سورۃ الانعام ۔ مکمل مع اردو ترجمہ

سورۃ الانعام ۔ مکمل مع اردو ترجمہ

سورۃ الانعام مع اردو ترجمہ۔ سورہ انعام مکی سورہ ہے جو کہ ۱۶۵ آیات اور ۲۰ رکوع پر مشتمل ہے۔ ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری

Play Audio

Download MP3

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوۡرَ ۬ؕ ثُمَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿۱﴾

ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کیلئے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرے اور روشنی بنائی پھر بھی کافر دوسری ہستیوں کو اپنے پروردگار کے برابر ٹھیراتے ہیں۔

ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ طِیۡنٍ ثُمَّ قَضٰۤی اَجَلًا ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّی عِنۡدَہٗ ثُمَّ اَنۡتُمۡ تَمۡتَرُوۡنَ ﴿۲﴾

وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر مرنے کا ایک وقت مقرر کر دیا۔ اور ایک مدت اسکے ہاں اور مقرر ہے۔ پھر بھی اے کافرو تم اس بارے میں شک کرتے ہو۔

وَ ہُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ یَعۡلَمُ سِرَّکُمۡ وَ جَہۡرَکُمۡ وَ یَعۡلَمُ مَا تَکۡسِبُوۡنَ ﴿۳﴾

اور آسمان اور زمین میں وہی اللہ تو ہے۔ وہ تمہاری پوشیدہ اور ظاہر سب باتیں جانتا ہے اور تم جو کام کرتے ہو وہ سب سے واقف ہے۔

وَ مَا تَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ مِّنۡ اٰیٰتِ رَبِّہِمۡ اِلَّا کَانُوۡا عَنۡہَا مُعۡرِضِیۡنَ ﴿۴﴾

اور اللہ کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان لوگوں کے پاس نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔

فَقَدۡ کَذَّبُوۡا بِالۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ ؕ فَسَوۡفَ یَاۡتِیۡہِمۡ اَنۡۢبٰٓؤُا مَا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۵﴾

جب انکے پاس حق آیا تو اسکو بھی انہوں جھٹلا دیا۔ سو انکو ان چیزوں کا جن سے یہ ہنسی کرتے ہیں عنقریب انجام معلوم ہو جائے گا۔

اَلَمۡ یَرَوۡا کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَکِّنۡ لَّکُمۡ وَ اَرۡسَلۡنَا السَّمَآءَ عَلَیۡہِمۡ مِّدۡرَارًا ۪ وَّ جَعَلۡنَا الۡاَنۡہٰرَ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہِمۡ فَاَہۡلَکۡنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمۡ وَ اَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِیۡنَ ﴿۶﴾

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کے پاؤں ملک میں ایسے جما دیئے تھے کہ تمہارے پاؤں بھی ایسے نہیں جمائے اور ان پر آسمان سے لگاتار مینہ برسایا اور نہریں بنا دیں جو ان کے مکانوں کے نیچے بہ رہی تھیں پھر ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر دیا اور ان کے بعد اور امتیں پیدا کر دیں۔

وَ لَوۡ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ کِتٰبًا فِیۡ قِرۡطَاسٍ فَلَمَسُوۡہُ بِاَیۡدِیۡہِمۡ لَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷﴾

اور اے پیغمبر اگر ہم تم پر کاغذوں پر لکھی ہوئی کوئی تحریر نازل کرتے اور یہ اسے اپنے ہاتھوں سے ٹٹول بھی لیتے۔ تو جو کافر ہیں وہ یہی کہہ دیتے کہ یہ تو صاف صاف جادو ہے۔

وَ قَالُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ مَلَکٌ ؕ وَ لَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الۡاَمۡرُ ثُمَّ لَا یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۸﴾

اور کہتے ہیں کہ ان پیغمبر پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا؟ جو انکی تصدیق کرتا اور اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو کام ہی فیصل ہو جاتا پھر انہیں مہلت بھی نہ دی جاتی۔

وَ لَوۡ جَعَلۡنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلۡنٰہُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسۡنَا عَلَیۡہِمۡ مَّا یَلۡبِسُوۡنَ ﴿۹﴾

نیز اگر ہم کسی فرشتے کو بھیجتے تو اسے مرد کی صورت میں ہی بھیجتے اور جو شبہ یہ اب کرتے ہیں اسی شبہے میں انہیں ڈال دیتے۔

وَ لَقَدِ اسۡتُہۡزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾٪۱

اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ ہنسی ہوتی رہی ہے پھر جو لوگ ان میں سے ہنسی کیا کرتے تھے انکو ہنسی کرنے کی سزا نے آ گھیرا۔

قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ ثُمَّ انۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۱﴾

کہو کہ ملک میں چلو پھرو۔ پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔

قُلۡ لِّمَنۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ قُلۡ لِّلّٰہِ ؕ کَتَبَ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ ؕ لَیَجۡمَعَنَّکُمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ اَلَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۲﴾

کہو کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے کس کا ہے کہدو اللہ کا۔ اس نے اپنی ذات پاک پر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔ وہ تم سب کو قیامت کے دن جس میں کچھ بھی شک نہیں ضرور جمع کرے گا جن لوگوں نے اپنے آپکو نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے۔

وَ لَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ ؕ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۱۳﴾

اور جو مخلوق رات اور دن میں بستی ہے سب اسی کی ہے۔ اور وہ سنتا ہے جانتا ہے۔

قُلۡ اَغَیۡرَ اللّٰہِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ ہُوَ یُطۡعِمُ وَ لَا یُطۡعَمُ ؕ قُلۡ اِنِّیۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَسۡلَمَ وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۴﴾

کہو۔ کیا میں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو مددگار بناؤں۔ کہ وہی تو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی سب کو کھانا دیتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا یہ بھی کہدو کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلا فرمانبردار بنوں اور یہ کہ اے پیغمبر تم مشرکوں میں نہ ہونا۔

قُلۡ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۵﴾

یہ بھی کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔

مَنۡ یُّصۡرَفۡ عَنۡہُ یَوۡمَئِذٍ فَقَدۡ رَحِمَہٗ ؕ وَ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۶﴾

جس شخص سے اس روز عذاب ٹال دیا گیا اس پر اللہ نے بڑی مہربانی فرمائی۔ اور یہی کھلی کامیابی ہے۔

وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ بِخَیۡرٍ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۷﴾

اور اگر اللہ تم کو کوئی سختی پہنچائے تو اسکے سوا اسکو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر نعمت و راحت عطا کرے تو کوئی اسکو روکنے والا نہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وَ ہُوَ الۡقَاہِرُ فَوۡقَ عِبَادِہٖ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۱۸﴾

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ اور وہ دانا ہے خبردار ہے۔

قُلۡ اَیُّ شَیۡءٍ اَکۡبَرُ شَہَادَۃً ؕ قُلِ اللّٰہُ ۟ۙ شَہِیۡدٌۢ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ۟ وَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَ مَنۡۢ بَلَغَ ؕ اَئِنَّکُمۡ لَتَشۡہَدُوۡنَ اَنَّ مَعَ اللّٰہِ اٰلِہَۃً اُخۡرٰی ؕ قُلۡ لَّاۤ اَشۡہَدُ ۚ قُلۡ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۘ۱۹﴾

ان سے پوچھو کہ سب سے بڑھ کر قرین انصاف کس کی شہادت ہے کہہ دو کہ اللہ ہی مجھ میں اور تم میں گواہ ہے۔ اور یہ قرآن مجھ پر اسلئے اتارا گیا ہے کہ اسکے ذریعے سے تم کو اور جس شخص تک وہ پہنچ سکے آگاہ کر دوں۔ کیا تم لوگ اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور بھی معبود ہیں اے پیغمبر کہہ دو کہ میں تو ایسی شہادت نہیں دیتا۔ کہہ دو کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور جنکو تم لوگ شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَعۡرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَہُمۡ ۘ اَلَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۲۰﴾٪۲

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ ان کو یعنی ہمارے پیغمبر کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے۔

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۱﴾

اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا اسکی آیتوں کو جھٹلایا کچھ شک نہیں کہ ظالم لوگ کامیاب نہیں ہوں گے۔

وَ یَوۡمَ نَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا اَیۡنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیۡنَ کُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴿۲۲﴾

اور جس دن ہم سب لوگوں کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے پوچھیں گے کہ آج وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جنکا تمہیں دعوٰی تھا۔

ثُمَّ لَمۡ تَکُنۡ فِتۡنَتُہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا وَ اللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشۡرِکِیۡنَ ﴿۲۳﴾

تو ان سےکچھ عذر نہ بن پڑے گا اور بجز اسکے کچھ چارہ نہ ہوگا کہ کہیں اللہ کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے۔

اُنۡظُرۡ کَیۡفَ کَذَبُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۲۴﴾

دیکھو انہوں نے اپنے اوپر کیسا جھوٹ بولا اور جو کچھ یہ افترا کیا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہا۔

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّسۡتَمِعُ اِلَیۡکَ ۚ وَ جَعَلۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اَکِنَّۃً اَنۡ یَّفۡقَہُوۡہُ وَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرًا ؕ وَ اِنۡ یَّرَوۡا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡا بِہَا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡکَ یُجَادِلُوۡنَکَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۲۵﴾

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری باتوں کی طرف کان دھرتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر تو پردے ڈال دیئے ہیں کہ انکو سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں بوجھ ڈال دیا ہے کہ سن نہ سکیں اور اگر یہ تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ جب تمہارے پاس تم سے بحث کرنے کو آتے ہیں تو جو کافر ہیں کہتے ہیں یہ قرآن اور کچھ بھی نہیں صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

