سورۃ الجاثیۃ ۔ مع اردو ترجمہ

سورۃ الجاثیۃ ۔ مع اردو ترجمہ

سورۃ الجاثیۃ مع اردو ترجمہ۔ سورہ جاثیہ مکی سورہ ہے جو کہ ۳۷ آیات اور ۴ رکوع پر مشتمل ہے۔ ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری

Play Audio

Download MP3

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

حٰمٓ ۚ﴿۱﴾

حٰمٓ۔

تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۲﴾

اس کتاب کا اتارا جانا اللہ کی طرف سے ہے جو غالب ہے دانا ہے۔

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ﴿۳﴾

بیشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔

وَ فِیۡ خَلۡقِکُمۡ وَ مَا یَبُثُّ مِنۡ دَآبَّۃٍ اٰیٰتٌ لِّقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ ۙ﴿۴﴾

اور تمہاری پیدائش میں بھی اور جانوروں میں بھی جنکو وہ پھیلاتا ہے یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ رِّزۡقٍ فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا وَ تَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۵﴾

اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور وہ جو اللہ نے آسمان سے ذریعہ رزق نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اسکے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا اس میں اور ہواؤں کے گردش دینے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

تِلۡکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتۡلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالۡحَقِّ ۚ فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَ اللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶﴾

یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمکو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں۔ تو یہ اللہ اور اسکی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے۔

وَیۡلٌ لِّکُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیۡمٍ ۙ﴿۷﴾

ہر جھوٹے گنہگار پر افسوس ہے۔

یَّسۡمَعُ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُتۡلٰی عَلَیۡہِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسۡتَکۡبِرًا کَاَنۡ لَّمۡ یَسۡمَعۡہَا ۚ فَبَشِّرۡہُ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۸﴾

کہ اللہ کی آیتیں اسکو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو انکو سن تو لیتا ہے مگر پھر غرور سے ضد کرتا ہے کہ گویا انکو سنا ہی نہیں۔ سو ایسے شخص کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو۔

وَ اِذَا عَلِمَ مِنۡ اٰیٰتِنَا شَیۡئَۨا اتَّخَذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ؕ﴿۹﴾

اور جب ہماری کچھ آیتیں اسے معلوم ہوتی ہیں تو انکی ہنسی اڑاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔

مِنۡ وَّرَآئِہِمۡ جَہَنَّمُ ۚ وَ لَا یُغۡنِیۡ عَنۡہُمۡ مَّا کَسَبُوۡا شَیۡئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡلِیَآءَ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿ؕ۱۰﴾

انکے پیچھے دوزخ ہے۔ اور جو بھی یہ کرتے رہے کچھ بھی انکے کام نہ آئے گا۔ اور نہ وہی کام آئیں گے جنکو انہوں نے اللہ کے سوا معبود بنا رکھا تھا۔ اور انکے لئے بڑا عذاب ہے۔

ہٰذَا ہُدًی ۚ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ لَہُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِیۡمٌ ﴿٪۱۱﴾٪۱

یہ ہدایت کی کتاب ہے۔ اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں انکو سخت قسم کا درد دینے والا عذاب ہو گا۔

اَللّٰہُ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَکُمُ الۡبَحۡرَ لِتَجۡرِیَ الۡفُلۡکُ فِیۡہِ بِاَمۡرِہٖ وَ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿ۚ۱۲﴾

اللہ ہی تو ہے جس نے سمندر کو تمہارے قابو میں کر دیا تاکہ اسکے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اسکے فضل سے معاش تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو۔

وَ سَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا مِّنۡہُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۱۳﴾

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اسی نے اپنے حکم سے تمہارے کام میں لگا دیا۔ جو لوگ غور کرتے ہیں انکے لئے اس میں قدرت کی نشانیاں ہیں۔

قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یَغۡفِرُوۡا لِلَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ اَیَّامَ اللّٰہِ لِیَجۡزِیَ قَوۡمًۢا بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾

مومنوں سے کہدو کہ جو لوگ اللہ کے دنوں کی جو اعمال کے بدلے کے لئے مقرر ہیں توقع نہیں رکھتے ان سے درگذر کریں تاکہ اللہ ان لوگوں کو انکے اعمال کا بدلہ دے۔

مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ اَسَآءَ فَعَلَیۡہَا ۫ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۱۵﴾

جو کوئی عمل نیک کرے گا تو اپنے لئے اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر بھی اسی کو ہو گا پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۱۶﴾

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب ہدایت اور حکومت اور نبوت بخشی اور پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں اور اہل عالم پر انکو فضیلت دی۔

وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ ۚ فَمَا اخۡتَلَفُوۡۤا اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ ۙ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۷﴾

اور انکو دین کے بارے میں دلیلیں عطا کیں۔ تو انہوں نے جو اختلاف کیا تو علم آ چکنے کے بعد آپس کی ضد سے کیا۔ بیشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے فیصلہ کر دے گا۔

ثُمَّ جَعَلۡنٰکَ عَلٰی شَرِیۡعَۃٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ فَاتَّبِعۡہَا وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸﴾

پھر ہم نے تمکو دین کے کھلے رستے پر قائم کر دیا تو اسی رستے پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا۔

اِنَّہُمۡ لَنۡ یُّغۡنُوۡا عَنۡکَ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ۚ وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۹﴾

یہ اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے۔ اور ظالم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں۔ اور اللہ پرہیزگاروں کا دوست ہے۔

ہٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ ﴿۲۰﴾

یہ قرآن لوگوں کے لئے دانائی کی باتیں ہیں۔ اور جو یقین رکھتے ہیں انکے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ اجۡتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنۡ نَّجۡعَلَہُمۡ کَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَآءً مَّحۡیَاہُمۡ وَ مَمَاتُہُمۡ ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿٪۲۱﴾٪۲

جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم انکو ان لوگوں جیسا کر دیں گے جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور انکی زندگی اور موت یکساں ہو گی۔ یہ جو دعوے کرتے ہیں برے ہیں۔

وَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ وَ لِتُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۲﴾

اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص اپنے اعمال کا بدلہ پائے اور لوگوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ وَ اَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلۡمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰی سَمۡعِہٖ وَ قَلۡبِہٖ وَ جَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً ؕ فَمَنۡ یَّہۡدِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ اللّٰہِ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۲۳﴾

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے گمراہ ہو رہا ہے تو اللہ نے بھی اسکو گمراہ رہنے دیا اور انکے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اسکی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب اللہ کے سوا اسکو کون راہ پر لا سکتا ہے تو کیا تم لوگ نصیحت نہیں حاصل کرتے؟

وَ قَالُوۡا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا نَمُوۡتُ وَ نَحۡیَا وَ مَا یُہۡلِکُنَاۤ اِلَّا الدَّہۡرُ ۚ وَ مَا لَہُمۡ بِذٰلِکَ مِنۡ عِلۡمٍ ۚ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَظُنُّوۡنَ ﴿۲۴﴾

اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ یہیں مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں زمانہ ہی ہلاک کر دیتا ہے۔ اور انکو اس کا کچھ علم نہیں۔ محض قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔

وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا کَانَ حُجَّتَہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتُوۡا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۵﴾

اور جب انکے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو انکی یہی حجت ہوتی ہے کہ اگر سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر لاؤ۔

قُلِ اللّٰہُ یُحۡیِیۡکُمۡ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ ثُمَّ یَجۡمَعُکُمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۲۶﴾٪۳

کہدو کہ اللہ ہی تمکو جان بخشتا ہے پھر وہی تمکو موت دیتا ہے پھر تمکو قیامت کے روز جسکے آنے میں کچھ شک نہیں تمکو جمع کرے گا لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے۔

وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یَوۡمَئِذٍ یَّخۡسَرُ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿۲۷﴾

اور آسمانوں اور زمین کی حکومت اللہ ہی کی ہے۔ اور جس روز قیامت برپا ہو گی اس روز اہل باطل خسارے میں پڑ جائیں گے۔

وَ تَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً ۟ کُلُّ اُمَّۃٍ تُدۡعٰۤی اِلٰی کِتٰبِہَا ؕ اَلۡیَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۸﴾

اور تم ہر ایک فرقے کو دیکھو گے کہ گھٹنوں کے بل بیٹھا ہو گا۔ اور ہر ایک جماعت اپنی کتاب اعمال کی طرف بلائی جائے گی۔ جو کچھ تم کرتے رہے ہو آج تمکو اس کا بدلہ دیا جائے گا۔

ہٰذَا کِتٰبُنَا یَنۡطِقُ عَلَیۡکُمۡ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّا کُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۹﴾

یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کر دے گی جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔

فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدۡخِلُہُمۡ رَبُّہُمۡ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۳۰﴾

اب جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کا پروردگار انہیں اپنی رحمت کے باغ میں داخل کرے گا۔ یہی کھلی کامیابی ہے۔

وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۟ اَفَلَمۡ تَکُنۡ اٰیٰتِیۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فَاسۡتَکۡبَرۡتُمۡ وَ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾

اور جنہوں نے کفر کیا ان سے کہا جائے گا کہ بھلا ہماری آیتیں تمکو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں ؟ مگر تم نے تکبر کیا اور تم نافرمان لوگ تھے۔

وَ اِذَا قِیۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ السَّاعَۃُ لَا رَیۡبَ فِیۡہَا قُلۡتُمۡ مَّا نَدۡرِیۡ مَا السَّاعَۃُ ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحۡنُ بِمُسۡتَیۡقِنِیۡنَ ﴿۳۲﴾

اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شک نہیں تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے۔ ہم اسکو محض خیالی سمجھتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا۔

وَ بَدَا لَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۳۳﴾

اور انکے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہو جائیں گی اور جس عذاب کی وہ ہنسی اڑاتے تھے وہ انکو آ گھیرے گا۔

وَ قِیۡلَ الۡیَوۡمَ نَنۡسٰکُمۡ کَمَا نَسِیۡتُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا وَ مَاۡوٰىکُمُ النَّارُ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۳۴﴾

اور کہا جائے گا کہ جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا۔ اسی طرح آج ہم تمہیں بھلا دیں گے اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں۔

ذٰلِکُمۡ بِاَنَّکُمُ اتَّخَذۡتُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًا وَّ غَرَّتۡکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ۚ فَالۡیَوۡمَ لَا یُخۡرَجُوۡنَ مِنۡہَا وَ لَا ہُمۡ یُسۡتَعۡتَبُوۡنَ ﴿۳۵﴾

یہ اس لئے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو مذاق بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے تمکو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ سو آج یہ لوگ نہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ انکی توبہ قبول کی جائے گی۔

فَلِلّٰہِ الۡحَمۡدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۳۶﴾

پس اللہ ہی کیلئے ہر طرح کی تعریف ہے جو آسمانوں کا مالک ہے اور زمین کا بھی مالک اور تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

وَ لَہُ الۡکِبۡرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۪ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۳۷﴾٪۴

اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے بڑائی ہے۔ اور وہ غالب ہے دانا ہے۔

سورۃ الدخان سورۃ الاحقاف