سورۃ الرحمٰن<span>مع اردو ترجمہ</span>

سورۃ الرحمٰن ۔ مع اردو ترجمہ

سورۃ الرحمٰن مع اردو ترجمہ۔ سورہ رحمٰن مدنی سورہ ہے جو کہ ۷۸ آیات اور ۳ رکوع پر مشتمل ہے۔ ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری

Play Audio

Download MP3

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾

وہ جو نہایت مہربان ہے۔

عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ﴿۲﴾

اسی نے قرآن کی تعلیم فرمائی۔

خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ ۙ﴿۳﴾

اسی نے انسان کو پیدا کیا۔

عَلَّمَہُ الۡبَیَانَ ﴿۴﴾

اسی نے اسکو بولنا سکھایا۔

اَلشَّمۡسُ وَ الۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ ﴿۪۵﴾

سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں۔

وَّ النَّجۡمُ وَ الشَّجَرُ یَسۡجُدٰنِ ﴿۶﴾

اور بوٹیاں اور درخت سجدہ کر رہے ہیں۔

وَ السَّمَآءَ رَفَعَہَا وَ وَضَعَ الۡمِیۡزَانَ ۙ﴿۷﴾

اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور میزان عدل قائم کر دی۔

اَلَّا تَطۡغَوۡا فِی الۡمِیۡزَانِ ﴿۸﴾

کہ اس میزان میں حد سے تجاوز نہ کرو۔

وَ اَقِیۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ وَ لَا تُخۡسِرُوا الۡمِیۡزَانَ ﴿۹﴾

اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو اور تول کم مت کرو۔

وَ الۡاَرۡضَ وَضَعَہَا لِلۡاَنَامِ ﴿ۙ۱۰﴾

اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی۔

فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ ۪ۙ وَّ النَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَکۡمَامِ ﴿ۖ۱۱﴾

اس میں میوے اور کھجور کے درخت ہیں جنکے خوشوں پر غلاف ہوتے ہیں۔

وَ الۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ وَ الرَّیۡحَانُ ﴿ۚ۱۲﴾

اور اناج جسکے ساتھ بھس ہوتا ہے اور خوشبودار پھول۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۳﴾

تو اے گروہ جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ کَالۡفَخَّارِ ﴿ۙ۱۴﴾

اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے بنایا۔

وَ خَلَقَ الۡجَآنَّ مِنۡ مَّارِجٍ مِّنۡ نَّارٍ ﴿ۚ۱۵﴾

اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۶﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

رَبُّ الۡمَشۡرِقَیۡنِ وَ رَبُّ الۡمَغۡرِبَیۡنِ ﴿ۚ۱۷﴾

وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک ہے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۸﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

مَرَجَ الۡبَحۡرَیۡنِ یَلۡتَقِیٰنِ ﴿ۙ۱۹﴾

اسی نے دو دریا رواں کئے جو آپس میں ملتے ہیں۔

بَیۡنَہُمَا بَرۡزَخٌ لَّا یَبۡغِیٰنِ ﴿ۚ۲۰﴾

مگر دونوں میں ایک آڑ ہے کہ اس سے تجاوز نہیں کر سکتے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۲۱﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

یَخۡرُجُ مِنۡہُمَا اللُّؤۡلُؤُ وَ الۡمَرۡجَانُ ﴿ۚ۲۲﴾

ان دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۲۳﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

وَ لَہُ الۡجَوَارِ الۡمُنۡشَئٰتُ فِی الۡبَحۡرِ کَالۡاَعۡلَامِ ﴿ۚ۲۴﴾

اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿٪۲۵﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

کُلُّ مَنۡ عَلَیۡہَا فَانٍ ﴿ۚۖ۲۶﴾

جو مخلوق زمین پر ہے سب کو فنا ہونا ہے۔

وَّ یَبۡقٰی وَجۡہُ رَبِّکَ ذُو الۡجَلٰلِ وَ الۡاِکۡرَامِ ﴿ۚ۲۷﴾

اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات جو صاحب جلال و کرم ہے باقی رہے گی۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۲۸﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

یَسۡـَٔلُہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ کُلَّ یَوۡمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ ﴿ۚ۲۹﴾

آسمان اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب اسی سے مانگتے ہیں۔ وہ ہر روز کسی نہ کسی کام میں ہوتا ہے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۰﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

سَنَفۡرُغُ لَکُمۡ اَیُّہَ الثَّقَلٰنِ ﴿ۚ۳۱﴾

اے دونوں جماعتو! ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۲﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ ﴿ۚ۳۳﴾

اے گروہ جن و انس اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ اور زور کے سوا تو تم نکل سکنے ہی کے نہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۴﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

یُرۡسَلُ عَلَیۡکُمَا شُوَاظٌ مِّنۡ نَّارٍ ۬ۙ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنۡتَصِرٰنِ ﴿ۚ۳۵﴾

