر مسلط کر دیئے اور وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔ اور وہ وعدہ پورا ہو کر رہا۔

ثُمَّ رَدَدۡنَا لَکُمُ الۡکَرَّۃَ عَلَیۡہِمۡ وَ اَمۡدَدۡنٰکُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّ بَنِیۡنَ وَ جَعَلۡنٰکُمۡ اَکۡثَرَ نَفِیۡرًا ﴿۶﴾

پھر ہم نے دوسری بار تمکو ان پر غلبہ دیا اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کی۔ اور تمکو جماعت کثیر بنا دیا۔

اِنۡ اَحۡسَنۡتُمۡ اَحۡسَنۡتُمۡ لِاَنۡفُسِکُمۡ ۟ وَ اِنۡ اَسَاۡتُمۡ فَلَہَا ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ لِیَسُوۡٓءٗا وُجُوۡہَکُمۡ وَ لِیَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ کَمَا دَخَلُوۡہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ لِیُتَبِّرُوۡا مَا عَلَوۡا تَتۡبِیۡرًا ﴿۷﴾

اگر تم نیکوکاری کرو گے تو اپنی جانوں کے لئے کرو گے اور اگر اعمال بد کرو گے تو ان کا وبال بھی تمہاری ہی جانوں پر ہو گا پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں۔ اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد بیت المقدس میں داخل ہو گئے تھے اسی طرح پھر اس میں داخل ہو جائیں اور جس چیز پر غلبہ پائیں اسے تباہ کر دیں۔

عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یَّرۡحَمَکُمۡ ۚ وَ اِنۡ عُدۡتُّمۡ عُدۡنَا ۘ وَ جَعَلۡنَا جَہَنَّمَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ حَصِیۡرًا ﴿۸﴾

امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے۔ اور اگر تم پھر وہی حرکتیں کرو گے تو ہم بھی وہی پہلا سلوک کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قیدخانہ بنا رکھا ہے۔

اِنَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ یَہۡدِیۡ لِلَّتِیۡ ہِیَ اَقۡوَمُ وَ یُبَشِّرُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ الَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمۡ اَجۡرًا کَبِیۡرًا ۙ﴿۹﴾

یہ قرآن وہ رستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے اجر عظیم ہے۔

وَّ اَنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ اَعۡتَدۡنَا لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿٪۱۰﴾٪۱

اور یہ بھی بتاتا ہے کہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

وَ یَدۡعُ الۡاِنۡسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَہٗ بِالۡخَیۡرِ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ عَجُوۡلًا ﴿۱۱﴾

اور انسان جس طرح جلدی سے بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے۔ اور انسان بڑا جلدباز ہے۔

وَ جَعَلۡنَا الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ اٰیَتَیۡنِ فَمَحَوۡنَاۤ اٰیَۃَ الَّیۡلِ وَ جَعَلۡنَاۤ اٰیَۃَ النَّہَارِ مُبۡصِرَۃً لِّتَبۡتَغُوۡا فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ لِتَعۡلَمُوۡا عَدَدَ السِّنِیۡنَ وَ الۡحِسَابَ ؕ وَ کُلَّ شَیۡءٍ فَصَّلۡنٰہُ تَفۡصِیۡلًا ﴿۱۲﴾

اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا ہے سو رات کی نشانی کو تاریک بنایا۔ اور دن کی نشانی کو روشن۔ تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل یعنی روزی تلاش کرو اور برسوں کا شمار اور حساب جانو۔ اور ہم نے ہر چیز کی بخوبی تفصیل کر دی ہے۔

وَ کُلَّ اِنۡسَانٍ اَلۡزَمۡنٰہُ طٰٓئِرَہٗ فِیۡ عُنُقِہٖ ؕ وَ نُخۡرِجُ لَہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ کِتٰبًا یَّلۡقٰىہُ مَنۡشُوۡرًا ﴿۱۳﴾

اور ہم نے ہر انسان کے اعمال نامے کو بہ صورت کتاب اسکے گلے میں لٹکا دیا ہے۔ اور قیامت کے روز وہ کتاب اسے نکال دکھائیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا۔

اِقۡرَاۡ کِتٰبَکَ ؕ کَفٰی بِنَفۡسِکَ الۡیَوۡمَ عَلَیۡکَ حَسِیۡبًا ﴿ؕ۱۴﴾

کہا جائے گا کہ اپنی کتاب پڑھ لے۔ تو آج آپ ہی اپنا حساب کرنے والا کافی ہے۔

مَنِ اہۡتَدٰی فَاِنَّمَا یَہۡتَدِیۡ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیۡہَا ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ؕ وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴿۱۵﴾

جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے لئے اختیار کر تا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہو گا اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج لیں عذاب نہیں دیا کرتے۔

وَ اِذَاۤ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نُّہۡلِکَ قَرۡیَۃً اَمَرۡنَا مُتۡرَفِیۡہَا فَفَسَقُوۡا فِیۡہَا فَحَقَّ عَلَیۡہَا الۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنٰہَا تَدۡمِیۡرًا ﴿۱۶﴾

اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی کے ہلاک کرنے کا ہوا تو وہاں کے آسودہ لوگوں کو فواحش پر مامور کر دیا تو وہ نافرمانیاں کرتے رہے پھر اس پر عذاب کا حکم ثابت ہو گیا۔ اور ہم نے اسے ہلاک کر ڈالا۔

