سورۃ الجن ۔ مع اردو ترجمہ

سورۃ الجن ۔ مع اردو ترجمہ

سورۃ الجن مع اردو ترجمہ۔ سورہ جن مکی سورہ ہے جو کہ ۲۸ آیات اور ۲ رکوع پر مشتمل ہے۔ ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری

Play Audio

Download MP3

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

قُلۡ اُوۡحِیَ اِلَیَّ اَنَّہُ اسۡتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الۡجِنِّ فَقَالُوۡۤا اِنَّا سَمِعۡنَا قُرۡاٰنًا عَجَبًا ۙ﴿۱﴾

اے پیغمبر ﷺ لوگوں سے کہدو کہ میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے اس کتاب کو سنا تو کہنے لگے کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا۔

یَّہۡدِیۡۤ اِلَی الرُّشۡدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ ؕ وَ لَنۡ نُّشۡرِکَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا ۙ﴿۲﴾

جو بھلائی کا رستہ بتاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔

وَّ اَنَّہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّ لَا وَلَدًا ۙ﴿۳﴾

اور یہ کہ ہمارے پروردگار کی شان بہت بلند ہے وہ نہ بیوی رکھتا ہے نہ اولاد۔

وَّ اَنَّہٗ کَانَ یَقُوۡلُ سَفِیۡہُنَا عَلَی اللّٰہِ شَطَطًا ۙ﴿۴﴾

اور یہ کہ ہم میں سے کوئی کوئی بیوقوف اللہ کے بارے میں جھوٹ گھڑتا ہے۔

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنۡ لَّنۡ تَقُوۡلَ الۡاِنۡسُ وَ الۡجِنُّ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ۙ﴿۵﴾

اور ہمارا یہ خیال تھا کہ انسان اور جن اللہ کی نسبت جھوٹ نہیں بولیں گے۔

وَّ اَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الۡاِنۡسِ یَعُوۡذُوۡنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الۡجِنِّ فَزَادُوۡہُمۡ رَہَقًا ۙ﴿۶﴾

اور یہ کہ بعض بنی آدم بعض جنات کی پناہ لیا کرتے تھے تو اس سے انکی سرکشی اور بڑھ گئ تھی۔

وَّ اَنَّہُمۡ ظَنُّوۡا کَمَا ظَنَنۡتُمۡ اَنۡ لَّنۡ یَّبۡعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا ۙ﴿۷﴾

اور یہ کہ ان کا بھی یہی اعتقاد تھا جس طرح تمہارا تھا کہ اللہ کسی کو نہیں زندہ کرے گا۔

وَّ اَنَّا لَمَسۡنَا السَّمَآءَ فَوَجَدۡنٰہَا مُلِئَتۡ حَرَسًا شَدِیۡدًا وَّ شُہُبًا ۙ﴿۸﴾

اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسکو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا ہوا پایا۔

وَّ اَنَّا کُنَّا نَقۡعُدُ مِنۡہَا مَقَاعِدَ لِلسَّمۡعِ ؕ فَمَنۡ یَّسۡتَمِعِ الۡاٰنَ یَجِدۡ لَہٗ شِہَابًا رَّصَدًا ۙ﴿۹﴾

اور یہ کہ پہلے ہم وہاں بہت سے مقامات پر فرشتوں کی باتیں سننے کے لئے بیٹھا کرتے تھے۔ اب کوئی سننا چاہے تو اپنے لئے انگارہ تیار پاتا ہے۔

وَّ اَنَّا لَا نَدۡرِیۡۤ اَشَرٌّ اُرِیۡدَ بِمَنۡ فِی الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِہِمۡ رَبُّہُمۡ رَشَدًا ﴿ۙ۱۰﴾

اور یہ کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس سے اہل زمین کے ساتھ برائی مقصود ہے یا انکے پروردگار نے انکی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوۡنَ وَ مِنَّا دُوۡنَ ذٰلِکَ ؕ کُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا ﴿ۙ۱۱﴾

اور یہ کہ ہم میں بعض نیک ہیں اور بعض دوسری طرح کے ہمارے کئ طرح کے مذہب ہیں۔

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنۡ لَّنۡ نُّعۡجِزَ اللّٰہَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَنۡ نُّعۡجِزَہٗ ہَرَبًا ﴿ۙ۱۲﴾

اور یہ کہ ہم نے سمجھ لیا ہے کہ ہم زمین میں خواہ کہیں ہوں اللہ کو ہرا نہیں سکتے اور نہ بھاگ کر اسکو تھکا سکتے ہیں۔

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعۡنَا الۡہُدٰۤی اٰمَنَّا بِہٖ ؕ فَمَنۡ یُّؤۡمِنۡۢ بِرَبِّہٖ فَلَا یَخَافُ بَخۡسًا وَّ لَا رَہَقًا ﴿ۙ۱۳﴾

اور جب ہم نے ہدایت کی کتاب سنی اس پر ایمان لے آئے سو جو شخص اپنے پروردگار پر ایمان لاتا ہے تو اسکو نہ نقصان کا خوف ہے نہ کسی طرح کے ظلم کا۔