وَ ہُمۡ یَنۡہَوۡنَ عَنۡہُ وَ یَنۡـَٔوۡنَ عَنۡہُ ۚ وَ اِنۡ یُّہۡلِکُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲۶﴾

وہ اس سے اوروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی پرے رہتے ہیں۔ مگر ان باتوں سے اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور اس بات سے بےخبر ہیں۔

وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ وُقِفُوۡا عَلَی النَّارِ فَقَالُوۡا یٰلَیۡتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُکَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۷﴾

کاش تم ان کو اس وقت دیکھو جب یہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ اے کاش ہم پھر دنیا میں لوٹا دیئے جائیں تاکہ اپنے پروردگار کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور مومن ہو جائیں۔

بَلۡ بَدَا لَہُمۡ مَّا کَانُوۡا یُخۡفُوۡنَ مِنۡ قَبۡلُ ؕ وَ لَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُہُوۡا عَنۡہُ وَ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۲۸﴾

ہاں یہ جو کچھ پہلے چھپایا کرتے تھے آج ان پر ظاہر ہو گیا ہے اور اگر یہ دنیا میں لوٹائے بھی جائیں تو جن کاموں سے ان کو منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگیں کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں۔

وَ قَالُوۡۤا اِنۡ ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا وَ مَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِیۡنَ ﴿۲۹﴾

اور کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد پھر زندہ نہیں کئے جائیں گے۔

وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ وُقِفُوۡا عَلٰی رَبِّہِمۡ ؕ قَالَ اَلَیۡسَ ہٰذَا بِالۡحَقِّ ؕ قَالُوۡا بَلٰی وَ رَبِّنَا ؕ قَالَ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡفُرُوۡنَ ﴿٪۳۰﴾٪۳

اور کاش تم انکو اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے وہ فرمائے گا کیا یہ دوبارہ زندہ ہونا برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی قسم بالکل برحق ہے اللہ فرمائے گا اب کفر کے بدلے جو دنیا میں کرتے تھے عذاب کے مزے چکھو۔

قَدۡ خَسِرَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ اللّٰہِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءَتۡہُمُ السَّاعَۃُ بَغۡتَۃً قَالُوۡا یٰحَسۡرَتَنَا عَلٰی مَا فَرَّطۡنَا فِیۡہَا ۙ وَ ہُمۡ یَحۡمِلُوۡنَ اَوۡزَارَہُمۡ عَلٰی ظُہُوۡرِہِمۡ ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوۡنَ ﴿۳۱﴾

جن لوگوں نے اللہ کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آ گئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آ موجود ہو گی تو بول اٹھیں گے کہ ہائے اس کوتاہی پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے اعمال کے بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہونگے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے۔

وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ ؕ وَ لَلدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۳۲﴾

اور دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور مشغلہ ہے۔ اور بہت اچھا گھر تو آخرت کا گھر ہے یعنی انکے لئے جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں۔

قَدۡ نَعۡلَمُ اِنَّہٗ لَیَحۡزُنُکَ الَّذِیۡ یَقُوۡلُوۡنَ فَاِنَّہُمۡ لَا یُکَذِّبُوۡنَکَ وَ لٰکِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۳۳﴾

ہم کو معلوم ہے اے نبی کہ ان کافروں کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں مگر یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں۔

وَ لَقَدۡ کُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَصَبَرُوۡا عَلٰی مَا کُذِّبُوۡا وَ اُوۡذُوۡا حَتّٰۤی اَتٰہُمۡ نَصۡرُنَا ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ۚ وَ لَقَدۡ جَآءَکَ مِنۡ نَّبَاِی الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۳۴﴾

اور تم سے پہلے بھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے۔ تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی۔ اور اللہ کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تمکو پیغمبروں کے احوال کی خبریں پہنچ چکی ہیں تو تم بھی صبر سے کام لو۔

وَ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکَ اِعۡرَاضُہُمۡ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِیَ نَفَقًا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاۡتِیَہُمۡ بِاٰیَۃٍ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَجَمَعَہُمۡ عَلَی الۡہُدٰی فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۳۵﴾

اور اگر ان کی روگردانی تم پر شاق گذرتی ہے تو اگر طاقت ہو تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈ نکالو یا آسمان میں سیڑھی تلاش کرو پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لاؤ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا۔ پس تم ہر گز نادانوں میں نہ ہونا۔

اِنَّمَا یَسۡتَجِیۡبُ الَّذِیۡنَ یَسۡمَعُوۡنَ ؕؔ وَ الۡمَوۡتٰی یَبۡعَثُہُمُ اللّٰہُ ثُمَّ اِلَیۡہِ یُرۡجَعُوۡنَ ﴿؃ ۳۶﴾

بات یہ ہے کہ حق کو قبول وہی کرتے ہیں جو سنتے بھی ہیں۔ اور مردوں کو تو اللہ قیامت ہی کو اٹھائے گا پھر اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے۔

وَ قَالُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ قَادِرٌ عَلٰۤی اَنۡ یُّنَزِّلَ اٰیَۃً وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ ہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۷﴾

اور کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگار کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہدو کہ اللہ نشانی اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیۡرُ بِجَنَاحَیۡہِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمۡثَالُکُمۡ ؕ مَا فَرَّطۡنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ یُحۡشَرُوۡنَ ﴿۳۸﴾

اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا حیوان یا اپنے پروں سے اڑنے والا پرندہ ہے انکی بھی تم لوگوں کی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب یعنی لوح محفوظ میں کسی چیز کے لکھنے میں کوتاہی نہیں کی پھر سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائیں گے۔

وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُکۡمٌ فِی الظُّلُمٰتِ ؕ مَنۡ یَّشَاِ اللّٰہُ یُضۡلِلۡہُ ؕ وَ مَنۡ یَّشَاۡ یَجۡعَلۡہُ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۳۹﴾

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں اسکے علاوہ اندھیروں میں پڑے ہوئے جسکو اللہ چاہے گمراہ رہنے دے اور جسے چاہے سیدھے رستے پر چلا دے۔

قُلۡ اَرَءَیۡتَکُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُ اللّٰہِ اَوۡ اَتَتۡکُمُ السَّاعَۃُ اَغَیۡرَ اللّٰہِ تَدۡعُوۡنَ ۚ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۴۰﴾

کہو کافرو بھلا دیکھو تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آ جائے یا قیامت آ موجود ہو۔ تو کیا تم ایسی حالت میں اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اگر سچے ہو تو بتاؤ۔

بَلۡ اِیَّاہُ تَدۡعُوۡنَ فَیَکۡشِفُ مَا تَدۡعُوۡنَ اِلَیۡہِ اِنۡ شَآءَ وَ تَنۡسَوۡنَ مَا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿٪۴۱﴾٪۴

نہیں بلکہ مصیبت کے وقت تم اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو وہ اگر چاہتا ہے تو اسکو دور کر دیتا ہے اور جنکو تم شریک بناتے ہو اس وقت انہیں بھول جاتے ہو۔

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَتَضَرَّعُوۡنَ ﴿۴۲﴾

اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔ پھر ان کی نافرمانیوں کے سبب ہم انہیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں۔

فَلَوۡلَاۤ اِذۡ جَآءَہُمۡ بَاۡسُنَا تَضَرَّعُوۡا وَ لٰکِنۡ قَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۴۳﴾

تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا وہ کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہو گئے تھے اور جو کام وہ کرتے تھے شیطان ان کو ان کی نظروں میں آراستہ کر دکھاتا تھا۔

فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖ فَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ اَبۡوَابَ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ حَتّٰۤی اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰہُمۡ بَغۡتَۃً فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡلِسُوۡنَ ﴿۴۴﴾

پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انکو کی گئ تھی فراموش کر دیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو انکو دی گئ تھیں خوب خوش ہو گئے تو ہم نے انکو ناگہاں پکڑ لیا اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے۔

فَقُطِعَ دَابِرُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ؕ وَ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۵﴾

غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئ اور سب تعریف اللہ رب العالمین ہی کیلئے ہے۔

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَخَذَ اللّٰہُ سَمۡعَکُمۡ وَ اَبۡصَارَکُمۡ وَ خَتَمَ عَلٰی قُلُوۡبِکُمۡ مَّنۡ اِلٰہٌ غَیۡرُ اللّٰہِ یَاۡتِیۡکُمۡ بِہٖ ؕ اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ ثُمَّ ہُمۡ یَصۡدِفُوۡنَ ﴿۴۶﴾

ان کافروں سے کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر اللہ تمہارے کان اور آنکھیں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو اللہ کے سوا کونسا معبود ہے جو تمہیں یہ نعمتیں پھر بخشے؟ دیکھو ہم کس کس طرح اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں۔ پھر بھی یہ لوگ روگردانی کئے جاتے ہیں۔

قُلۡ اَرَءَیۡتَکُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُ اللّٰہِ بَغۡتَۃً اَوۡ جَہۡرَۃً ہَلۡ یُہۡلَکُ اِلَّا الۡقَوۡمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۷﴾

کہو کہ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب بیخبری میں یا خبر آنیکے بعد آئے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہو گا؟

وَ مَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ ۚ فَمَنۡ اٰمَنَ وَ اَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۴۸﴾

اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجتے رہے ہیں تو خوشخبری سنانے اور ڈرانے کو پھر جو شخص ایمان لائے اور نیکوکار ہو جائے تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّہُمُ الۡعَذَابُ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿۴۹﴾

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی نافرمانیوں کے سبب انہیں عذاب پہنچے گا۔

قُلۡ لَّاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ وَ لَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ اِنِّیۡ مَلَکٌ ۚ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ ؕ قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ؕ اَفَلَا تَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿٪۵۰﴾٪۵

کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے اللہ کی طرف سے آتا ہے۔ کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والا برابر ہوتے ہیں؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے؟

وَ اَنۡذِرۡ بِہِ الَّذِیۡنَ یَخَافُوۡنَ اَنۡ یُّحۡشَرُوۡۤا اِلٰی رَبِّہِمۡ لَیۡسَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیۡعٌ لَّعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۵۱﴾

اور جو لوگ خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے اور جانتے ہیں کہ اسکے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہو گا اور نہ سفارش کرنے والا۔ انکو اس قرآن کے ذریعے سے نصیحت کرو تاکہ پرہیزگار بنیں۔

وَ لَا تَطۡرُدِ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ ؕ مَا عَلَیۡکَ مِنۡ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّ مَا مِنۡ حِسَابِکَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَتَطۡرُدَہُمۡ فَتَکُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۲﴾

اور جو لوگ صبح شام اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں اور اسکی توجہ کے طالب ہیں انکو اپنے پاس سے مت نکالو۔ انکے حساب اعمال کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جوابدہی ان پر کچھ نہیں۔ پس ایسا نہ کرنا اگر انکو نکالو گے تو ظالموں میں ہو جاؤ گے۔

وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لِّیَقُوۡلُوۡۤا اَہٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِنَا ؕ اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِاَعۡلَمَ بِالشّٰکِرِیۡنَ ﴿۵۳﴾

اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے آزمائش کی ہے کہ جو دولتمند ہیں وہ غریبوں کی نسبت کہتے ہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم میں سے فضل کیا ہے کیا اللہ شکر کرنے والوں سے واقف نہیں؟

وَ اِذَا جَآءَکَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ کَتَبَ رَبُّکُمۡ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ ۙ اَنَّہٗ مَنۡ عَمِلَ مِنۡکُمۡ سُوۡٓءًۢ ابِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ وَ اَصۡلَحَ فَاَنَّہٗ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵۴﴾

اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو سلام علیکم تمہارے رب نے اپنی ذات پاک پر رحمت کو لازم کر لیا ہے کہ جو کوئی تم میں سے نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کر لے اور نیکوکار ہو جائے تو وہ بخشنے والا ہے مہربان ہے۔

وَ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ وَ لِتَسۡتَبِیۡنَ سَبِیۡلُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿٪۵۵﴾٪۶

اور اسی طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ تم لوگ ان پر عمل کرو اور اس لئے کہ گناہگاروں کا رستہ ظاہر ہو جائے۔

قُلۡ اِنِّیۡ نُہِیۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قُلۡ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَہۡوَآءَکُمۡ ۙ قَدۡ ضَلَلۡتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۵۶﴾

اے پیغمبر کفار سے کہدو کہ جنکو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے یہ بھی کہدو کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہیں کرونگا ایسا کروں تو گمراہ ہو جاؤں اور ہدایت یافتہ لوگوں میں نہ رہوں۔

قُلۡ اِنِّیۡ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّیۡ وَ کَذَّبۡتُمۡ بِہٖ ؕ مَا عِنۡدِیۡ مَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ بِہٖ ؕ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ یَقُصُّ الۡحَقَّ وَ ہُوَ خَیۡرُ الۡفٰصِلِیۡنَ ﴿۵۷﴾

کہدو کہ میں تو اپنے پروردگار کی دلیل روشن پر ہوں اور تم اسکی تکذیب کرتے ہو۔ جس چیز یعنی عذاب کے لئے تم جلدی کر رہے ہو۔ وہ میرے پاس نہیں ہے ایسا حکم اللہ ہی کے اختیار میں ہے وہ سچی بات بیان فرماتا ہے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

قُلۡ لَّوۡ اَنَّ عِنۡدِیۡ مَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ بِہٖ لَقُضِیَ الۡاَمۡرُ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِالظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۸﴾

کہدو کہ جس چیز کے لئے تم جلدی کر رہے ہو اگر وہ میرے اختیار میں ہوتی تو مجھ میں اور تم میں فیصلہ ہو چکا ہوتا اور اللہ ظالموں سے خوب واقف ہے۔

وَ عِنۡدَہٗ مَفَاتِحُ الۡغَیۡبِ لَا یَعۡلَمُہَاۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ یَعۡلَمُ مَا فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ ؕ وَ مَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَۃٍ اِلَّا یَعۡلَمُہَا وَ لَا حَبَّۃٍ فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡاَرۡضِ وَ لَا رَطۡبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۵۹﴾

اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنکو اسکے سوا کوئی نہیں جانتا اور اسے جنگلوں اور دریاؤں کی سب چیزوں کا علم ہے اور کوئی پتا نہیں جھڑتا مگر وہ اسکو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ اور کوئی ہری یا سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں لکھی ہوئی ہے۔

وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ یَعۡلَمُ مَا جَرَحۡتُمۡ بِالنَّہَارِ ثُمَّ یَبۡعَثُکُمۡ فِیۡہِ لِیُقۡضٰۤی اَجَلٌ مُّسَمًّی ۚ ثُمَّ اِلَیۡہِ مَرۡجِعُکُمۡ ثُمَّ یُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۶۰﴾٪۷

اور وہی تو ہے جو رات کو سونے کی حالت میں تمہاری روح قبض کر لیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ یہی سلسلہ جاری رکھ کر زندگی کی مدت معین پوری کر دی جائے پھر تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تم کو تمہارے عمل جو تم کرتے رہتے ہو ایک ایک کر کے بتائے گا۔

وَ ہُوَ الۡقَاہِرُ فَوۡقَ عِبَادِہٖ وَ یُرۡسِلُ عَلَیۡکُمۡ حَفَظَۃً ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡہُ رُسُلُنَا وَ ہُمۡ لَا یُفَرِّطُوۡنَ ﴿۶۱﴾

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے یہانتک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اسکی روح قبض کر لیتے ہیں اور کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے۔

ثُمَّ رُدُّوۡۤا اِلَی اللّٰہِ مَوۡلٰىہُمُ الۡحَقِّ ؕ اَلَا لَہُ الۡحُکۡمُ ۟ وَ ہُوَ اَسۡرَعُ الۡحٰسِبِیۡنَ ﴿۶۲﴾

پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق اللہ تعالٰی کے پاس واپس بلائے جائیں گے۔ سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ نہایت جلد حساب لینے والا ہے۔

قُلۡ مَنۡ یُّنَجِّیۡکُمۡ مِّنۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ تَدۡعُوۡنَہٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفۡیَۃً ۚ لَئِنۡ اَنۡجٰىنَا مِنۡ ہٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۶۳﴾

کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون نکال لاتا ہے جب کہ تم اسے عاجزی سے اور چپکے چپکے پکارتے ہو اور کہتے ہو اگر اللہ ہم کو اس تنگی سے نجات بخشے تو ہم اسکے بہت شکر گذار ہوں۔

قُلِ اللّٰہُ یُنَجِّیۡکُمۡ مِّنۡہَا وَ مِنۡ کُلِّ کَرۡبٍ ثُمَّ اَنۡتُمۡ تُشۡرِکُوۡنَ ﴿۶۴﴾

کہو کہ اللہ ہی تم کو اس تنگی سے اور ہر سختی سے نجات بخشتا ہے پھر بھی تم اسکے ساتھ شرک کرتے ہو۔

قُلۡ ہُوَ الۡقَادِرُ عَلٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَ عَلَیۡکُمۡ عَذَابًا مِّنۡ فَوۡقِکُمۡ اَوۡ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِکُمۡ اَوۡ یَلۡبِسَکُمۡ شِیَعًا وَّ یُذِیۡقَ بَعۡضَکُمۡ بَاۡسَ بَعۡضٍ ؕ اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۶۵﴾

کہدو کہ وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کر دے اور ایک کو دوسرے سے بھڑا کر آپس کی لڑائی کا مزہ چکھا دے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں۔

وَ کَذَّبَ بِہٖ قَوۡمُکَ وَ ہُوَ الۡحَقُّ ؕ قُلۡ لَّسۡتُ عَلَیۡکُمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿ؕ۶۶﴾

اور اس قرآن کو تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ یہ سراسر حق ہے کہدو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں۔

لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسۡتَقَرٌّ ۫ وَّ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۷﴾

ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب معلوم ہو جائے گا۔

وَ اِذَا رَاَیۡتَ الَّذِیۡنَ یَخُوۡضُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖ ؕ وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّکۡرٰی مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾

اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بیہودہ بکواس کر رہے ہوں تو ان سے الگ ہو جاؤ۔ یہاں تک کہ وہ اور باتوں میں مصروف ہو جائیں۔ اور اگر یہ بات شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھے رہو۔

وَ مَا عَلَی الَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ مِنۡ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّ لٰکِنۡ ذِکۡرٰی لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۶۹﴾

اور پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب کی کچھ بھی جوابدہی نہیں۔ ہاں نصیحت تاکہ وہ بھی پرہیزگار ہوں۔

