سورۃ الزخرف ۔ مکمل مع اردو ترجمہ

سورۃ الزخرف ۔ مکمل مع اردو ترجمہ

سورۃ الزخرف مع اردو ترجمہ۔ سورہ زخرف مکی سورہ ہے جو کہ ۸۹ آیات اور ۷ رکوع پر مشتمل ہے۔ ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری

Play Audio

Download MP3

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

حٰمٓ ۚ﴿ۛ۱﴾

حٰمٓ۔

وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ﴿ۛ۲﴾

کتاب روشن کی قسم۔

اِنَّا جَعَلۡنٰہُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ۚ﴿۳﴾

کہ ہم نے اسکو قرآن عربی بنایا ہے تاکہ تم لوگ سمجھو۔

وَ اِنَّہٗ فِیۡۤ اُمِّ الۡکِتٰبِ لَدَیۡنَا لَعَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ؕ﴿۴﴾

اور یہ بڑی کتاب یعنی لوح محفوظ میں ہمارے پاس لکھی ہوئی اور بلند مرتبہ ہے حکمت والی ہے۔

اَفَنَضۡرِبُ عَنۡکُمُ الذِّکۡرَ صَفۡحًا اَنۡ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا مُّسۡرِفِیۡنَ ﴿۵﴾

تو کیا ہم پھیر دیں گے تمہاری طرف سے یہ کتاب نصیحت موڑ کر اس بنا پر کہ تم ایسے لوگ ہو جو حد پر نہیں رہتے۔

وَ کَمۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ نَّبِیٍّ فِی الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۶﴾

اور ہم نے پہلے لوگوں میں بھی بہت سے پیغمبر بھیجے تھے۔

وَ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ نَّبِیٍّ اِلَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۷﴾

اور جو پیغمبر بھی انکے پاس نہیں آتا تھا تو وہ اس سے ضرور تمسخر کرتے تھے۔

فَاَہۡلَکۡنَاۤ اَشَدَّ مِنۡہُمۡ بَطۡشًا وَّ مَضٰی مَثَلُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۸﴾

تو جو ان میں سخت زور والے تھے انکو ہم نے ہلاک کر دیا اور پہلے لوگوں کی حالت گذر چکی۔

وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ خَلَقَہُنَّ الۡعَزِیۡزُ الۡعَلِیۡمُ ﴿ۙ۹﴾

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہدیں گے کہ انکو غالب اور علم والے اللہ نے پیدا کیا ہے۔

الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ مَہۡدًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ فِیۡہَا سُبُلًا لَّعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۚ۱۰﴾

جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔ اور اس میں تمہارے لئے رستے بنائے تاکہ تم راہ راست پر چلو۔

وَ الَّذِیۡ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ ۚ فَاَنۡشَرۡنَا بِہٖ بَلۡدَۃً مَّیۡتًا ۚ کَذٰلِکَ تُخۡرَجُوۡنَ ﴿۱۱﴾

اور جس نے ایک اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا۔ پھر اس سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کیا۔ اسی طرح تم زمین سے نکالے جاؤ گے۔

وَ الَّذِیۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ کُلَّہَا وَ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنَ الۡفُلۡکِ وَ الۡاَنۡعَامِ مَا تَرۡکَبُوۡنَ ﴿ۙ۱۲﴾

اور وہی ہے جس نے سب چیزوں کے جوڑے بنائے اور تمہارے لئے کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔

لِتَسۡتَوٗا عَلٰی ظُہُوۡرِہٖ ثُمَّ تَذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ رَبِّکُمۡ اِذَا اسۡتَوَیۡتُمۡ عَلَیۡہِ وَ تَقُوۡلُوۡا سُبۡحٰنَ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَ مَا کُنَّا لَہٗ مُقۡرِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۳﴾

تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو اور جب اس پر بیٹھ جاؤ پھر اپنے پروردگار کے احسان کو یاد کرو اور کہو کہ وہ ذات پاک ہے جس نے اسکو ہمارے زیرفرمان کر دیا اور ہم میں طاقت نہیں تھی کہ اسکو بس میں کر لیتے۔

وَ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾

اور ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

وَ جَعَلُوۡا لَہٗ مِنۡ عِبَادِہٖ جُزۡءًا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَکَفُوۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ؕ٪۱۵﴾٪۱

اور انہوں نے اسکے بندوں میں سے اسکے لئے اولاد مقرر کی۔ بیشک انسان سراسر ناشکرا ہے۔