وَّ اَنَّا مِنَّا الۡمُسۡلِمُوۡنَ وَ مِنَّا الۡقٰسِطُوۡنَ ؕ فَمَنۡ اَسۡلَمَ فَاُولٰٓئِکَ تَحَرَّوۡا رَشَدًا ﴿۱۴﴾

اور یہ کہ ہم میں بعض فرمانبردار ہیں۔ اور بعض نافرمان ہیں تو جو فرمانبردار ہوئے وہ سیدھے رستے پر چلے۔

وَ اَمَّا الۡقٰسِطُوۡنَ فَکَانُوۡا لِجَہَنَّمَ حَطَبًا ﴿ۙ۱۵﴾

اور جو نافرمان ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے۔

وَّ اَنۡ لَّوِ اسۡتَقَامُوۡا عَلَی الطَّرِیۡقَۃِ لَاَسۡقَیۡنٰہُمۡ مَّآءً غَدَقًا ﴿ۙ۱۶﴾

اور اے پیغمبر ﷺ یہ بھی ان سے کہدو کہ اگر یہ لوگ سیدھے رستے پر رہتے تو ہم انکے پینے کو بہت سا پانی دیتے۔

لِّنَفۡتِنَہُمۡ فِیۡہِ ؕ وَ مَنۡ یُّعۡرِضۡ عَنۡ ذِکۡرِ رَبِّہٖ یَسۡلُکۡہُ عَذَابًا صَعَدًا ﴿ۙ۱۷﴾

تاکہ اس سے انکی آزمائش کریں اور جو شخص اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے گا وہ اسکو سخت عذاب میں داخل کرے گا۔

وَّ اَنَّ الۡمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا ﴿ۙ۱۸﴾

اور یہ کہ مسجدیں خاص اللہ کی ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو۔

وَّ اَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبۡدُ اللّٰہِ یَدۡعُوۡہُ کَادُوۡا یَکُوۡنُوۡنَ عَلَیۡہِ لِبَدًا ﴿ؕ٪۱۹﴾٪۱

اور جب اللہ کے بندے یعنی یہ پیغمبر ﷺ اسکی عبادت کو کھڑے ہوئے تو کافر انکے گرد ہجوم کر لینے کو تھے۔

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَدۡعُوۡا رَبِّیۡ وَ لَاۤ اُشۡرِکُ بِہٖۤ اَحَدًا ﴿۲۰﴾

اے نبی ﷺ کہدو کہ میں تو اپنے پروردگار ہی کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اسکا شریک نہیں بناتا۔

قُلۡ اِنِّیۡ لَاۤ اَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا ﴿۲۱﴾

یہ بھی کہدو کہ میں تمہارے لئے نہ کسی نقصان کا اور نہ نفع کا کچھ اختیار رکھتا ہوں۔

قُلۡ اِنِّیۡ لَنۡ یُّجِیۡرَنِیۡ مِنَ اللّٰہِ اَحَدٌ ۬ۙ وَّ لَنۡ اَجِدَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مُلۡتَحَدًا ﴿ۙ۲۲﴾

یہ بھی کہدو کہ اللہ کے عذاب سے مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ اور میں اسکے سوا کوئی جائے پناہ نہیں پاؤں گا۔

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِسٰلٰتِہٖ ؕ وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَاِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ﴿ؕ۲۳﴾

ہاں اللہ کی طرف سے احکام کا اور اسکے پیغاموں کا پہنچا دینا ہی میرے ذمے ہے اور جو شخص اللہ اور اسکے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا تو ایسوں کے لئے جہنم کی آگ ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

حَتّٰۤی اِذَا رَاَوۡا مَا یُوۡعَدُوۡنَ فَسَیَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَضۡعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا ﴿۲۴﴾

یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ دن دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب انکو معلوم ہو جائے گا کہ مددگار کس کے کمزور ہیں اور شمار کن کا تھوڑا ہے۔

قُلۡ اِنۡ اَدۡرِیۡۤ اَقَرِیۡبٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ اَمۡ یَجۡعَلُ لَہٗ رَبِّیۡۤ اَمَدًا ﴿۲۵﴾

کہدو کہ جس دن کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے میں نہیں جانتا کہ وہ عنقریب آنے والا ہے یا میرے پروردگار نے اسکی مدت دراز کر دی ہے۔

عٰلِمُ الۡغَیۡبِ فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا ﴿ۙ۲۶﴾

وہی غیب کا جاننے والا ہے سو کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا۔

اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ فَاِنَّہٗ یَسۡلُکُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ مِنۡ خَلۡفِہٖ رَصَدًا ﴿ۙ۲۷﴾

ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے اور اسکو غیب کی باتیں بتا دے تو اسکے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر کر دیتا ہے۔

لِّیَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ اَبۡلَغُوۡا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمۡ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیۡہِمۡ وَ اَحۡصٰی کُلَّ شَیۡءٍ عَدَدًا ﴿٪۲۸﴾٪۲

تاکہ معلوم فرمائے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور یوں تو اس نے انکی سب چیزوں کا ہر طرف سے احاطہ کر رکھا ہے اور ایک ایک چیز گن رکھی ہے۔

سورۃ نوح سورۃ مزمل