وَ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنَ الۡقُرُوۡنِ مِنۡۢ بَعۡدِ نُوۡحٍ ؕ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ بِذُنُوۡبِ عِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا ﴿۱۷﴾

اور ہم نے نوح کے بعد بہت سی امتوں کو ہلاک کر ڈالا اور تمہارا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے اور دیکھنے والا کافی ہے۔

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡعَاجِلَۃَ عَجَّلۡنَا لَہٗ فِیۡہَا مَا نَشَآءُ لِمَنۡ نُّرِیۡدُ ثُمَّ جَعَلۡنَا لَہٗ جَہَنَّمَ ۚ یَصۡلٰىہَا مَذۡمُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ﴿۱۸﴾

جو شخص دنیا کی آسودگی کا خواہشمند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں۔ پھر اسکے لئے جہنم کو ٹھکانہ مقرر کر رکھا ہے جسمیں وہ نفریں سن کر اور درگاہ الٰہی سے راندہ ہو کر داخل ہو گا۔

وَ مَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَۃَ وَ سَعٰی لَہَا سَعۡیَہَا وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعۡیُہُمۡ مَّشۡکُوۡرًا ﴿۱۹﴾

اور جو شخص آخرت کا خواستگار ہو اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے۔

کُلًّا نُّمِدُّ ہٰۤؤُلَآءِ وَ ہٰۤؤُلَآءِ مِنۡ عَطَآءِ رَبِّکَ ؕ وَ مَا کَانَ عَطَـآءُ رَبِّکَ مَحۡظُوۡرًا ﴿۲۰﴾

ہم انکو اور انکو سب کو تمہارے پروردگار کی بخشش سے مدد دیتے ہیں اور تمہارے پروردگار کی بخشش کسی سے رکی ہوئی نہیں۔

اُنۡظُرۡ کَیۡفَ فَضَّلۡنَا بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ؕ وَ لَلۡاٰخِرَۃُ اَکۡبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَکۡبَرُ تَفۡضِیۡلًا ﴿۲۱﴾

دیکھو ہم نے کس طرح بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے۔ اور آخرت درجوں میں دنیا سے بہت برتر اور برتری میں کہیں بڑھ کر ہے۔

لَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَتَقۡعُدَ مَذۡمُوۡمًا مَّخۡذُوۡلًا ﴿٪۲۲﴾٪۲

اور اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ ملامتیں سن کر اور بےکس ہو کر بیٹھے رہ جاؤ گے۔

وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾

اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اسکے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انکو اف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور ان سے بات ادب کے ساتھ کرنا۔

وَ اخۡفِضۡ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحۡمَۃِ وَ قُلۡ رَّبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا ﴿ؕ۲۴﴾

اور عجزونیاز سے انکے آگے جھکے رہو اور انکے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں شفقت سے پرورش کیا ہے تو بھی انکے حال پر رحمت فرما۔

رَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا فِیۡ نُفُوۡسِکُمۡ ؕ اِنۡ تَکُوۡنُوۡا صٰلِحِیۡنَ فَاِنَّہٗ کَانَ لِلۡاَوَّابِیۡنَ غَفُوۡرًا ﴿۲۵﴾

جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے۔ اگر تم نیک ہو گے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے۔

وَ اٰتِ ذَاالۡقُرۡبٰی حَقَّہٗ وَ الۡمِسۡکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ وَ لَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِیۡرًا ﴿۲۶﴾

اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو اور فضول خرچی سے مال نہ اڑاؤ۔

اِنَّ الۡمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ ؕ وَ کَانَ الشَّیۡطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوۡرًا ﴿۲۷﴾

کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کی نعمتوں کا کفران کرنے والا یعنی ناشکرا ہے۔

وَ اِمَّا تُعۡرِضَنَّ عَنۡہُمُ ابۡتِغَآءَ رَحۡمَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکَ تَرۡجُوۡہَا فَقُلۡ لَّہُمۡ قَوۡلًا مَّیۡسُوۡرًا ﴿۲۸﴾

اور اگر تم اپنے پروردگار کی رحمت یعنی فراخ دستی کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہو ان مستحقین کی طرف توجہ نہ کر سکو تو ان سے نرمی سے بات کہہ دیا کرو۔

وَ لَا تَجۡعَلۡ یَدَکَ مَغۡلُوۡلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَ لَا تَبۡسُطۡہَا کُلَّ الۡبَسۡطِ فَتَقۡعُدَ مَلُوۡمًا مَّحۡسُوۡرًا ﴿۲۹﴾

اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا یعنی بہت تنگ کر لو کہ کسی کو کچھ دو ہی نہیں اور نہ بالکل کھول ہی دو کہ سبھی کچھ دے ڈالو اور انجام یہ ہو کہ ملامت زدہ اور حسرت زدہ ہو کر بیٹھ جاؤ۔

اِنَّ رَبَّکَ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا ﴿٪۳۰﴾٪۳

بیشک تمہارا پروردگار جسکی روزی چاہتا ہے فراخ کر دیتا ہے اور جسکی روزی چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور انکو دیکھ رہا ہے۔

وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ خَشۡیَۃَ اِمۡلَاقٍ ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُہُمۡ وَ اِیَّاکُمۡ ؕ اِنَّ قَتۡلَہُمۡ کَانَ خِطۡاً کَبِیۡرًا ﴿۳۱﴾

اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرنا کیونکہ ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے۔

وَ لَا تَقۡرَبُوا الزِّنٰۤی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً ؕ وَ سَآءَ سَبِیۡلًا ﴿۳۲﴾