تم پر آگ کے شعلے صاف اور دھواں ملے چھوڑ دیئے جائیں گے تو پھر تم انکا مقابلہ نہ کر سکو گے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۶﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فَاِذَا انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ فَکَانَتۡ وَرۡدَۃً کَالدِّہَانِ ﴿ۚ۳۷﴾

پھر جب آسمان پھٹ کر تیل کی تلچھٹ کی طرح گلابی ہو جائے گا تو وہ کیسا ہولناک دن ہوگا۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۸﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فَیَوۡمَئِذٍ لَّا یُسۡـَٔلُ عَنۡ ذَنۡۢبِہٖۤ اِنۡسٌ وَّ لَا جَآنٌّ ﴿ۚ۳۹﴾

تو اس روز نہ تو کسی انسان سے اسکے گناہوں کے بارے میں پرسش کی جائے گی اور نہ کسی جن سے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۴۰﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

یُعۡرَفُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ بِسِیۡمٰہُمۡ فَیُؤۡخَذُ بِالنَّوَاصِیۡ وَ الۡاَقۡدَامِ ﴿ۚ۴۱﴾

گنہگار اپنے چہرے ہی سے پہچان لئے جائیں گے تو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ لئے جائیں گے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۴۲﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیۡ یُکَذِّبُ بِہَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿ۘ۴۳﴾

یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے۔

یَطُوۡفُوۡنَ بَیۡنَہَا وَ بَیۡنَ حَمِیۡمٍ اٰنٍ ﴿ۚ۴۴﴾

وہ دوزخ اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان گھومتے پھریں گے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿٪۴۵﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

وَ لِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ﴿ۚ۴۶﴾

اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اسکے لئے دو باغ ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۙ۴۷﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ ﴿ۚ۴۸﴾

ان دونوں میں بہت سی شاخیں یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۴۹﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فِیۡہِمَا عَیۡنٰنِ تَجۡرِیٰنِ ﴿ۚ۵۰﴾

ان میں دو چشمے بہ رہے ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۵۱﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فِیۡہِمَا مِنۡ کُلِّ فَاکِہَۃٍ زَوۡجٰنِ ﴿ۚ۵۲﴾

ان میں سب میوے دو دو قسم کے ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۵۳﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

مُتَّکِـِٕیۡنَ عَلٰی فُرُشٍۭ بَطَآئِنُہَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ ؕ وَ جَنَا الۡجَنَّتَیۡنِ دَانٍ ﴿ۚ۵۴﴾

اہل جنت ایسے بچھونوں پر جنکے استر اطلس کے ہیں تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ اور دونوں باغوں کے میوے قریب جھک رہے ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۵۵﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فِیۡہِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ ۙ لَمۡ یَطۡمِثۡہُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَہُمۡ وَ لَا جَآنٌّ ﴿ۚ۵۶﴾

ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں جنکو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۵۷﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

کَاَنَّہُنَّ الۡیَاقُوۡتُ وَ الۡمَرۡجَانُ ﴿ۚ۵۸﴾

گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۵۹﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

ہَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ ﴿ۚ۶۰﴾

نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہے؟

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۶۱﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

وَ مِنۡ دُوۡنِہِمَا جَنَّتٰنِ ﴿ۚ۶۲﴾

اور ان باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۙ۶۳﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

مُدۡہَآ مَّتٰنِ ﴿ۚ۶۴﴾

دونوں خوب گہرے سبز۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۶۵﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فِیۡہِمَا عَیۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ ﴿ۚ۶۶﴾

ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۶۷﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فِیۡہِمَا فَاکِہَۃٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ ﴿ۚ۶۸﴾

ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۶۹﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فِیۡہِنَّ خَیۡرٰتٌ حِسَانٌ ﴿ۚ۷۰﴾

ان میں نیک سیرت خوبصورت عورتیں ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۷۱﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

حُوۡرٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِی الۡخِیَامِ ﴿ۚ۷۲﴾

وہ حوریں ہیں جو خیموں میں محفوظ ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۷۳﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

لَمۡ یَطۡمِثۡہُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَہُمۡ وَ لَا جَآنٌّ ﴿ۚ۷۴﴾

انکو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۷۵﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

مُتَّکِـِٕیۡنَ عَلٰی رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّ عَبۡقَرِیٍّ حِسَانٍ ﴿ۚ۷۶﴾

سبز قالینوں اور نفیس مسندوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۷۷﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

تَبٰرَکَ اسۡمُ رَبِّکَ ذِی الۡجَلٰلِ وَ الۡاِکۡرَامِ ﴿٪۷۸﴾

اے نبی ﷺ تمہارا پروردگار جو صاحب جلال و کرم ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے۔

سورۃ القمر سورۃ الواقعۃ