وَ ذَرِ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَہُمۡ لَعِبًا وَّ لَہۡوًا وَّ غَرَّتۡہُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا وَ ذَکِّرۡ بِہٖۤ اَنۡ تُبۡسَلَ نَفۡسٌۢ بِمَا کَسَبَتۡ ٭ۖ لَیۡسَ لَہَا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیۡعٌ ۚ وَ اِنۡ تَعۡدِلۡ کُلَّ عَدۡلٍ لَّا یُؤۡخَذۡ مِنۡہَا ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اُبۡسِلُوۡا بِمَا کَسَبُوۡا ۚ لَہُمۡ شَرَابٌ مِّنۡ حَمِیۡمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ بِمَا کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ ﴿٪۷۰﴾٪۸

اور جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے انکو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو۔ ہاں اس قرآن کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ قیامت کے دن کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے اس روز اللہ کے سوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ اور اگر وہ ہر چیز جو روئے زمین پر ہے بطور معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو۔ یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے سو انکے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب ہے اس لئے کہ کفر کرتے تھے۔

قُلۡ اَنَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤی اَعۡقَابِنَا بَعۡدَ اِذۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ کَالَّذِی اسۡتَہۡوَتۡہُ الشَّیٰطِیۡنُ فِی الۡاَرۡضِ حَیۡرَانَ ۪ لَہٗۤ اَصۡحٰبٌ یَّدۡعُوۡنَہٗۤ اِلَی الۡہُدَی ائۡتِنَا ؕ قُلۡ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الۡہُدٰی ؕ وَ اُمِرۡنَا لِنُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۷۱﴾

کہو۔ کیا ہم اللہ کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکے نہ برا۔ اور جب ہم کو اللہ نے سیدھا رستہ دکھا دیا تو کیا ہم الٹے پاؤں پھر جائیں؟ پھر تو ہماری ایسی مثال ہو جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو اور وہ حیران ہو رہا ہو اور اسکے کچھ رفیق ہوں جو اسکو رستے کی طرف بلائیں کہ ہمارے پاس چلا آ۔ کہدو کہ رستہ تو وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم اللہ رب العالمین کے فرمانبردار بنیں۔

وَ اَنۡ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اتَّقُوۡہُ ؕ وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۷۲﴾

اور یہ بھی کہ نماز پڑھتے رہو اور اس سے ڈرتے رہو۔ اور وہی تو ہے جس کے پاس تم جمع کئے جاؤ گے۔

وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ وَ یَوۡمَ یَقُوۡلُ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ۬ؕ قَوۡلُہُ الۡحَقُّ ؕ وَ لَہُ الۡمُلۡکُ یَوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ ؕ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۷۳﴾

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہوجا تو حشر برپا ہو جائے گا۔ اس کا ارشاد برحق ہے اور جس دن صور پھونکا جائے گا۔ اس دن اسی کی بادشاہت ہو گی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر سب کا جاننے والا ہے اور وہی دانا ہے خبردار ہے۔

وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِہَۃً ۚ اِنِّیۡۤ اَرٰىکَ وَ قَوۡمَکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۷۴﴾

اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا تم کیا بتوں کو معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم اور تمہاری قوم کھلی گمراہی میں ہو۔

وَ کَذٰلِکَ نُرِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ مَلَکُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لِیَکُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِیۡنَ ﴿۷۵﴾

اور ہم اس طرح ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہو جائیں۔

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیۡہِ الَّیۡلُ رَاٰ کَوۡکَبًا ۚ قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الۡاٰفِلِیۡنَ ﴿۷۶﴾

یعنی جب رات نے انکو پردہ تاریکی سے ڈھانپ لیا تو آسمان میں ایک ستارہ نظر پڑا کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہو گیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہو جانے والے تو پسند نہیں۔

فَلَمَّا رَاَ الۡقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنۡ لَّمۡ یَہۡدِنِیۡ رَبِّیۡ لَاَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡقَوۡمِ الضَّآلِّیۡنَ ﴿۷۷﴾

پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ اگر میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ نہیں دکھائے گا تو میں ان لوگوں میں ہو جاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں۔

فَلَمَّا رَاَ الشَّمۡسَ بَازِغَۃً قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ہٰذَاۤ اَکۡبَرُ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتۡ قَالَ یٰقَوۡمِ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿۷۸﴾

پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہو گیا تو کہنے لگے لوگو جن چیزوں کو تم اللہ کا شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجۡہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ حَنِیۡفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿ۚ۷۹﴾

میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے آپ کو اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

وَ حَآجَّہٗ قَوۡمُہٗ ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّیۡ فِی اللّٰہِ وَ قَدۡ ہَدٰىنِ ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشۡرِکُوۡنَ بِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ رَبِّیۡ شَیۡئًا ؕ وَسِعَ رَبِّیۡ کُلَّ شَیۡءٍ عِلۡمًا ؕ اَفَلَا تَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۸۰﴾

اور انکی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے اللہ کے بارے میں کیا بحث کرتے ہو۔ اس نے تو مجھے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے اور جن چیزوں کو تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں جو میرا پروردگار کچھ چاہے۔ میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم خیال نہیں کرتے؟

وَ کَیۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشۡرَکۡتُمۡ وَ لَا تَخَافُوۡنَ اَنَّکُمۡ اَشۡرَکۡتُمۡ بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا ؕ فَاَیُّ الۡفَرِیۡقَیۡنِ اَحَقُّ بِالۡاَمۡنِ ۚ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۘ۸۱﴾

بھلا میں ان چیزوں سے جنکو تم اللہ کا شریک بناتے ہو۔ کیونکر ڈروں جبکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہو جسکی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریق میں سے کونسا فریق امن و بے خوفی کا زیاد حقدار ہے اگر سمجھ رکھتے ہو تو بتاؤ۔

اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡاَمۡنُ وَ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾٪۹

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو شرک کے ظلم سے ملوث نہیں کیا انکے لئے امن و بے خوفی ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔

وَ تِلۡکَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیۡنٰہَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ عَلٰی قَوۡمِہٖ ؕ نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ ﴿۸۳﴾

اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو انکی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جسکے چاہتے ہیں درجے بلند کر دیتے ہیں۔ بیشک تمہارا پروردگار دانا ہے خبردار ہے۔

وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ ؕ کُلًّا ہَدَیۡنَا ۚ وَ نُوۡحًا ہَدَیۡنَا مِنۡ قَبۡلُ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ وَ اَیُّوۡبَ وَ یُوۡسُفَ وَ مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿ۙ۸۴﴾

اور ہم نے انکو اسحٰق اور یعقوب بخشے اور سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح کو بھی ہدایت دی تھی اور انکی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسٰی اور ہارون کو بھی۔ اور ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

وَ زَکَرِیَّا وَ یَحۡیٰی وَ عِیۡسٰی وَ اِلۡیَاسَ ؕ کُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿ۙ۸۵﴾

اور زکریا اور یحیٰی اور عیسٰی اور الیاس کو بھی۔ یہ سب نیکوکار تھے۔

وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ الۡیَسَعَ وَ یُوۡنُسَ وَ لُوۡطًا ؕ وَ کُلًّا فَضَّلۡنَا عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۸۶﴾

اور اسمٰعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی۔ اور ان سب کو دنیا جہاں کے لوگوں پر فضیلت بخشی تھی۔

وَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَ ذُرِّیّٰتِہِمۡ وَ اِخۡوَانِہِمۡ ۚ وَ اجۡتَبَیۡنٰہُمۡ وَ ہَدَیۡنٰہُمۡ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۸۷﴾

اور بعض بعض کو ان کے باپ دادوں اور اولاد اور بھائیوں میں سے بھی۔ اور ان کو برگزیدہ بھی کیا تھا اور سیدھا رستہ بھی دکھایا تھا۔

ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ لَوۡ اَشۡرَکُوۡا لَحَبِطَ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۸﴾

یہ اللہ کی ہدایت ہے اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہے چلائے اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو جو اعمال وہ کرتے تھے سب ضائع ہو جاتے۔

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ ۚ فَاِنۡ یَّکۡفُرۡ بِہَا ہٰۤؤُلَآءِ فَقَدۡ وَکَّلۡنَا بِہَا قَوۡمًا لَّیۡسُوۡا بِہَا بِکٰفِرِیۡنَ ﴿۸۹﴾

یہ وہ لوگ تھے جنکو ہم نے کتاب اور حکم شریعت اور نبوت عطا فرمائی تھی۔ اگر یہ کفار ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان پر ایمان لانے کے لئے ایسے لوگ مقرر کر دیئے ہیں کہ وہ ان سے کبھی انکار کرنے والے نہیں۔

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدٰىہُمُ اقۡتَدِہۡ ؕ قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٰی لِلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۹۰﴾٪۱۰

یہ وہ لوگ ہیں جنکو اللہ نے ہدایت دی تھی تو تم انہیں کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہدو کہ میں تم سے اس کا کوئی صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو دنیا جہان کے لوگوں کے لئے محض نصیحت ہے۔

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖۤ اِذۡ قَالُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ قُلۡ مَنۡ اَنۡزَلَ الۡکِتٰبَ الَّذِیۡ جَآءَ بِہٖ مُوۡسٰی نُوۡرًا وَّ ہُدًی لِّلنَّاسِ تَجۡعَلُوۡنَہٗ قَرَاطِیۡسَ تُبۡدُوۡنَہَا وَ تُخۡفُوۡنَ کَثِیۡرًا ۚ وَ عُلِّمۡتُمۡ مَّا لَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنۡتُمۡ وَ لَاۤ اٰبَآؤُکُمۡ ؕ قُلِ اللّٰہُ ۙ ثُمَّ ذَرۡہُمۡ فِیۡ خَوۡضِہِمۡ یَلۡعَبُوۡنَ ﴿۹۱﴾