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخۡلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصۡفٰکُمۡ بِالۡبَنِیۡنَ ﴿۱۶﴾

کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تمکو چن کر بیٹے دیدیئے۔

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمۡ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحۡمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجۡہُہٗ مُسۡوَدًّا وَّ ہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿۱۷﴾

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس ہستی کی یعنی لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے جو انہوں نے اللہ کے لئے بیان کی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ اندر ہی اندر گھٹنے لگتا ہے۔

اَوَ مَنۡ یُّنَشَّؤُا فِی الۡحِلۡیَۃِ وَ ہُوَ فِی الۡخِصَامِ غَیۡرُ مُبِیۡنٍ ﴿۱۸﴾

کیا وہ ہستی جو زیوروں میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات نہ کر سکے اللہ کی اولاد ہو سکتی ہے؟

وَ جَعَلُوا الۡمَلٰٓئِکَۃَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عِبٰدُ الرَّحۡمٰنِ اِنَاثًا ؕ اَشَہِدُوۡا خَلۡقَہُمۡ ؕ سَتُکۡتَبُ شَہَادَتُہُمۡ وَ یُسۡـَٔلُوۡنَ ﴿۱۹﴾

اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ رحمٰن کے بندے ہیں اسکی بیٹیاں ٹھہرایا۔ کیا یہ انکی پیدائش کے وقت حاضر تھے عنقریب انکی شہادت لکھ لی جائے گی اور ان سے باز پرس کی جائے گی۔

وَ قَالُوۡا لَوۡ شَآءَ الرَّحۡمٰنُ مَا عَبَدۡنٰہُمۡ ؕ مَا لَہُمۡ بِذٰلِکَ مِنۡ عِلۡمٍ ٭ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾

اور کہتے ہیں اگر رحمٰن چاہتا تو ہم انکو نہ پوجتے۔ انکو اس کا کچھ علم نہیں۔ یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔

اَمۡ اٰتَیۡنٰہُمۡ کِتٰبًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ فَہُمۡ بِہٖ مُسۡتَمۡسِکُوۡنَ ﴿۲۱﴾

یا ہم نے انکو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو کہ یہ اس سے استدلال کرتے ہوں۔

بَلۡ قَالُوۡۤا اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّۃٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤی اٰثٰرِہِمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾

بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم ان ہی کے قدم بقدم چل رہے ہیں۔

وَ کَذٰلِکَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ فِیۡ قَرۡیَۃٍ مِّنۡ نَّذِیۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡہَاۤ ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّۃٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤی اٰثٰرِہِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴿۲۳﴾

اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی خبردار کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشخال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا ہے اور ہم قدم بقدم ان ہی کے پیچھے چلتے ہیں۔

قٰلَ اَوَ لَوۡ جِئۡتُکُمۡ بِاَہۡدٰی مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَیۡہِ اٰبَآءَکُمۡ ؕ قَالُوۡۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِہٖ کٰفِرُوۡنَ ﴿۲۴﴾

پیغمبر نے کہا اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا دین لایا ہوں کہ جس رستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا وہ اس سے کہیں زیادہ سیدھا رستہ دکھاتا ہو تو کہنے لگے کہ جو دین تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اسکو نہیں ماننے کے۔

فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿٪۲۵﴾٪۲

تو ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔

وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ وَ قَوۡمِہٖۤ اِنَّنِیۡ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾

اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

اِلَّا الَّذِیۡ فَطَرَنِیۡ فَاِنَّہٗ سَیَہۡدِیۡنِ ﴿۲۷﴾

ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا وہی مجھ کو سیدھے رستے پر لے چلے گا۔

وَ جَعَلَہَا کَلِمَۃًۢ بَاقِیَۃً فِیۡ عَقِبِہٖ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۸﴾

اور یہی بات وہ اپنے بعد اپنی اولاد میں چھوڑ گئے تاکہ وہ اللہ کی طرف رجوع رہیں۔

بَلۡ مَتَّعۡتُ ہٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَہُمۡ حَتّٰی جَآءَہُمُ الۡحَقُّ وَ رَسُوۡلٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۹﴾

بات یہ ہے کہ میں ان کفار کو اور انکے باپ دادا کو مال و متاع دیتا رہا یہاں تک کہ انکے پاس حق اور صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آ پہنچا۔