اور زنا کے پاس بھی نہ جانا کہ وہ بےحیائی ہے اور بری راہ ہے۔

وَ لَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالۡحَقِّ ؕ وَ مَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِوَلِیِّہٖ سُلۡطٰنًا فَلَا یُسۡرِفۡ فِّی الۡقَتۡلِ ؕ اِنَّہٗ کَانَ مَنۡصُوۡرًا ﴿۳۳﴾

اور جس جاندار کا مارنا اللہ نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر یعنی بفتوٰی شریعت اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اسکے وارث کو اختیار دیا ہے کہ ظالم قاتل سے بدلہ لے تو اسکو چاہیے کہ قتل کے قصاص میں زیادتی نہ کرے۔ کہ وہ منصور و فتح یاب ہے۔

وَ لَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡیَتِیۡمِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ حَتّٰی یَبۡلُغَ اَشُدَّہٗ ۪ وَ اَوۡفُوۡا بِالۡعَہۡدِ ۚ اِنَّ الۡعَہۡدَ کَانَ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۴﴾

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکنا۔ مگر ایسے طریق سے کہ بہت بہتر ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے۔ اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہو گی۔

وَ اَوۡفُوا الۡکَیۡلَ اِذَا کِلۡتُمۡ وَ زِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِیۡمِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا ﴿۳۵﴾

اور جب کوئی چیز ناپ کر دینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور جب تول کر دو۔ تو ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے۔

وَ لَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ اِنَّ السَّمۡعَ وَ الۡبَصَرَ وَ الۡفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنۡہُ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۶﴾

اور اے بندے جس چیز کا تجھے علم نہیں اسکے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب اعضاء کے بارے میں ضرور باز پرس ہو گی۔

وَ لَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا ۚ اِنَّکَ لَنۡ تَخۡرِقَ الۡاَرۡضَ وَ لَنۡ تَبۡلُغَ الۡجِبَالَ طُوۡلًا ﴿۳۷﴾

اور زمین پر اکڑ کر اور تن کر مت چل کہ تو زمین کو پھاڑ تو نہیں ڈالے گا اور نہ لمبا ہو کر پہاڑوں کی چوٹی تک پہنچ جائے گا۔

کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُہٗ عِنۡدَ رَبِّکَ مَکۡرُوۡہًا ﴿۳۸﴾

ان سب عادتوں کی برائی تیرے پروردگار کے نزدیک بہت ناپسند ہے۔

ذٰلِکَ مِمَّاۤ اَوۡحٰۤی اِلَیۡکَ رَبُّکَ مِنَ الۡحِکۡمَۃِ ؕ وَ لَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَتُلۡقٰی فِیۡ جَہَنَّمَ مَلُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ﴿۳۹﴾

اے پیغمبر یہ ان ہدایتوں میں سے ہیں جو اللہ نے حکمت کی باتیں تمہاری طرف وحی کی ہیں اور اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ ایسا کرنے سے ملامت زدہ اور راندہ درگاہ بنا کر جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے۔

اَفَاَصۡفٰىکُمۡ رَبُّکُمۡ بِالۡبَنِیۡنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنَاثًا ؕ اِنَّکُمۡ لَتَقُوۡلُوۡنَ قَوۡلًا عَظِیۡمًا ﴿٪۴۰﴾٪۴

مشرکو! کیا تمہارے پروردگار نے تمکو تو لڑکے دیئے اور اپنے لئے فرشتوں کو بیٹیاں بنایا۔ کچھ شک نہیں کہ یہ تم بڑی نامعقول بات کہتے ہو۔

وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لِیَذَّکَّرُوۡا ؕ وَ مَا یَزِیۡدُہُمۡ اِلَّا نُفُوۡرًا ﴿۴۱﴾

اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں۔

قُلۡ لَّوۡ کَانَ مَعَہٗۤ اٰلِـہَۃٌ کَمَا یَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰی ذِی الۡعَرۡشِ سَبِیۡلًا ﴿۴۲﴾

کہدو کہ اگر اللہ کے ساتھ اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ ضرور عرش والے کی طرف لڑنے بھڑنے کے لئے رستہ نکالتے۔

سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَقُوۡلُوۡنَ عُلُوًّا کَبِیۡرًا ﴿۴۳﴾

وہ پاک ہے اور جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس سے اس کا رتبہ بہت عالی ہے۔

تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَ الۡاَرۡضُ وَ مَنۡ فِیۡہِنَّ ؕ وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمۡدِہٖ وَ لٰکِنۡ لَّا تَفۡقَہُوۡنَ تَسۡبِیۡحَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ حَلِیۡمًا غَفُوۡرًا ﴿۴۴﴾

ساتوں آسمان اور زمین اور جو لوگ ان میں ہیں سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں۔ اور مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں مگر اسکی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔ لیکن تم انکی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔ بیشک وہ بردبار ہے غفار ہے۔

وَ اِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًا ﴿ۙ۴۵﴾

اور اے نبی جب تم قرآن پڑھا کرتے ہو تو ہم تم میں اور ان لوگوں میں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے چھپا ہوا پردہ یعنی حجاب ڈال دیتے ہیں۔

وَّ جَعَلۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اَکِنَّۃً اَنۡ یَّفۡقَہُوۡہُ وَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرًا ؕ وَ اِذَا ذَکَرۡتَ رَبَّکَ فِی الۡقُرۡاٰنِ وَحۡدَہٗ وَلَّوۡا عَلٰۤی اَدۡبَارِہِمۡ نُفُوۡرًا ﴿۴۶﴾