اور ان لوگوں نے اللہ کی قدر جیسی جاننی چاہیے تھی نہ جانی۔ جب انہوں نے کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر وحی اور کتاب وغیرہ کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو کہ جو کتاب موسٰی لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا؟ جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی اور جسے تم نے علیحدہ علیحدہ اوراق پر نقل کر رکھا ہے۔ کہ ان کے کچھ حصے کو تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جنکو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہدو اس کتاب کو اللہ ہی نے نازل کیا تھا پھر انکو چھوڑ دو کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں۔

وَ ہٰذَا کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ مُبٰرَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ لِتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰی وَ مَنۡ حَوۡلَہَا ؕ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ وَ ہُمۡ عَلٰی صَلَاتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ ﴿۹۲﴾

اور ویسی ہی یہ کتاب جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور جو اس لئے نازل کی گئ ہے کہ اے نبی تم مکے اور اسکے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی پوری خبر رکھتے ہیں۔

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ قَالَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ وَ لَمۡ یُوۡحَ اِلَیۡہِ شَیۡءٌ وَّ مَنۡ قَالَ سَاُنۡزِلُ مِثۡلَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ ؕ وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِیۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ بَاسِطُوۡۤا اَیۡدِیۡہِمۡ ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ اَلۡیَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡہُوۡنِ بِمَا کُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ غَیۡرَ الۡحَقِّ وَ کُنۡتُمۡ عَنۡ اٰیٰتِہٖ تَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۹۳﴾

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو۔ اور جو یہ کہے کہ جس طرح کی کتاب اللہ نے نازل کی ہے اسی طرح کی میں بھی بنا لیتا ہوں اور کاش تم ان ظالم یعنی مشرک لوگوں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں مبتلا ہوں اور فرشتے انکی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں۔ آج تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی اس لئے کہ تم اللہ پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اسکی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے۔

وَ لَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقۡنٰکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ تَرَکۡتُمۡ مَّا خَوَّلۡنٰکُمۡ وَرَآءَ ظُہُوۡرِکُمۡ ۚ وَ مَا نَرٰی مَعَکُمۡ شُفَعَآءَکُمُ الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ اَنَّہُمۡ فِیۡکُمۡ شُرَکٰٓؤُا ؕ لَقَدۡ تَّقَطَّعَ بَیۡنَکُمۡ وَ ضَلَّ عَنۡکُمۡ مَّا کُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴿٪۹۴﴾٪۱۱

اور جیسا ہم نے تم لوگوں کو پہلی بار پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے تم ہمارے پاس آ گئے۔ اور جو مال و متاع ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جنکی نسبت تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے سفارشی اور ہمارے شریک ہیں آج تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہو گئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے۔

اِنَّ اللّٰہَ فَالِقُ الۡحَبِّ وَ النَّوٰی ؕ یُخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ وَ مُخۡرِجُ الۡمَیِّتِ مِنَ الۡحَیِّ ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ فَاَنّٰی تُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۹۵﴾

بیشک اللہ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر ان سے درخت وغیرہ اگا تا ہے وہی جاندار کو بےجان سے نکالتا ہے اور وہی بےجان کا جاندار سے نکالنے والا ہے۔ یہی تو اللہ ہے پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو؟

فَالِقُ الۡاِصۡبَاحِ ۚ وَ جَعَلَ الَّیۡلَ سَکَنًا وَّ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ حُسۡبَانًا ؕ ذٰلِکَ تَقۡدِیۡرُ الۡعَزِیۡزِ الۡعَلِیۡمِ ﴿۹۶﴾

وہی رات کے اندھیرے سے صبح کی روشنی پھاڑ نکالتا ہے اور اسی نے رات کو موجب آرام ٹھہرایا اور سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ بنا دیا یہ اللہ کے مقرر کئے ہوئے اندازے ہیں جو غالب ہے علم والا ہے۔

وَ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ النُّجُوۡمَ لِتَہۡتَدُوۡا بِہَا فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ ؕ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۹۷﴾

اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے رستے معلوم کرو۔ عقل والوں کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں۔

وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ فَمُسۡتَقَرٌّ وَّ مُسۡتَوۡدَعٌ ؕ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّفۡقَہُوۡنَ ﴿۹۸﴾

اور وہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا پھر تمہارے لئے ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی۔ سمجھنے والوں کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں۔

وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَخۡرَجۡنَا بِہٖ نَبَاتَ کُلِّ شَیۡءٍ فَاَخۡرَجۡنَا مِنۡہُ خَضِرًا نُّخۡرِجُ مِنۡہُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًا ۚ وَ مِنَ النَّخۡلِ مِنۡ طَلۡعِہَا قِنۡوَانٌ دَانِیَۃٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّ الزَّیۡتُوۡنَ وَ الرُّمَّانَ مُشۡتَبِہًا وَّ غَیۡرَ مُتَشَابِہٍ ؕ اُنۡظُرُوۡۤا اِلٰی ثَمَرِہٖۤ اِذَاۤ اَثۡمَرَ وَ یَنۡعِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکُمۡ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۹۹﴾

اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینہ برساتا ہے۔ پھر ہم ہی جو مینہ برساتے ہیں اس سے ہر طرح کی نباتات اگاتے ہیں۔ پھر اس میں سے سبز سبز پودے نکالتے ہیں اور ان پودوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں۔ اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور نہیں بھی ملتے یہ چیزیں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلوں پر اور جب پکتی ہیں تو ان کے پکنے پر نظر کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں اللہ کی قدرت کی بہت سی نشانیاں ہیں۔

وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ الۡجِنَّ وَ خَلَقَہُمۡ وَ خَرَقُوۡا لَہٗ بَنِیۡنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾٪٪۱۲

اور ان لوگوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا حالانکہ انکو بھی اسی نے پیدا کیا۔ اور بے سمجھے جھوٹ بہتان اسکے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں۔ وہ ان باتوں سے جو اسکی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے اور اسکی شان ان باتوں سے بلند ہے۔

بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اَنّٰی یَکُوۡنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّ لَمۡ تَکُنۡ لَّہٗ صَاحِبَۃٌ ؕ وَ خَلَقَ کُلَّ شَیۡءٍ ۚ وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۰۱﴾

وہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اسکے اولاد کہاں سے ہو جبکہ اسکی بیوی ہی نہیں اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔

ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ فَاعۡبُدُوۡہُ ۚ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ وَّکِیۡلٌ ﴿۱۰۲﴾

یہی اوصاف رکھنے والا اللہ تمہارا پررودگار ہے اسکے سوا کوئی معبود نہیں وہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے تو اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز کا نگران ہے۔

لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَ ہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ ۚ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۱۰۳﴾

وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں جبکہ وہ نگاہوں کا ادراک کر لیتا ہے۔ اور وہ بھید جاننے والا ہے خبردار ہے۔

قَدۡ جَآءَکُمۡ بَصَآئِرُ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ۚ فَمَنۡ اَبۡصَرَ فَلِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ عَمِیَ فَعَلَیۡہَا ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیۡکُمۡ بِحَفِیۡظٍ ﴿۱۰۴﴾

اے پیغمبر ان سے کہدو کہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے روشن دلیلیں پہنچ چکی ہیں تو جس نے ان کو آنکھ کھول کر دیکھا اس نے اپنا بھلا کیا اور جو اندھا بنا رہا اس نے اپنے حق میں برا کیا اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں۔

وَ کَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ وَ لِیَقُوۡلُوۡا دَرَسۡتَ وَ لِنُبَیِّنَہٗ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾

اور ہم اسی طرح اپنی آیتیں پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ کافر یہ نہ کہیں کہ تم یہ باتیں اہل کتاب سے سیکھے ہوئے ہو اور تاکہ ہم سمجھنے والے لوگوں کے لئے تشریح کر دیں۔

اِتَّبِعۡ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾

اور جو حکم تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آتا ہے اسی کی پیروی کرو اس پروردگار کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور مشرکوں سے کنارہ کر لو۔

وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَاۤ اَشۡرَکُوۡا ؕ وَ مَا جَعَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ حَفِیۡظًا ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿۱۰۷﴾

اور اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ اور اے پیغمبر ہم نے تمکو ان پر نگہبان مقرر نہیں کیا۔ اور نہ تم ان کے داروغہ ہو۔

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَہُمۡ ۪ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ مَّرۡجِعُہُمۡ فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۰۸﴾

اور جن لوگوں کو یہ مشرک اللہ کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں اللہ کو بے ادبی سے بے سمجھے برا نہ کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک امت کے اعمال انکی نظروں میں اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر انکو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ انکو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کیا کرتے تھے۔

وَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ لَئِنۡ جَآءَتۡہُمۡ اٰیَۃٌ لَّیُؤۡمِنُنَّ بِہَا ؕ قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰیٰتُ عِنۡدَ اللّٰہِ وَ مَا یُشۡعِرُکُمۡ ۙ اَنَّہَاۤ اِذَا جَآءَتۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾

اور یہ لوگ اللہ کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو اس پر ضرور ایمان لے آئیں۔ کہدو کہ نشانیاں تو سب اللہ ہی کے پاس ہیں اور مومنو! تمہیں کیا معلوم ہے یہ تو ایسے بدبخت ہیں کہ انکے پاس نشانیاں آ بھی جائیں تب بھی ایمان نہ لائیں۔

وَ نُقَلِّبُ اَفۡـِٕدَتَہُمۡ وَ اَبۡصَارَہُمۡ کَمَا لَمۡ یُؤۡمِنُوۡا بِہٖۤ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ نَذَرُہُمۡ فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾٪٪۱۳

اور ہم انکے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے تو جیسے یہ اس قرآن پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے ویسے پھر نہ لائیں گے اور ہم انکو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔

وَ لَوۡ اَنَّنَا نَزَّلۡنَاۤ اِلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃَ وَ کَلَّمَہُمُ الۡمَوۡتٰی وَ حَشَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ کُلَّ شَیۡءٍ قُبُلًا مَّا کَانُوۡا لِیُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ یَجۡہَلُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾

اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود بھی کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے۔ مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں۔

وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیۡنَ الۡاِنۡسِ وَ الۡجِنِّ یُوۡحِیۡ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ زُخۡرُفَ الۡقَوۡلِ غُرُوۡرًا ؕ وَ لَوۡ شَآءَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوۡہُ فَذَرۡہُمۡ وَ مَا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾

اور اسی طرح ہم نے شیطان سیرت انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا۔ وہ دھوکا دینے کے لئے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی ہوئی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے سو ان کو اور جو کچھ یہ افترا کرتے ہیں اسے چھوڑ دو۔

وَ لِتَصۡغٰۤی اِلَیۡہِ اَفۡـِٕدَۃُ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ وَ لِیَرۡضَوۡہُ وَ لِیَقۡتَرِفُوۡا مَا ہُمۡ مُّقۡتَرِفُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾

اور وہ ایسے کام اس لئے بھی کرتے تھے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انہیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہی کرنے لگیں۔

اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡتَغِیۡ حَکَمًا وَّ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ اِلَیۡکُمُ الۡکِتٰبَ مُفَصَّلًا ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَعۡلَمُوۡنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌ مِّنۡ رَّبِّکَ بِالۡحَقِّ فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾

کہو کیا میں اللہ کے سوا اور منصف تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہاری طرف صاف مضامین والی کتاب بھیجی ہے۔ اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب یعنی تورات دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے سو تم ہر گز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

وَ تَمَّتۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدۡقًا وَّ عَدۡلًا ؕ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ ۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۱۱۵﴾

اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اسکی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا ہے جانتا ہے۔

وَ اِنۡ تُطِعۡ اَکۡثَرَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ یُضِلُّوۡکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾

اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں گمراہ ہیں اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں اللہ کا رستہ بھلا دیں گے۔ یہ محض گمان کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔

اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ مَنۡ یَّضِلُّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ۚ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۱۷﴾

تمہارا پروردگار ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چل رہے ہیں۔

فَکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ بِاٰیٰتِہٖ مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۸﴾

سو جس چیز پر ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا جائے اگر تم اسکی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھا لیا کرو۔

وَ مَا لَکُمۡ اَلَّا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ وَ قَدۡ فَصَّلَ لَکُمۡ مَّا حَرَّمَ عَلَیۡکُمۡ اِلَّا مَا اضۡطُرِرۡتُمۡ اِلَیۡہِ ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا لَّیُضِلُّوۡنَ بِاَہۡوَآئِہِمۡ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾

اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر اللہ کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لئے حرام ٹھیرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں بیشک انکو نہیں کھانا چاہیے مگر اس صورت میں کہ انکے کھانے کے لئے ناچار ہو جاؤ۔ اور بہت سے لوگ بے سمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکا رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے۔

وَ ذَرُوۡا ظَاہِرَ الۡاِثۡمِ وَ بَاطِنَہٗ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡسِبُوۡنَ الۡاِثۡمَ سَیُجۡزَوۡنَ بِمَا کَانُوۡا یَقۡتَرِفُوۡنَ ﴿۱۲۰﴾

اور ظاہری اور پوشیدہ ہر طرح کا گناہ ترک کر دو۔ جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے کئے کی سزا پائیں گے۔

وَ لَا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا لَمۡ یُذۡکَرِ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ وَ اِنَّہٗ لَفِسۡقٌ ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ لَیُوۡحُوۡنَ اِلٰۤی اَوۡلِیٰٓئِہِمۡ لِیُجَادِلُوۡکُمۡ ۚ وَ اِنۡ اَطَعۡتُمُوۡہُمۡ اِنَّکُمۡ لَمُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۲۱﴾٪٪۱۴

اور جس چیز پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اسکا کھانا گناہ ہے اور شیطان لوگ اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بیشک تم بھی مشرک ہوئے۔

اَوَ مَنۡ کَانَ مَیۡتًا فَاَحۡیَیۡنٰہُ وَ جَعَلۡنَا لَہٗ نُوۡرًا یَّمۡشِیۡ بِہٖ فِی النَّاسِ کَمَنۡ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیۡسَ بِخَارِجٍ مِّنۡہَا ؕ کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾

بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اسکو زندہ کیا اور اسکے لئے روشنی کر دی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی نہ سکے۔ اسی طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انہیں اچھے معلوم ہو تے ہیں۔

وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنَا فِیۡ کُلِّ قَرۡیَۃٍ اَکٰبِرَ مُجۡرِمِیۡہَا لِیَمۡکُرُوۡا فِیۡہَا ؕ وَ مَا یَمۡکُرُوۡنَ اِلَّا بِاَنۡفُسِہِمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرموں کو موقع دیا کہ اس میں مکاریاں کرتے رہیں۔ اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہیں کو ہے اور اس سے بے خبر ہیں۔

وَ اِذَا جَآءَتۡہُمۡ اٰیَۃٌ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ حَتّٰی نُؤۡتٰی مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ ؕۘؔ اَللّٰہُ اَعۡلَمُ حَیۡثُ یَجۡعَلُ رِسَالَتَہٗ ؕ سَیُصِیۡبُ الَّذِیۡنَ اَجۡرَمُوۡا صَغَارٌ عِنۡدَ اللّٰہِ وَ عَذَابٌ شَدِیۡدٌۢ بِمَا کَانُوۡا یَمۡکُرُوۡنَ ﴿۱۲۴﴾

اور جب انکے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت اللہ کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اسکو اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ رسالت کا کونسا موقع ہے اور وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے۔ جو لوگ جرم کرتے ہیں انکو اللہ کے ہاں ذلت نصیب ہو گی اور عذاب شدید ہوگا اس لئے کہ مکاریاں کرتے تھے۔

فَمَنۡ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنۡ یَّہۡدِیَہٗ یَشۡرَحۡ صَدۡرَہٗ لِلۡاِسۡلَامِ ۚ وَ مَنۡ یُّرِدۡ اَنۡ یُّضِلَّہٗ یَجۡعَلۡ صَدۡرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ ؕ کَذٰلِکَ یَجۡعَلُ اللّٰہُ الرِّجۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۲۵﴾

تو جس شخص کو اللہ چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے۔ گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ اس طرح اللہ ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے۔

وَ ہٰذَا صِرَاطُ رَبِّکَ مُسۡتَقِیۡمًا ؕ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۲۶﴾

اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا رستہ ہے جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں۔

لَہُمۡ دَارُ السَّلٰمِ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ وَ ہُوَ وَلِیُّہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾

ان کے لئے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے۔ اور وہی انکا دوست ہے۔

وَ یَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ۚ یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ قَدِ اسۡتَکۡثَرۡتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ ۚ وَ قَالَ اَوۡلِیٰٓؤُہُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ وَّ بَلَغۡنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیۡۤ اَجَّلۡتَ لَنَا ؕ قَالَ النَّارُ مَثۡوٰىکُمۡ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۲۸﴾

اور جس دن وہ سب جن و انس کو جمع کرے گا اور فرمائے گا کہ اے گروہ جنات تم نے انسانوں سے بہت فائدے حاصل کئے۔ تو جو انسانوں میں انکے دوست ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ حاصل کرتے رہے۔ اور آخر اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لئے مقرر کیا تھا۔ اللہ فرمائے گا اب تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے ہمیشہ اس میں جلتے رہو گے مگر جو اللہ چاہے۔ بیشک تمہارا پروردگار دانا ہے خبردار ہے۔

وَ کَذٰلِکَ نُوَلِّیۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِیۡنَ بَعۡضًۢا بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۱۲۹﴾٪٪۱۵

اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کے قریب کر دیں گے۔

یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ وَ یُنۡذِرُوۡنَکُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا ؕ قَالُوۡا شَہِدۡنَا عَلٰۤی اَنۡفُسِنَا وَ غَرَّتۡہُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا وَ شَہِدُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ اَنَّہُمۡ کَانُوۡا کٰفِرِیۡنَ ﴿۱۳۰﴾

اے جنوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور تمہارے اس دن کے سامنے آ موجود ہونے سے ڈراتے تھے۔ وہ کہیں گے کہ پروردگار ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے۔ اور ان لوگوں کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ اور اب خود انہوں نے اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے۔

ذٰلِکَ اَنۡ لَّمۡ یَکُنۡ رَّبُّکَ مُہۡلِکَ الۡقُرٰی بِظُلۡمٍ وَّ اَہۡلُہَا غٰفِلُوۡنَ ﴿۱۳۱﴾