وَ لَمَّا جَآءَہُمُ الۡحَقُّ قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ وَّ اِنَّا بِہٖ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۰﴾

اور جب ان کے پاس حق یعنی قرآن آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اسکو نہیں ماننے کے۔

وَ قَالُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡیَتَیۡنِ عَظِیۡمٍ ﴿۳۱﴾

اور یہ بھی کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں یعنی مکے اور طائف میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟

اَہُمۡ یَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّکَ ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَیۡنَہُمۡ مَّعِیۡشَتَہُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ رَفَعۡنَا بَعۡضَہُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعۡضُہُمۡ بَعۡضًا سُخۡرِیًّا ؕ وَ رَحۡمَتُ رَبِّکَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۳۲﴾

کیا یہ لوگ تمہارے پروردگار کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ ہم نے ان میں انکی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کر دیا اور ایک دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لے اور جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں تمہارے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے۔

وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً لَّجَعَلۡنَا لِمَنۡ یَّکۡفُرُ بِالرَّحۡمٰنِ لِبُیُوۡتِہِمۡ سُقُفًا مِّنۡ فِضَّۃٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیۡہَا یَظۡہَرُوۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾

اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہو جائیں گے تو جو لوگ اللہ سے انکار کرتے ہیں۔ ہم انکے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے۔

وَ لِبُیُوۡتِہِمۡ اَبۡوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیۡہَا یَتَّکِـُٔوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾

اور انکے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ہیں۔

وَ زُخۡرُفًا ؕ وَ اِنۡ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ الۡاٰخِرَۃُ عِنۡدَ رَبِّکَ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿٪۳۵﴾٪۳

اور یہ سب چیزیں سونے کی بھی بنا دیتے اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے اور آخرت تمہارے پروردگار کے ہاں پرہیزگاروں کے لئے ہے۔

وَ مَنۡ یَّعۡشُ عَنۡ ذِکۡرِ الرَّحۡمٰنِ نُقَیِّضۡ لَہٗ شَیۡطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیۡنٌ ﴿۳۶﴾

اور جو کوئی رحمٰن کی یاد سے آنکھیں بند کر لے یعنی تغافل کرے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہو جاتا ہے۔

وَ اِنَّہُمۡ لَیَصُدُّوۡنَہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۳۷﴾

اور یہ شیطان انکو رستے سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ سیدھے رستے پر ہیں۔

حَتّٰۤی اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیۡتَ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَیۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِیۡنُ ﴿۳۸﴾

یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے گا تو اس شیطان سے کہے گا کہ اے کاش مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا تو برا ساتھی ہے۔

وَ لَنۡ یَّنۡفَعَکُمُ الۡیَوۡمَ اِذۡ ظَّلَمۡتُمۡ اَنَّکُمۡ فِی الۡعَذَابِ مُشۡتَرِکُوۡنَ ﴿۳۹﴾

اور جب تم ظلم کرتے رہے تو آج تمہیں یہ بات فائدہ نہیں دے سکتی کہ تم سب عذاب میں بھی شریک ہو۔

اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ اَوۡ تَہۡدِی الۡعُمۡیَ وَ مَنۡ کَانَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۴۰﴾

تو کیا تم بہرے کو سنا سکتے ہو یا اندھے کو رستہ دکھا سکتے ہو اور جو کھلی گمراہی میں ہو اسے راہ راست پر لا سکتے ہو۔

فَاِمَّا نَذۡہَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنۡہُمۡ مُّنۡتَقِمُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾

پھر اے پیغمبر اگر ہم تمکو وفات دے کر اٹھالیں تو بھی ان لوگوں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے۔

اَوۡ نُرِیَنَّکَ الَّذِیۡ وَعَدۡنٰہُمۡ فَاِنَّا عَلَیۡہِمۡ مُّقۡتَدِرُوۡنَ ﴿۴۲﴾

یا تمہاری زندگی ہی میں تمہیں وہ عذاب دکھا دیں گے جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے کیونکہ ہم ان پر قابو رکھتے ہیں۔

فَاسۡتَمۡسِکۡ بِالَّذِیۡۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ ۚ اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۴۳﴾

پس تمہاری طرف جو وحی کی گئ ہے اس پر مضبوطی سے جمے رہو بیشک تم سیدھے رستے پر ہو۔

وَ اِنَّہٗ لَذِکۡرٌ لَّکَ وَ لِقَوۡمِکَ ۚ وَ سَوۡفَ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴿۴۴﴾