اور انکے دلوں پر بھی پردے ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور انکے کانوں میں ثقل پیدا کر دیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ لوگ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں۔

نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَسۡتَمِعُوۡنَ بِہٖۤ اِذۡ یَسۡتَمِعُوۡنَ اِلَیۡکَ وَ اِذۡ ہُمۡ نَجۡوٰۤی اِذۡ یَقُوۡلُ الظّٰلِمُوۡنَ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ﴿۴۷﴾

یہ لوگ جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جس نیت سے یہ سنتے ہیں ہم اسے خوب جانتے ہیں اور جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں یعنی جب ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے۔

اُنۡظُرۡ کَیۡفَ ضَرَبُوۡا لَکَ الۡاَمۡثَالَ فَضَلُّوۡا فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ سَبِیۡلًا ﴿۴۸﴾

دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائی ہیں۔ سو یہ گمراہ ہو رہے ہیں اور رستہ نہیں پا سکتے۔

وَ قَالُوۡۤاءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًاءَ اِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ خَلۡقًا جَدِیۡدًا ﴿۴۹﴾

اور کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر بوسیدہ ہڈیاں اور چور چور ہو جائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا ہو کر اٹھیں گے؟

قُلۡ کُوۡنُوۡا حِجَارَۃً اَوۡ حَدِیۡدًا ﴿ۙ۵۰﴾

کہدو کہ خواہ تم پتھر ہو جاؤ یا لوہا۔

اَوۡ خَلۡقًا مِّمَّا یَکۡبُرُ فِیۡ صُدُوۡرِکُمۡ ۚ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ مَنۡ یُّعِیۡدُنَا ؕ قُلِ الَّذِیۡ فَطَرَکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ۚ فَسَیُنۡغِضُوۡنَ اِلَیۡکَ رُءُوۡسَہُمۡ وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہُوَ ؕ قُلۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ قَرِیۡبًا ﴿۵۱﴾

یا کوئی اور چیز جو تمہارے نزدیک پتھر اور لوہے سے بھی زیادہ سخت ہو۔ جھٹ کہیں گے کہ بھلا ہمیں دوبارہ کون جلائے گا؟ کہدو کہ وہی جس نے تمکو پہلی بار پیدا کیا۔ تو تعجب سے تمہارے آگے سر ہلائیں گے اور پوچھیں گے کہ ایسا کب ہوگا۔ کہدو امید ہے کہ جلد ہو گا۔

یَوۡمَ یَدۡعُوۡکُمۡ فَتَسۡتَجِیۡبُوۡنَ بِحَمۡدِہٖ وَ تَظُنُّوۡنَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿٪۵۲﴾٪۵

جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اسکی تعریف کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرو گے کہ تم دنیا میں بہت کم مدت رہے۔

وَ قُلۡ لِّعِبَادِیۡ یَقُوۡلُوا الَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ یَنۡزَغُ بَیۡنَہُمۡ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ کَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِیۡنًا ﴿۵۳﴾

اور میرے بندوں سے کہدو کہ لوگوں سے ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں۔ کیونکہ شیطان بری باتوں سے ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

رَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِکُمۡ ؕ اِنۡ یَّشَاۡ یَرۡحَمۡکُمۡ اَوۡ اِنۡ یَّشَاۡ یُعَذِّبۡکُمۡ ؕ وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ وَکِیۡلًا ﴿۵۴﴾

تمہارا پروردگار تم سے خوب واقف ہے۔ اگر چاہے تو تم پر رحم کرے یا اگر چاہے تو تمہیں عذاب دے۔ اور ہم نے تمکو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا۔

وَ رَبُّکَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ لَقَدۡ فَضَّلۡنَا بَعۡضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰی بَعۡضٍ وَّ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ زَبُوۡرًا ﴿۵۵﴾

اور جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں تمہارا پروردگار ان سے خوب واقف ہے۔ اور ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر فضیلت بخشی اور داؤد کو زبور عنایت کی۔

قُلِ ادۡعُوا الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ فَلَا یَمۡلِکُوۡنَ کَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡکُمۡ وَ لَا تَحۡوِیۡلًا ﴿۵۶﴾

کہو کہ مشرکو جن لوگوں کی نسبت تمہیں معبود ہونے کا گمان ہے۔ ان کو بلا دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اسکے بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے۔

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ یَبۡتَغُوۡنَ اِلٰی رَبِّہِمُ الۡوَسِیۡلَۃَ اَیُّہُمۡ اَقۡرَبُ وَ یَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَہٗ وَ یَخَافُوۡنَ عَذَابَہٗ ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحۡذُوۡرًا ﴿۵۷﴾

یہ لوگ جنکو اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں ذریعہ تقرب تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون ان میں اللہ کا زیادہ مقرب ہوتا ہے اور اسکی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اسکے عذاب سے خوف رکھتے ہیں بیشک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے۔

وَ اِنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اِلَّا نَحۡنُ مُہۡلِکُوۡہَا قَبۡلَ یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ اَوۡ مُعَذِّبُوۡہَا عَذَابًا شَدِیۡدًا ؕ کَانَ ذٰلِکَ فِی الۡکِتٰبِ مَسۡطُوۡرًا ﴿۵۸﴾

