سورۃ المعارج ۔ مع اردو ترجمہ

سورۃ المعارج ۔ مع اردو ترجمہ

سورۃ المعارج مع اردو ترجمہ۔ سورہ معارج مکی سورہ ہے جو کہ ۴۴ آیات اور ۲ رکوع پر مشتمل ہے۔ ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری

Play Audio

Download MP3

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۙ﴿۱﴾

ایک طلب کرنے والے نے عذاب طلب کیا جو نازل ہو کر رہے گا۔

لِّلۡکٰفِرِیۡنَ لَیۡسَ لَہٗ دَافِعٌ ۙ﴿۲﴾

یعنی کافروں پر اور کوئی اسکو ٹال نہ سکے گا۔

مِّنَ اللّٰہِ ذِی الۡمَعَارِجِ ؕ﴿۳﴾

جو بلندیوں والے اللہ کی طرف سے نازل ہو گا۔

تَعۡرُجُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوۡحُ اِلَیۡہِ فِیۡ یَوۡمٍ کَانَ مِقۡدَارُہٗ خَمۡسِیۡنَ اَلۡفَ سَنَۃٍ ۚ﴿۴﴾

جسکی طرف روح القدس اور دوسرے فرشتے چڑھتے ہیں اس روز نازل ہو گا جس کا طول پچاس ہزار برس ہو گا۔

فَاصۡبِرۡ صَبۡرًا جَمِیۡلًا ﴿۵﴾

تو تم کافروں کی باتوں کو حوصلے کے ساتھ برداشت کرتے رہو۔

اِنَّہُمۡ یَرَوۡنَہٗ بَعِیۡدًا ۙ﴿۶﴾

لوگ اس دن کو دور سمجھتے ہیں۔

وَّ نَرٰىہُ قَرِیۡبًا ؕ﴿۷﴾

جبکہ ہماری نظر میں وہ قریب ہے۔

یَوۡمَ تَکُوۡنُ السَّمَآءُ کَالۡمُہۡلِ ۙ﴿۸﴾

جس دن آسمان ایسا ہو جائے گا جیسے پگھلا ہوا تانبا۔

وَ تَکُوۡنُ الۡجِبَالُ کَالۡعِہۡنِ ۙ﴿۹﴾

اور پہاڑ ایسے جیسے رنگین اون۔

وَ لَا یَسۡـَٔلُ حَمِیۡمٌ حَمِیۡمًا ﴿ۚۖ۱۰﴾

اور کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا۔

یُّبَصَّرُوۡنَہُمۡ ؕ یَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ یَفۡتَدِیۡ مِنۡ عَذَابِ یَوۡمِئِذٍۭ بِبَنِیۡہِ ﴿ۙ۱۱﴾

حالانکہ ایک دوسرے کو سامنے دیکھ رہے ہوں گے اس روز گنہگار چاہے گا کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دیدے یعنی اپنے بیٹے۔

وَ صَاحِبَتِہٖ وَ اَخِیۡہِ ﴿ۙ۱۲﴾

اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی۔

وَ فَصِیۡلَتِہِ الَّتِیۡ تُــٔۡوِیۡہِ ﴿ۙ۱۳﴾

اور اپنا خاندان جس میں وہ رہتا تھا۔

وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا ۙ ثُمَّ یُنۡجِیۡہِ ﴿ۙ۱۴﴾

اور جتنے آدمی زمین پر ہیں غرض سب کو دے ڈالے پھر اپنے آپکو عذاب سے چھڑا لے۔

کَلَّا ؕ اِنَّہَا لَظٰی ﴿ۙ۱۵﴾

لیکن ایسا ہرگز نہیں ہو گا وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔

نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی ﴿ۚۖ۱۶﴾

کھال ادھیڑ کر کلیجہ نکال لینے والی۔

تَدۡعُوۡا مَنۡ اَدۡبَرَ وَ تَوَلّٰی ﴿ۙ۱۷﴾

وہ ان لوگوں کو اپنی طرف بلائے گی جنہوں نے دین حق سے اعراض کیا اور منہ پھیر لیا۔

وَ جَمَعَ فَاَوۡعٰی ﴿۱۸﴾

اور مال جمع کیا پھر سینت سینت کر رکھا۔

اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ ہَلُوۡعًا ﴿ۙ۱۹﴾

کچھ شک نہیں کہ انسان کم حوصلہ پیدا ہوا ہے۔

اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا ﴿ۙ۲۰﴾

جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے۔

وَّ اِذَا مَسَّہُ الۡخَیۡرُ مَنُوۡعًا ﴿ۙ۲۱﴾

اور جب ملتا ہے اسکو مال تو بخیل بن جاتا ہے۔

اِلَّا الۡمُصَلِّیۡنَ ﴿ۙ۲۲﴾

مگر نماز ادا کرنے والے۔

الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَاتِہِمۡ دَآئِمُوۡنَ ﴿۪ۙ۲۳﴾