اور یہ قرآن تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور لوگو تم سے ضرور عنقریب پرسش ہو گی۔

وَ سۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِـہَۃً یُّعۡبَدُوۡنَ ﴿٪۴۵﴾٪۴

اور اے نبی جو اپنے پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ہیں انکے احوال دریافت کر لو۔ کہ کیا ہم نے رحمٰن کو سوا اور معبود ٹھہرائے تھے کہ انکی عبادت کی جائے؟

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ فَقَالَ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۶﴾

اور ہم نے موسٰی کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اسکے درباریوں کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا کہ میں پروردگار عالم کا بھیجا ہوا ہوں۔

فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا ہُمۡ مِّنۡہَا یَضۡحَکُوۡنَ ﴿۴۷﴾

پھر جب وہ انکے پاس ہماری نشانیاں لیکر آئے تو وہ ان نشانیوں پر ہنسنے لگے۔

وَ مَا نُرِیۡہِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ اِلَّا ہِیَ اَکۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِہَا ۫ وَ اَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡعَذَابِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۴۸﴾

اور جو نشانی ہم انکو دکھاتے وہ پہلی سے بڑی ہوتی تھی اور ہم نے انکو عذاب میں پکڑ لیا تاکہ باز آئیں۔

وَ قَالُوۡا یٰۤاَیُّہَ السّٰحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنۡدَکَ ۚ اِنَّنَا لَمُہۡتَدُوۡنَ ﴿۴۹﴾

اور کہنے لگے کہ اے جادوگر اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بیشک ہم ہدایت یاب ہوں گے۔

فَلَمَّا کَشَفۡنَا عَنۡہُمُ الۡعَذَابَ اِذَا ہُمۡ یَنۡکُثُوۡنَ ﴿۵۰﴾

سو جب ہم نے ان سے عذاب دور کر دیا تو وہ عہد شکنی کرنے لگے۔

وَ نَادٰی فِرۡعَوۡنُ فِیۡ قَوۡمِہٖ قَالَ یٰقَوۡمِ اَلَیۡسَ لِیۡ مُلۡکُ مِصۡرَ وَ ہٰذِہِ الۡاَنۡہٰرُ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِیۡ ۚ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ؕ۵۱﴾

اور فرعون نے اپنی قوم سے پکار کر کہا کہ اے قوم کیا مصر کی حکومت میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اور یہ نہریں جو میرے محلوں کے نیچے بہ رہی ہیں میری نہیں ہیں کیا تم دیکھتے نہیں؟

اَمۡ اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡ ہٰذَا الَّذِیۡ ہُوَ مَہِیۡنٌ ۬ۙ وَّ لَا یَکَادُ یُبِیۡنُ ﴿۵۲﴾

بیشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور صاف گفتگو بھی نہیں کر سکتا کہیں بہتر ہوں۔

فَلَوۡ لَاۤ اُلۡقِیَ عَلَیۡہِ اَسۡوِرَۃٌ مِّنۡ ذَہَبٍ اَوۡ جَآءَ مَعَہُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ مُقۡتَرِنِیۡنَ ﴿۵۳﴾

تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ اتارے گئے یا یہ ہوتا کہ فرشتے جمع ہو کر اسکے ساتھ آتے۔

فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَہٗ فَاَطَاعُوۡہُ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿۵۴﴾

غرض اس نے اپنی قوم کو بے عقل کر دیا۔ اور ان لوگوں نے اسکی بات مان لی بیشک وہ نافرمان لوگ تھے۔

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا انۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾

پھر جب انہوں نے ہم کو خفا کیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو ڈبو کر چھوڑا۔

فَجَعَلۡنٰہُمۡ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلۡاٰخِرِیۡنَ ﴿٪۵۶﴾٪۵

سو انکو گئے گذرے کر دیا اور بعد میں آنے والوں کیلئے عبرت بنا دیا۔

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوۡمُکَ مِنۡہُ یَصِدُّوۡنَ ﴿۵۷﴾

اور جب مریم کے بیٹے عیسٰی کا حال بیان کیا گیا تو تمہاری قوم کے لوگ اس سے چلا اٹھے۔

وَ قَالُوۡۤاءَ اٰلِہَتُنَا خَیۡرٌ اَمۡ ہُوَ ؕ مَا ضَرَبُوۡہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًا ؕ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ خَصِمُوۡنَ ﴿۵۸﴾