اور کفر کرنے والوں کی کوئی بستی نہیں مگر قیامت کے دن سے پہلے ہم اسے ہلاک کر دیں گے یا اسے سخت عذاب دیں گے۔ یہ کتاب یعنی تقدیر میں لکھا جا چکا ہے۔

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنۡ نُّرۡسِلَ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنۡ کَذَّبَ بِہَا الۡاَوَّلُوۡنَ ؕ وَ اٰتَیۡنَا ثَمُوۡدَ النَّاقَۃَ مُبۡصِرَۃً فَظَلَمُوۡا بِہَا ؕ وَ مَا نُرۡسِلُ بِالۡاٰیٰتِ اِلَّا تَخۡوِیۡفًا ﴿۵۹﴾

اور ہم نے نشانیاں بھیجنی اس لئے موقوف کر دیں کہ پہلے لوگوں نے اسکی تکذیب کی تھی۔ اور ہم نے ثمود کو اونٹنی نبوت صالح کی کھلی نشانی دی تو انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ اور ہم جو نشانیاں بھیجا کرتے ہیں تو ڈرانے کو۔

وَ اِذۡ قُلۡنَا لَکَ اِنَّ رَبَّکَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ؕ وَ مَا جَعَلۡنَا الرُّءۡیَا الَّتِیۡۤ اَرَیۡنٰکَ اِلَّا فِتۡنَۃً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَۃَ الۡمَلۡعُوۡنَۃَ فِی الۡقُرۡاٰنِ ؕ وَ نُخَوِّفُہُمۡ ۙ فَمَا یَزِیۡدُہُمۡ اِلَّا طُغۡیَانًا کَبِیۡرًا ﴿٪۶۰﴾٪۶

اور جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اور جو منظر ہم نے تمہیں دکھایا اسکو لوگوں کے لئے آزمائش کیا اور اسی طرح تھوہر کے درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئ۔ اور ہم انہیں ڈراتے ہیں تو اس سے انکی سرکشی میں اضافہ ہوتا ہے۔

وَ اِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ قَالَ ءَاَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِیۡنًا ﴿ۚ۶۱﴾

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ بولا کہ بھلا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔

قَالَ اَرَءَیۡتَکَ ہٰذَا الَّذِیۡ کَرَّمۡتَ عَلَیَّ ۫ لَئِنۡ اَخَّرۡتَنِ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَاَحۡتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۶۲﴾

اور ازراہ طنز کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک کی مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اسکی تمام اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا۔

قَالَ اذۡہَبۡ فَمَنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ فَاِنَّ جَہَنَّمَ جَزَآؤُکُمۡ جَزَآءً مَّوۡفُوۡرًا ﴿۶۳﴾

اللہ نے فرمایا یہاں سے چلا جا۔ جو شخص ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی جزا جہنم ہے اور وہ پوری سزا ہے۔

وَ اسۡتَفۡزِزۡ مَنِ اسۡتَطَعۡتَ مِنۡہُمۡ بِصَوۡتِکَ وَ اَجۡلِبۡ عَلَیۡہِمۡ بِخَیۡلِکَ وَ رَجِلِکَ وَ شَارِکۡہُمۡ فِی الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَوۡلَادِ وَ عِدۡہُمۡ ؕ وَ مَا یَعِدُہُمُ الشَّیۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۶۴﴾

اور ان میں سے جسکو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ۔ اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کو چڑھا کر لاتا رہ اور انکے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدہ کرتا رہ۔ اور شیطان جو وعدے ان سے کرتا ہے سب دھوکا ہے۔

اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ ؕ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیۡلًا ﴿۶۵﴾

جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں۔ اور اے پیغمبر تمہارا پروردگار کارساز کافی ہے۔

رَبُّکُمُ الَّذِیۡ یُزۡجِیۡ لَکُمُ الۡفُلۡکَ فِی الۡبَحۡرِ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا ﴿۶۶﴾

تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے سمندر میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اسکے فضل سے روزی تلاش کرو۔ بیشک وہ تم پر مہربان ہے۔

وَ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الۡبَحۡرِ ضَلَّ مَنۡ تَدۡعُوۡنَ اِلَّاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىکُمۡ اِلَی الۡبَرِّ اَعۡرَضۡتُمۡ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ کَفُوۡرًا ﴿۶۷﴾

اور جب تم کو سمندر میں تکلیف پہنچتی ہے یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے تو جنکو تم پکارا کرتے ہو سب اس پروردگار کے سوا گم ہو جاتے ہیں پھر جب وہ تمکو ڈوبنے سے بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی ناشکرا۔

اَفَاَمِنۡتُمۡ اَنۡ یَّخۡسِفَ بِکُمۡ جَانِبَ الۡبَرِّ اَوۡ یُرۡسِلَ عَلَیۡکُمۡ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَکُمۡ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۶۸﴾

کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ اللہ تمہیں خشکی کی طرف لے جا کر زمین میں دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلا دے۔ پھر تم اپنا کوئی نگہبان نہ پاؤ۔

اَمۡ اَمِنۡتُمۡ اَنۡ یُّعِیۡدَکُمۡ فِیۡہِ تَارَۃً اُخۡرٰی فَیُرۡسِلَ عَلَیۡکُمۡ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیۡحِ فَیُغۡرِقَکُمۡ بِمَا کَفَرۡتُمۡ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَکُمۡ عَلَیۡنَا بِہٖ تَبِیۡعًا ﴿۶۹﴾

یا اس بات سے بےخوف ہو کہ تمکو دوسری دفعہ سمندر میں لے جائے پھر تم پر تیز ہوا چلائے اور تمہارے کفر کے سبب تمہیں ڈبو دے۔ پھر تم اس معاملے میں اپنے لئے کوئی بازپرس کرنے والا نہ پاؤ۔

وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَ حَمَلۡنٰہُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا ﴿٪۷۰﴾٪۷

اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور انکو خشکی اور تری میں سواری دی اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی۔

یَوۡمَ نَدۡعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِہِمۡ ۚ فَمَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیۡنِہٖ فَاُولٰٓئِکَ یَقۡرَءُوۡنَ کِتٰبَہُمۡ وَ لَا یُظۡلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا ﴿۷۱﴾

جس دن ہم سب لوگوں کو انکے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے۔ تو جنکے اعمال کی کتاب انکے داہنے ہاتھ میں دی جائے گی وہ اپنی کتاب کو خوش ہو ہو کر پڑھیں گے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہ ہوگا۔

وَ مَنۡ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعۡمٰی وَ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿۷۲﴾

اور جو شخص اس دنیا میں اندھا ہو وہ آخرت میں بھی اندھا ہو گا اور نجات کے رستے سے بہت دور۔

وَ اِنۡ کَادُوۡا لَیَفۡتِنُوۡنَکَ عَنِ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ لِتَفۡتَرِیَ عَلَیۡنَا غَیۡرَہٗ ٭ۖ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوۡکَ خَلِیۡلًا ﴿۷۳﴾

اور اے پیغمبر جو وحی ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے قریب تھا کہ یہ کافر لوگ تم کو اس سے بہکا دیں تاکہ تم اس کے سوا اور باتیں ہماری نسبت بنا لو۔ اور اس وقت وہ تمکو دوست بنا لیتے۔

وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰکَ لَقَدۡ کِدۡتَّ تَرۡکَنُ اِلَیۡہِمۡ شَیۡئًا قَلِیۡلًا ﴿٭ۙ۷۴﴾

اور اگر ہم تم کو ثابت قدم نہ رہنے دیتے تو تم کسی قدر انکی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے۔

اِذًا لَّاَذَقۡنٰکَ ضِعۡفَ الۡحَیٰوۃِ وَ ضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ عَلَیۡنَا نَصِیۡرًا ﴿۷۵﴾

اس وقت ہم تمکو زندگی میں بھی عذاب کا دگنا اور مرنے پر بھی دگنا مزہ چکھاتے۔ پھر تم ہمارے مقابلے میں کسی کو اپنا مددگار نہ پاتے۔

وَ اِنۡ کَادُوۡا لَیَسۡتَفِزُّوۡنَکَ مِنَ الۡاَرۡضِ لِیُخۡرِجُوۡکَ مِنۡہَا وَ اِذًا لَّا یَلۡبَثُوۡنَ خِلٰفَکَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۷۶﴾

اور قریب تھا کہ یہ لوگ تمہیں زمین مکہ سے پھسلا دیں تاکہ تمہیں وہاں سے نکال دیں۔ اور اس وقت تمہارے بعد یہ بھی نہ رہتے مگر کم۔

سُنَّۃَ مَنۡ قَدۡ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ مِنۡ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحۡوِیۡلًا ﴿٪۷۷﴾٪۸

جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے تھے ان کا اور انکے بارے میں ہمارا یہی طریق رہا ہے اور تم ہمارے طریق میں تغیروتبدل نہ پاؤ گے۔

اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ وَ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ ؕ اِنَّ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ کَانَ مَشۡہُوۡدًا ﴿۷۸﴾

اے محمد ﷺ سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک ظہر۔ عصر۔ مغرب۔ عشاء کی نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کرو۔ کیونکہ صبح کے وقت قرآن کا پڑھنا فرشتوں کی حاضری کا باعث ہوتا ہے۔

وَ مِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدۡ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ٭ۖ عَسٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحۡمُوۡدًا ﴿۷۹﴾

اور بعض حصہ شب میں بیدار ہوا کرو اور تہجد کی نماز پڑھا کرو یہ شب خیزی تمہارے لئے ایک اضافی عمل ہے امید ہے کہ اللہ تمکو مقام محمود پر فائز فرمائے۔

وَ قُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّ اَخۡرِجۡنِیۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ وَّ اجۡعَلۡ لِّیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ سُلۡطٰنًا نَّصِیۡرًا ﴿۸۰﴾

اور کہو کہ اے پروردگار مجھے مدینے میں اچھی طرح داخل کیجیو اور مکے سے اچھی طرح نکالیو۔ اور اپنے ہاں سے زور و قوت کو میرا مددگار بنائیو۔

وَ قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَ زَہَقَ الۡبَاطِلُ ؕ اِنَّ الۡبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا ﴿۸۱﴾

اور کہدو کہ حق آ گیا اور باطل نابود ہو گیا بیشک باطل نابود ہونے والا ہے۔

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الۡقُرۡاٰنِ مَا ہُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۙ وَ لَا یَزِیۡدُ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا خَسَارًا ﴿۸۲﴾

اور ہم قرآن میں وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے۔

وَ اِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَی الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِہٖ ۚ وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ کَانَ یَــُٔوۡسًا ﴿۸۳﴾

اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو روگرداں ہو جاتا ہے اور پہلو پھیر لیتا ہے۔ اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو ناامید ہو جاتا ہے۔

قُلۡ کُلٌّ یَّعۡمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ ؕ فَرَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ہُوَ اَہۡدٰی سَبِیۡلًا ﴿٪۸۴﴾٪۹