جو نماز کا التزام رکھتے اور ہمیشہ پڑھتے ہیں۔

وَ الَّذِیۡنَ فِیۡۤ اَمۡوَالِہِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ ﴿۪ۙ۲۴﴾

اور جنکے مال میں حصہ مقرر ہے۔

لِّلسَّآئِلِ وَ الۡمَحۡرُوۡمِ ﴿۪ۙ۲۵﴾

یعنی مانگنے والے کا۔ اور نہ مانگنے والے کا۔

وَ الَّذِیۡنَ یُصَدِّقُوۡنَ بِیَوۡمِ الدِّیۡنِ ﴿۪ۙ۲۶﴾

اور جو روز جزا کو سچ سمجھتے ہیں۔

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّہِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ ﴿ۚ۲۷﴾

اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں۔

اِنَّ عَذَابَ رَبِّہِمۡ غَیۡرُ مَاۡمُوۡنٍ ﴿۲۸﴾

بیشک ان کے پروردگار کا عذاب ہے ہی ایسا کہ اس سے بے خوف نہ ہوا جائے۔

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِفُرُوۡجِہِمۡ حٰفِظُوۡنَ ﴿ۙ۲۹﴾

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

اِلَّا عَلٰۤی اَزۡوَاجِہِمۡ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ فَاِنَّہُمۡ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ﴿ۚ۳۰﴾

مگر اپنی بیویوں یا باندیوں سے کہ ان کے پاس جانے میں انہیں کچھ ملامت نہیں۔

فَمَنِ ابۡتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡعٰدُوۡنَ ﴿ۚ۳۱﴾

اور جو لوگ ان کے سوا اور طریقے ڈھونڈیں تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِاَمٰنٰتِہِمۡ وَ عَہۡدِہِمۡ رٰعُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۲﴾

اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہدوپیمان کا پاس کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِشَہٰدٰتِہِمۡ قَآئِمُوۡنَ ﴿۪ۙ۳۳﴾

اور جو اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیں۔

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَلٰی صَلَاتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ ﴿ؕ۳۴﴾

اور جو اپنی نماز کی پابندی کرتے ہیں۔

اُولٰٓئِکَ فِیۡ جَنّٰتٍ مُّکۡرَمُوۡنَ ﴿ؕ٪۳۵﴾٪۱

یہی لوگ جنتوں میں عزت و اکرام سے ہوں گے۔

فَمَالِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا قِبَلَکَ مُہۡطِعِیۡنَ ﴿ۙ۳۶﴾

تو اے نبی ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ تمہاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔

عَنِ الۡیَمِیۡنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیۡنَ ﴿۳۷﴾

دائیں بائیں سے گروہ گروہ ہو کر جمع ہوتے جاتے ہیں۔

اَیَطۡمَعُ کُلُّ امۡرِیًٔ مِّنۡہُمۡ اَنۡ یُّدۡخَلَ جَنَّۃَ نَعِیۡمٍ ﴿ۙ۳۸﴾

کیا ان میں سے ہر شخص یہ امید رکھتا ہے کہ نعمت کے باغ میں داخل کیا جائے گا؟

کَلَّا ؕ اِنَّا خَلَقۡنٰہُمۡ مِّمَّا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۹﴾

ہرگز نہیں ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے یہ جانتے ہیں۔

فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِرَبِّ الۡمَشٰرِقِ وَ الۡمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوۡنَ ﴿ۙ۴۰﴾

پس مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کہ ہم طاقت رکھتے ہیں۔

عَلٰۤی اَنۡ نُّبَدِّلَ خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ ۙ وَ مَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِیۡنَ ﴿۴۱﴾

یعنی اس بات پر کہ ان سے بہتر لوگ بدل لائیں۔ اور ہم عاجز نہیں ہیں۔

فَذَرۡہُمۡ یَخُوۡضُوۡا وَ یَلۡعَبُوۡا حَتّٰی یُلٰقُوۡا یَوۡمَہُمُ الَّذِیۡ یُوۡعَدُوۡنَ ﴿ۙ۴۲﴾

تو اے پیغمبر انکو باطل میں پڑے رہنے اور کھیل لینے دو یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ انکے سامنے آ موجود ہو۔

یَوۡمَ یَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمۡ اِلٰی نُصُبٍ یُّوۡفِضُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾

اس دن یہ قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑیں گے جیسے کسی مقابلے کے نشان کی طرف دوڑے جا رہے ہوں۔

خَاشِعَۃً اَبۡصَارُہُمۡ تَرۡہَقُہُمۡ ذِلَّۃٌ ؕ ذٰلِکَ الۡیَوۡمُ الَّذِیۡ کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ ﴿٪۴۴﴾٪۲

ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی اور ذلت ان پر چھا رہی ہو گی۔ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

سورۃ الحاقۃ سورۃ نوح