اور کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ یعنی عیسٰی؟ انہوں نے جو ان عیسٰی کی مثال تم سے بیان کی ہے تو صرف جھگڑنے کو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔

اِنۡ ہُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَیۡہِ وَ جَعَلۡنٰہُ مَثَلًا لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ؕ۵۹﴾

وہ تو ہمارے ایسے بندے تھے جن پر ہم نے فضل کیا اور بنی اسرائیل کے لئے انکو اپنی قدرت کا نمونہ بنا دیا۔

وَ لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡکُمۡ مَّلٰٓئِکَۃً فِی الۡاَرۡضِ یَخۡلُفُوۡنَ ﴿۶۰﴾

اور اگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتے بنا دیتے جو تمہاری جگہ زمین میں رہتے۔

وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۶۱﴾

اور وہ یعنی عیسٰی قیامت کی نشانی ہیں۔ تو کہدو کہ لوگو اس میں شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو۔ یہی سیدھا رستہ ہے۔

وَ لَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیۡطٰنُ ۚ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۶۲﴾

اور کہیں شیطان تمکو اس سے روک نہ دے۔ وہ تو تمہارا اعلانیہ دشمن ہے۔

وَ لَمَّا جَآءَ عِیۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ قَالَ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ لِاُبَیِّنَ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِیۡہِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ﴿۶۳﴾

اور جب عیسٰی نشانیاں لے کر آئے تو فرمایا کہ میں تمہارے پاس دانائی کی کتاب لے کر آیا ہوں۔ نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کرتے ہو تمکو سمجھا دوں۔ سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ رَبِّیۡ وَ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۶۴﴾

کچھ شک نہیں کہ اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے۔

فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَیۡنِہِمۡ ۚ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ یَوۡمٍ اَلِیۡمٍ ﴿۶۵﴾

پھر کتنے فرقے ان میں سے الگ الگ ہو گئے۔ سو جو لوگ ظالم ہیں انکے لئے درد دینے والے دن کے عذاب سے خرابی ہے۔

ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ بَغۡتَۃً وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۶۶﴾

یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت ان پر ناگہاں آ موجود ہو اور انکو خبر تک نہ ہو۔

اَلۡاَخِلَّآءُ یَوۡمَئِذٍۭ بَعۡضُہُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ؕ٪۶۷﴾٪۶

جو آپس میں دوست ہیں اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ مگر پرہیزگار کہ وہ باہم دوست ہی رہیں گے۔

یٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚ۶۸﴾

میرے بندو! آج تمہیں نہ کچھ خوف ہے اور نہ تم غمناک ہو گے۔

اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ کَانُوۡا مُسۡلِمِیۡنَ ﴿ۚ۶۹﴾

جو لوگ ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور فرمانبردار بن گئے۔

اُدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ اَنۡتُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ تُحۡبَرُوۡنَ ﴿۷۰﴾

ان سے کہا جائے گا کہ تم اور تمہاری بیویاں عزت و احترام کے ساتھ بہشت میں داخل ہو جاؤ۔

یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِصِحَافٍ مِّنۡ ذَہَبٍ وَّ اَکۡوَابٍ ۚ وَ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡہِ الۡاَنۡفُسُ وَ تَلَذُّ الۡاَعۡیُنُ ۚ وَ اَنۡتُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿ۚ۷۱﴾

ان پر سونے کی طشتریوں اور پیالیوں کا دور چلے گا اور وہاں جو جی چاہے اور جو آنکھوں کو اچھا لگے موجود ہو گا اور اے اہل جنت تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔

وَ تِلۡکَ الۡجَنَّۃُ الَّتِیۡۤ اُوۡرِثۡتُمُوۡہَا بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۲﴾

اور یہ جنت جسکے تم مالک بنا دیئے گئے ہو تمہارے اعمال کا صلہ ہے۔

لَکُمۡ فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ کَثِیۡرَۃٌ مِّنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۷۳﴾

یہاں تمہارے لئے بہت سے میوے ہیں جنکو تم کھاؤ گے۔

اِنَّ الۡمُجۡرِمِیۡنَ فِیۡ عَذَابِ جَہَنَّمَ خٰلِدُوۡنَ ﴿ۚۖ۷۴﴾

اور گنہگار یعنی کفار ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں رہیں گے۔