کہدو کہ ہر شخص اپنے طریق کے مطابق عمل کرتا ہے۔ سو تمہارا پروردگار اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے رستے پر ہے۔

وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوۡحِ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّیۡ وَ مَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۸۵﴾

اور تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہدو کہ وہ میرے پروردگار کا ایک حکم ہے اور تم لوگوں کو بہت ہی کم علم دیا گیا ہے۔

وَ لَئِنۡ شِئۡنَا لَنَذۡہَبَنَّ بِالَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ بِہٖ عَلَیۡنَا وَکِیۡلًا ﴿ۙ۸۶﴾

اور اگر ہم چاہیں تو جو کتاب ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اسے دلوں سے محو کر دیں۔ پھر تم اسکے لئے ہمارے مقابلے میں کسی کو مددگار نہ پاؤ۔

اِلَّا رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ اِنَّ فَضۡلَہٗ کَانَ عَلَیۡکَ کَبِیۡرًا ﴿۸۷﴾

مگر اس کا قائم رہنا تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ کچھ شک نہیں کہ تم پر اس کا بڑا فضل ہے۔

قُلۡ لَّئِنِ اجۡتَمَعَتِ الۡاِنۡسُ وَ الۡجِنُّ عَلٰۤی اَنۡ یَّاۡتُوۡا بِمِثۡلِ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لَا یَاۡتُوۡنَ بِمِثۡلِہٖ وَ لَوۡ کَانَ بَعۡضُہُمۡ لِبَعۡضٍ ظَہِیۡرًا ﴿۸۸﴾

کہدو کہ اگر انسان اور جن اس بات پر مجتمع ہوں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہ لا سکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں۔

وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ۫ فَاَبٰۤی اَکۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوۡرًا ﴿۸۹﴾

اور ہم نے قرآن میں سب باتیں طرح طرح سے بیان کر دی ہیں مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا۔

وَ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ یَنۡۢبُوۡعًا ﴿ۙ۹۰﴾

اور کہنے لگے کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ عجیب و غریب باتیں نہ دکھاؤ یعنی یا تو ہمارے لئے زمین سے چشمہ جاری کر دو۔

اَوۡ تَکُوۡنَ لَکَ جَنَّۃٌ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡہٰرَ خِلٰلَہَا تَفۡجِیۡرًا ﴿ۙ۹۱﴾

یا تمہارا کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو اور اسکے بیچ میں نہریں بہا نکالو۔

اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمۡتَ عَلَیۡنَا کِسَفًا اَوۡ تَاۡتِیَ بِاللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیۡلًا ﴿ۙ۹۲﴾

یا جیسا تم کہا کرتے ہو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا دو یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آؤ۔

اَوۡ یَکُوۡنَ لَکَ بَیۡتٌ مِّنۡ زُخۡرُفٍ اَوۡ تَرۡقٰی فِی السَّمَآءِ ؕ وَ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیۡنَا کِتٰبًا نَّقۡرَؤُہٗ ؕ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا ﴿٪۹۳﴾٪۱۰

یا تمہارا سونے کا گھر ہو۔ یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھنے کو بھی نہیں مانیں گے جب تک کہ کوئی کتاب نہ لاؤ جسے ہم پڑھ بھی لیں کہدو کہ میرا پروودگار پاک ہے میں تو صرف ایک پیغام پہنچانے والا انسان ہوں۔

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَہُمُ الۡہُدٰۤی اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُوۡلًا ﴿۹۴﴾

اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آ گئ تو انکو ایمان لانے سے اس کے سوا کوئی چیز مانع نہ ہوئی کہ کہنے لگے کہ کیا اللہ نے آدمی کو پیغمبر کر کے بھیجا ہے۔

قُلۡ لَّوۡ کَانَ فِی الۡاَرۡضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَئِنِّیۡنَ لَنَزَّلۡنَا عَلَیۡہِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَکًا رَّسُوۡلًا ﴿۹۵﴾

کہدو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے کہ اس میں چلتے پھرتے اور رہتے بستے تو ہم ان کے پاس کسی فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے۔

قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا ﴿۹۶﴾

کہدو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے۔ وہی اپنے بندوں سے خبردار ہے انکو دیکھنے والا ہے۔

وَ مَنۡ یَّہۡدِ اللّٰہُ فَہُوَ الۡمُہۡتَدِ ۚ وَ مَنۡ یُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَہُمۡ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ؕ وَ نَحۡشُرُہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوۡہِہِمۡ عُمۡیًا وَّ بُکۡمًا وَّ صُمًّا ؕ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ کُلَّمَا خَبَتۡ زِدۡنٰہُمۡ سَعِیۡرًا ﴿۹۷﴾

اور جس شخص کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یاب ہے۔ اور جنکو گمراہ رہنے دے تو تم اللہ کے سوا انکے رفیق نہیں پاؤ گے۔ اور ہم انکو قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے اور بہرے بنا کر اٹھائیں گے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ جب اسکی آگ بجھنے کو ہو گی تو ہم انکو عذاب دینے کے لئے اسے اور بھڑکا دیں گے۔

ذٰلِکَ جَزَآؤُہُمۡ بِاَنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوۡۤاءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًاءَ اِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ خَلۡقًا جَدِیۡدًا ﴿۹۸﴾

یہ انکی سزا ہے اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں سے کفر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم مر کر بوسیدہ ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا کئے جائیں گے؟

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ قَادِرٌ عَلٰۤی اَنۡ یَّخۡلُقَ مِثۡلَہُمۡ وَ جَعَلَ لَہُمۡ اَجَلًا لَّا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ فَاَبَی الظّٰلِمُوۡنَ اِلَّا کُفُوۡرًا ﴿۹۹﴾

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے لوگ پیدا کر دے۔ اور اس نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کر دیا ہے جسمیں کچھ بھی شک نہیں۔ تو ظالموں نے انکار کے سوا اسے قبول نہ کیا۔

قُلۡ لَّوۡ اَنۡتُمۡ تَمۡلِکُوۡنَ خَزَآئِنَ رَحۡمَۃِ رَبِّیۡۤ اِذًا لَّاَمۡسَکۡتُمۡ خَشۡیَۃَ الۡاِنۡفَاقِ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ قَتُوۡرًا ﴿۱۰۰﴾٪٪۱۱

کہدو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ ہو جانے کے خوف سے انکو بند کر رکھتے۔ اور انسان دل کا بہت تنگ ہے۔

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی تِسۡعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسۡـَٔلۡ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِذۡ جَآءَہُمۡ فَقَالَ لَہٗ فِرۡعَوۡنُ اِنِّیۡ لَاَظُنُّکَ یٰمُوۡسٰی مَسۡحُوۡرًا ﴿۱۰۱﴾

اور ہم نے موسٰی کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کر لو کہ جب وہ انکے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسٰی! میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے۔

قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ ہٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ بَصَآئِرَ ۚ وَ اِنِّیۡ لَاَظُنُّکَ یٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًا ﴿۱۰۲﴾

انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا اسکو کسی نے نازل نہیں کیا۔ اور وہ بھی تم لوگوں کے سمجھانے کو اور اے فرعون! میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہو جاؤ گے۔

فَاَرَادَ اَنۡ یَّسۡتَفِزَّہُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ فَاَغۡرَقۡنٰہُ وَ مَنۡ مَّعَہٗ جَمِیۡعًا ﴿۱۰۳﴾ۙ

تو اس نے چاہا کہ انکو سرزمین مصر سے نکال دے تو ہم نے اسکو اور جو اسکے ساتھ تھے۔ سب کو ڈبو دیا۔

وَّ قُلۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ لِبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اسۡکُنُوا الۡاَرۡضَ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ جِئۡنَا بِکُمۡ لَفِیۡفًا ﴿۱۰۴﴾ؕ

اور اسکے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس ملک میں رہو سہو۔ پھر جب آخرت کا وعدہ آ جائے گا تو ہم تم سب کو جمع کر کے لے آئیں گے۔

وَ بِالۡحَقِّ اَنۡزَلۡنٰہُ وَ بِالۡحَقِّ نَزَلَ ؕ وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿۱۰۵﴾ۘ

اور ہم نے اس قرآن کو سچائی کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ سچائی کے ساتھ نازل ہوا اور اے محمد ﷺ ہم نے تمکو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

وَ قُرۡاٰنًا فَرَقۡنٰہُ لِتَقۡرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکۡثٍ وَّ نَزَّلۡنٰہُ تَنۡزِیۡلًا ﴿۱۰۶﴾

اور ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ اور ہم نے اسکو آہستہ آہستہ اتارا ہے۔

قُلۡ اٰمِنُوۡا بِہٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِہٖۤ اِذَا یُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ یَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا ﴿۱۰۷﴾ۙ

کہدو کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ یہ فی نفسہ حق ہے جن لوگوں کو اس سے پہلے علم کتاب دیا گیا ہے۔ جب وہ انکو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ تھوڑیوں کے بل سجدے میں پڑتے ہیں۔

وَّ یَقُوۡلُوۡنَ سُبۡحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنۡ کَانَ وَعۡدُ رَبِّنَا لَمَفۡعُوۡلًا ﴿۱۰۸﴾

اور کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار پاک ہے۔ بیشک ہمارے پروردگار کا وعدہ پورا ہو کر رہا۔

وَ یَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ یَبۡکُوۡنَ وَ یَزِیۡدُہُمۡ خُشُوۡعًا ﴿۱۰۹﴾ٛ

اور وہ تھوڑیوں کے بل گر پڑتے ہیں اور روتے جاتے ہیں اور اس سے انکو اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے۔

قُلِ ادۡعُوا اللّٰہَ اَوِ ادۡعُوا الرَّحۡمٰنَ ؕ اَیًّامَّا تَدۡعُوۡا فَلَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی ۚ وَ لَا تَجۡہَرۡ بِصَلَاتِکَ وَ لَا تُخَافِتۡ بِہَا وَ ابۡتَغِ بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿۱۱۰﴾

کہدو کہ تم معبود برحق کو اللہ کے نام سے پکارو یا رحمٰن کے نام سے جس نام سے پکارو اسکے سب نام اچھے ہیں۔ اور نماز نہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ آہستہ بلکہ اسکے بیچ کا طریقہ اختیار کرو۔

وَ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ لَمۡ یَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ کَبِّرۡہُ تَکۡبِیۡرًا ﴿۱۱۱﴾٪٪۱۲

اور کہو کہ سب تعریف اللہ ہی کو ہے جس نے نہ تو کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اسکی بادشاہی میں کوئی شریک ہے۔ اور نہ اس وجہ سے کہ وہ عاجز و ناتواں ہے کوئی اس کا مددگار ہے اور اسکو بڑا جان کر اسکی بڑائی کرتے رہو۔

سورۃ نحل سورۃ الکھف