لَا یُفَتَّرُ عَنۡہُمۡ وَ ہُمۡ فِیۡہِ مُبۡلِسُوۡنَ ﴿ۚ۷۵﴾

جو ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں ناامید ہو کر پڑے رہیں گے۔

وَ مَا ظَلَمۡنٰہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡا ہُمُ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۷۶﴾

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔

وَ نَادَوۡا یٰمٰلِکُ لِیَقۡضِ عَلَیۡنَا رَبُّکَ ؕ قَالَ اِنَّکُمۡ مّٰکِثُوۡنَ ﴿۷۷﴾

اور وہ پکاریں گے کہ اے مالک اے دوزخ کے نگران تمہارا پروردگار ہمیں موت ہی دیدے۔ وہ کہے گا کہ تم ہمیشہ اسی حالت میں رہو گے۔

لَقَدۡ جِئۡنٰکُمۡ بِالۡحَقِّ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَکُمۡ لِلۡحَقِّ کٰرِہُوۡنَ ﴿۷۸﴾

ہم تمہارے پاس حق لے کر پہنچے لیکن تم میں سے اکثر حق سے ناخوش ہوتے رہے۔

اَمۡ اَبۡرَمُوۡۤا اَمۡرًا فَاِنَّا مُبۡرِمُوۡنَ ﴿ۚ۷۹﴾

کیا انہوں نے کوئی بات ٹھہرا رکھی ہے تو ہم بھی کچھ ٹھہرانے والے ہیں۔

اَمۡ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّا لَا نَسۡمَعُ سِرَّہُمۡ وَ نَجۡوٰىہُمۡ ؕ بَلٰی وَ رُسُلُنَا لَدَیۡہِمۡ یَکۡتُبُوۡنَ ﴿۸۰﴾

کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم انکی پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو سنتے نہیں؟ کیوں نہیں سب سنتے ہیں اور ہمارے فرشتے انکے پاس انکی سب باتیں لکھ لیتے ہیں۔

قُلۡ اِنۡ کَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ ٭ۖ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِیۡنَ ﴿۸۱﴾

کہدو کہ اگر رحمٰن کیلئے اولاد ہو تو میں سب سے پہلے اسکی عبادت کرنے والا ہوں۔

سُبۡحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۸۲﴾

یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں۔ آسمانوں اور زمین کا جو عرش کا بھی مالک ہے اس سے پاک ہے۔

فَذَرۡہُمۡ یَخُوۡضُوۡا وَ یَلۡعَبُوۡا حَتّٰی یُلٰقُوۡا یَوۡمَہُمُ الَّذِیۡ یُوۡعَدُوۡنَ ﴿۸۳﴾

تو انکو بک بک کرنے اور کھیلنے دو۔ یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اسکو دیکھ لیں۔

وَ ہُوَ الَّذِیۡ فِی السَّمَآءِ اِلٰہٌ وَّ فِی الۡاَرۡضِ اِلٰہٌ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۸۴﴾

اور وہی آسمانوں میں بھی معبود ہے اور وہی زمین میں بھی معبود ہے۔ اور وہ حکمت والا ہے علم والا ہے۔

وَ تَبٰرَکَ الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ۚ وَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ۚ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۸۵﴾

اور وہ بہت بابرکت ہے جسکے لئے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کی حکومت ہے۔ اور اسی کو قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے۔

وَ لَا یَمۡلِکُ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنۡ شَہِدَ بِالۡحَقِّ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۶﴾

اور جنکو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ تو سفارش کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ ہاں جو علم و یقین کے ساتھ حق کی گواہی دیں وہ سفارش کر سکتے ہیں۔

وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَہُمۡ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ فَاَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿ۙ۸۷﴾

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ انکو کس نے پیدا کیا ہے تو کہدیں گے کہ اللہ نے۔ تو پھر یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟

وَ قِیۡلِہٖ یٰرَبِّ اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۘ۸۸﴾

اور بسا اوقات پیغمبر کہا کرتے ہیں کہ اے پروردگار یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔

فَاصۡفَحۡ عَنۡہُمۡ وَ قُلۡ سَلٰمٌ ؕ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۸۹﴾٪۷

تو اے پیغمبر ان سے منہ پھیر لو اور سلام کہدو۔ انکو عنقریب انجام معلوم ہو جائے گا۔

سورۃ شوریٰ سورۃ الدخان