اے نبی یہ جو پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں تو اس لئے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے رہنے والوں کو کچھ بھی خبر نہ ہو۔

وَ لِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا ؕ وَ مَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۳۲﴾

اور سب لوگوں کے بلحاظ اعمال درجے مقرر ہیں اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اللہ ان سے بیخبر نہیں۔

وَ رَبُّکَ الۡغَنِیُّ ذُو الرَّحۡمَۃِ ؕ اِنۡ یَّشَاۡ یُذۡہِبۡکُمۡ وَ یَسۡتَخۡلِفۡ مِنۡۢ بَعۡدِکُمۡ مَّا یَشَآءُ کَمَاۤ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنۡ ذُرِّیَّۃِ قَوۡمٍ اٰخَرِیۡنَ ﴿۱۳۳﴾ؕ

اور تمہارا پروردگار تو بے نیاز ہے صاحب رحمت ہے۔ اگر چاہے تو اے بندو تمہیں نابود کر دے اور تمہارے بعد جن لوگوں کو چاہے تمہارا جانشین بنا دے جیسا تم کو بھی دوسرے لوگوں کی نسل سے پیدا کیا ہے۔

اِنَّ مَا تُوۡعَدُوۡنَ لَاٰتٍ ۙ وَّ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿۱۳۴﴾

کچھ شک نہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ پورا ہونے والا ہے۔ اور تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے۔

قُلۡ یٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰی مَکَانَتِکُمۡ اِنِّیۡ عَامِلٌ ۚ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ۙ مَنۡ تَکُوۡنُ لَہٗ عَاقِبَۃُ الدَّارِ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۱۳۵﴾

کہدو کہ لوگو تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ میں اپنی جگہ عمل کئے جاتا ہوں۔ عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا کہ آخرت میں بہشت کس کا گھر ہو گا۔ کچھ شک نہیں کہ مشرک کامیاب نہیں ہوں گے۔

وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الۡحَرۡثِ وَ الۡاَنۡعَامِ نَصِیۡبًا فَقَالُوۡا ہٰذَا لِلّٰہِ بِزَعۡمِہِمۡ وَ ہٰذَا لِشُرَکَآئِنَا ۚ فَمَا کَانَ لِشُرَکَآئِہِمۡ فَلَا یَصِلُ اِلَی اللّٰہِ ۚ وَ مَا کَانَ لِلّٰہِ فَہُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَآئِہِمۡ ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿۱۳۶﴾

اور یہ لوگ اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور مویشیوں میں اللہ کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال باطل سے کہتے ہیں کہ یہ حصہ تو اللہ کا اور یہ ہمارے شریکوں یعنی بتوں کا۔ تو جو حصہ انکے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں جا سکتا۔ اور جو حصہ اللہ کا ہوتا ہے وہ انکے شریکوں کی طرف جا سکتا ہے۔ کیا برا حکم لگاتے ہیں۔

وَ کَذٰلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیۡرٍ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ قَتۡلَ اَوۡلَادِہِمۡ شُرَکَآؤُہُمۡ لِیُرۡدُوۡہُمۡ وَ لِیَلۡبِسُوۡا عَلَیۡہِمۡ دِیۡنَہُمۡ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا فَعَلُوۡہُ فَذَرۡہُمۡ وَ مَا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۱۳۷﴾

اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں یعنی شیطانوں نے ان کے بچوں کو جان سے مار ڈالنا اچھا کر دکھایا ہے تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کر دیں۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے سو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔

وَ قَالُوۡا ہٰذِہٖۤ اَنۡعَامٌ وَّ حَرۡثٌ حِجۡرٌ ٭ۖ لَّا یَطۡعَمُہَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ بِزَعۡمِہِمۡ وَ اَنۡعَامٌ حُرِّمَتۡ ظُہُوۡرُہَا وَ اَنۡعَامٌ لَّا یَذۡکُرُوۡنَ اسۡمَ اللّٰہِ عَلَیۡہَا افۡتِرَآءً عَلَیۡہِ ؕ سَیَجۡزِیۡہِمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۱۳۸﴾

اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ مویشی اور کھیتی منع ہے۔ اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور بعض مویشی ایسے ہیں کہ انکی پیٹھ پر چڑھنا منع کر دیا گیا ہے۔ اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتے۔ یہ سب اللہ پر جھوٹ ہے۔ وہ عنقریب ان کو ان کے جھوٹ کا بدلہ دے گا۔

وَ قَالُوۡا مَا فِیۡ بُطُوۡنِ ہٰذِہِ الۡاَنۡعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوۡرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤی اَزۡوَاجِنَا ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مَّیۡتَۃً فَہُمۡ فِیۡہِ شُرَکَآءُ ؕ سَیَجۡزِیۡہِمۡ وَصۡفَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۳۹﴾

اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچہ ان مویشیوں کے پیٹ میں ہے وہ صرف ہمارے مردوں کے لئے ہے۔ اور ہماری عورتوں کو اس کا کھانا حرام ہے۔ اور اگر وہ بچہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں عنقریب اللہ انہیں انکی اس تجویز پر سزا دے گا۔ بیشک وہ حکمت والا ہے خبردار ہے۔

قَدۡ خَسِرَ الَّذِیۡنَ قَتَلُوۡۤا اَوۡلَادَہُمۡ سَفَہًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّ حَرَّمُوۡا مَا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ افۡتِرَآءً عَلَی اللّٰہِ ؕ قَدۡ ضَلُّوۡا وَ مَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۴۰﴾٪٪۱۶

جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بیوقوفی سے ناسمجھی سے قتل کیا اور اللہ پر افترا کر کے اسکی عطا فرمائی ہوئی روزی کو حرام ٹھہرایا وہ گھاٹے میں پڑ گئے۔ وہ بلا شبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں۔

وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَ جَنّٰتٍ مَّعۡرُوۡشٰتٍ وَّ غَیۡرَ مَعۡرُوۡشٰتٍ وَّ النَّخۡلَ وَ الزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا اُکُلُہٗ وَ الزَّیۡتُوۡنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِہًا وَّ غَیۡرَ مُتَشَابِہٍ ؕ کُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِہٖۤ اِذَاۤ اَثۡمَرَ وَ اٰتُوۡا حَقَّہٗ یَوۡمَ حَصَادِہٖ ۫ۖ وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾ۙ

اور اللہ ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی۔ اور کھجور اور کھیتی جنکے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو بعض باتوں میں ایکدوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور بعض باتوں میں نہیں بھی ملتے جب یہ چیزیں پھلیں تو انکے پھل کھاؤ اور جسدن پھل توڑو اور کھیتی کاٹو تو اس کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بیجا نہ اڑانا کہ اللہ بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

وَ مِنَ الۡاَنۡعَامِ حَمُوۡلَۃً وَّ فَرۡشًا ؕ کُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۴۲﴾ۙ

اور مویشیوں میں بوجھ اٹھانے والے یعنی بڑے بڑے بھی پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے یعنی چھوٹے چھوٹے بھی پس اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

ثَمٰنِیَۃَ اَزۡوَاجٍ ۚ مِنَ الضَّاۡنِ اثۡنَیۡنِ وَ مِنَ الۡمَعۡزِ اثۡنَیۡنِ ؕ قُلۡ ءٰٓالذَّکَرَیۡنِ حَرَّمَ اَمِ الۡاُنۡثَیَیۡنِ اَمَّا اشۡتَمَلَتۡ عَلَیۡہِ اَرۡحَامُ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ؕ نَبِّـُٔوۡنِیۡ بِعِلۡمٍ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۴۳﴾ۙ

یہ بڑے چھوٹے مویشی آٹھ قسم کے ہیں دو دو بھیڑوں میں سے اور دو دو بکریوں میں سے یعنی ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ اے پیغمبر ان سے پوچھو کہ اللہ نے دونوں کے نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں کی ماداؤں کو یا جو بچہ ماداؤں کے پیٹ میں ہے اسے اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ۔

وَ مِنَ الۡاِبِلِ اثۡنَیۡنِ وَ مِنَ الۡبَقَرِ اثۡنَیۡنِ ؕ قُلۡ ءٰٓالذَّکَرَیۡنِ حَرَّمَ اَمِ الۡاُنۡثَیَیۡنِ اَمَّا اشۡتَمَلَتۡ عَلَیۡہِ اَرۡحَامُ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ؕ اَمۡ کُنۡتُمۡ شُہَدَآءَ اِذۡ وَصّٰکُمُ اللّٰہُ بِہٰذَا ۚ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾٪٪۱۷

اور دو دو اونٹوں میں سے اور دو دو گایوں میں سے انکے بارے میں بھی ان سے پوچھو کہ اللہ نے دونوں کے نروں کر حرام کیا ہے یا دونوں کی ماداؤں کو یا جو بچہ ماداؤں کے پیٹ میں ہے اس کو۔ بھلا جس وقت اللہ نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے؟ اب اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے تاکہ بے جانے بوجھے لوگوں کو گمراہ کرے۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

قُلۡ لَّاۤ اَجِدُ فِیۡ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطۡعَمُہٗۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ مَیۡتَۃً اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا اَوۡ لَحۡمَ خِنۡزِیۡرٍ فَاِنَّہٗ رِجۡسٌ اَوۡ فِسۡقًا اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّکَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴۵﴾

کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں میں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا۔ بجز اسکے کہ وہ مرا ہوا جانور ہو یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ اور اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا ہے مہربان ہے۔

وَ عَلَی الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمۡنَا کُلَّ ذِیۡ ظُفُرٍ ۚ وَ مِنَ الۡبَقَرِ وَ الۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَیۡہِمۡ شُحُوۡمَہُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُہُوۡرُہُمَاۤ اَوِ الۡحَوَایَاۤ اَوۡ مَا اخۡتَلَطَ بِعَظۡمٍ ؕ ذٰلِکَ جَزَیۡنٰہُمۡ بِبَغۡیِہِمۡ ۫ۖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴿۱۴۶﴾

اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دیئے تھے۔ اور گایوں اور بھیڑ بکریوں سے انکی چربی ان پر حرام کر دی تھی۔ سوائے اسکے جو انکی پیٹھ پر لگی ہو یا آنتوں میں لگی ہو یا ہڈی سے ملی ہو۔ یہ سزا ہم نے انکو انکی شرارت کے سبب دی تھی اور ہم یقینًا سچ کہنے والے ہیں۔

فَاِنۡ کَذَّبُوۡکَ فَقُلۡ رَّبُّکُمۡ ذُوۡ رَحۡمَۃٍ وَّاسِعَۃٍ ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاۡسُہٗ عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۴۷﴾

اب اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کریں تو اے پیغمبر کہدو تمہارا پروردگار بڑی رحمت والا ہے۔ اور اسکا عذاب بھی گنہگار لوگوں سے نہیں ٹلے گا۔

سَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَاۤ اَشۡرَکۡنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمۡنَا مِنۡ شَیۡءٍ ؕ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ حَتّٰی ذَاقُوۡا بَاۡسَنَا ؕ قُلۡ ہَلۡ عِنۡدَکُمۡ مِّنۡ عِلۡمٍ فَتُخۡرِجُوۡہُ لَنَا ؕ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَخۡرُصُوۡنَ ﴿۱۴۸﴾

جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا شرک کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھیراتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے تکذیب کی تھی جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ کر رہے کہدو کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے اگر ہے تو اسے ہمارے سامنے لاؤ۔ تم لوگ تو بس گمان کے پیچھے چلتے اور اٹکل کے تیر چلاتے ہو۔

قُلۡ فَلِلّٰہِ الۡحُجَّۃُ الۡبَالِغَۃُ ۚ فَلَوۡ شَآءَ لَہَدٰىکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۴۹﴾

کہدو کہ اللہ ہی کی حجت غالب ہے پھر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔

قُلۡ ہَلُمَّ شُہَدَآءَکُمُ الَّذِیۡنَ یَشۡہَدُوۡنَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ ہٰذَا ۚ فَاِنۡ شَہِدُوۡا فَلَا تَشۡہَدۡ مَعَہُمۡ ۚ وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ وَ ہُمۡ بِرَبِّہِمۡ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿۱۵۰﴾٪٪۱۸

کہو کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو بتائیں کہ اللہ نے یہ چیزیں حرام کی ہیں۔ پھر اگر وہ آ کر گواہی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور نہ ان کی خواہشوں کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور بتوں کو اپنے پروردگار کے برابر ٹھہراتے ہیں۔

قُلۡ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمۡ عَلَیۡکُمۡ اَلَّا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ۚ وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُکُمۡ وَ اِیَّاہُمۡ ۚ وَ لَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ ۚ وَ لَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالۡحَقِّ ؕ ذٰلِکُمۡ وَصّٰکُمۡ بِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۵۱﴾

کہو کہ لوگو آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کو سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کر دی ہیں انکی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے کہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ بنانا۔ اور ماں باپ سے بدسلوکی نہ کرنا بلکہ حسن سلوک کرتے رہنا اور ناداری کے اندیشے سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تم کو اور انکو ہم ہی رزق دیتے ہیں۔ اور بے حیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ انکے پاس نہ پھٹکنا۔ اور کسی شخص کو جسکے قتل کو اللہ نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا۔ مگر جائز طور پر یعنی جس کا شریعت حکم دے ان باتوں کی وہ تمہیں تاکید کرتا ہے تاکہ تم سمجھو۔

وَ لَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡیَتِیۡمِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ حَتّٰی یَبۡلُغَ اَشُدَّہٗ ۚ وَ اَوۡفُوا الۡکَیۡلَ وَ الۡمِیۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ۚ لَا نُکَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا ۚ وَ اِذَا قُلۡتُمۡ فَاعۡدِلُوۡا وَ لَوۡ کَانَ ذَا قُرۡبٰی ۚ وَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ اَوۡفُوۡا ؕ ذٰلِکُمۡ وَصّٰکُمۡ بِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۱۵۲﴾ۙ

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو۔ یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے۔ اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو۔ ہم کسی کو ذمہ دار نہیں بناتے مگر اسکی طاقت کے مطابق۔ اور جب کسی کی نسبت کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو کہ وہ تمہارا رشتہ دار ہی ہو اور اللہ کے عہد کو پورا کرو ان باتوں کا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔

وَ اَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیۡ مُسۡتَقِیۡمًا فَاتَّبِعُوۡہُ ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمۡ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ ذٰلِکُمۡ وَصّٰکُمۡ بِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۵۳﴾

اور یہ کہ میرا سیدھا رستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور دوسرے رستوں پر نہ چلنا کہ ان پر چل کر اللہ کے رستے سے الگ ہو جاؤ گے ان باتوں کا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔

ثُمَّ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ تَمَامًا عَلَی الَّذِیۡۤ اَحۡسَنَ وَ تَفۡصِیۡلًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لَّعَلَّہُمۡ بِلِقَآءِ رَبِّہِمۡ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾٪٪۱۹

ہاں پھر سن لو کہ ہم نے موسٰی کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ہم ان لوگوں پر جو نیکوکار ہیں نعمت پوری کر دیں اور اس میں ہر چیز کا بیان ہے اور ہدایت ہے اور رحمت ہے تاکہ انکی امت کے لوگ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے کا یقین کریں۔

وَ ہٰذَا کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ مُبٰرَکٌ فَاتَّبِعُوۡہُ وَ اتَّقُوۡا لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۱۵۵﴾ۙ

اور اے کفر کرنے والو یہ کتاب بھی ہمی نے اتاری ہے برکت والی۔ تو اسکی پیروی کرو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے۔

اَنۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اُنۡزِلَ الۡکِتٰبُ عَلٰی طَآئِفَتَیۡنِ مِنۡ قَبۡلِنَا ۪ وَ اِنۡ کُنَّا عَنۡ دِرَاسَتِہِمۡ لَغٰفِلِیۡنَ ﴿۱۵۶﴾ۙ

اور اس لئے اتاری ہے کہ تم یوں نہ کہو کہ ہم سے پہلے دو ہی گروہوں پر کتابیں اتری ہیں اور ہم انکے پڑھنے سے بیخبر تھے۔

اَوۡ تَقُوۡلُوۡا لَوۡ اَنَّاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡنَا الۡکِتٰبُ لَکُنَّاۤ اَہۡدٰی مِنۡہُمۡ ۚ فَقَدۡ جَآءَکُمۡ بَیِّنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ ۚ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ صَدَفَ عَنۡہَا ؕ سَنَجۡزِی الَّذِیۡنَ یَصۡدِفُوۡنَ عَنۡ اٰیٰتِنَا سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ بِمَا کَانُوۡا یَصۡدِفُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾

یا یہ نہ کہو کہ اگر ہم پر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان لوگوں کی نسبت کہیں سیدھے رستے پر ہوتے۔ سو اب تو تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل اور ہدایت اور رحمت آ گئ ہے۔ تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرے اور ان سے لوگوں کو پھیرے جو لوگ ہماری آیتوں سے پھیرتے ہیں اس پھیرنے کے سبب ہم انکو برے عذاب کی سزا دیں گے۔

ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِیَہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَوۡ یَاۡتِیَ رَبُّکَ اَوۡ یَاۡتِیَ بَعۡضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ ؕ یَوۡمَ یَاۡتِیۡ بَعۡضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنۡفَعُ نَفۡسًا اِیۡمَانُہَا لَمۡ تَکُنۡ اٰمَنَتۡ مِنۡ قَبۡلُ اَوۡ کَسَبَتۡ فِیۡۤ اِیۡمَانِہَا خَیۡرًا ؕ قُلِ انۡتَظِرُوۡۤا اِنَّا مُنۡتَظِرُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾

یہ اسکے سوا اور کس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود تمہارا پروردگار آئے یا تمہارے پروردگار کی کوئی خاص نشانی آ جائے جس روز تمہارے پروردگار کی خاص نشانی آ جائے گی تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا یا جس نے اپنے ایمان کی حالت میں نیک عمل نہیں کئے ہوں گے تو گناہوں سے توبہ کرنا مفید نہ ہوگا اے پیغمبر ان سے کہدو کہ تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ ؕ اِنَّمَاۤ اَمۡرُہُمۡ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾

جن لوگوں نے اپنے دین کے حصے بخرے کر لئے اور خود بھی کئ کئ فرقے ہو گئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں ان کا کام اللہ کے حوالے پھر جو جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو سب بتائے گا۔

مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِہَا ۚ وَ مَنۡ جَآءَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلَا یُجۡزٰۤی اِلَّا مِثۡلَہَا وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶۰﴾

جو کوئی اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اسکو ویسی دس نیکیاں ملیں گی۔ اور جو برائی لائے گا تو اسے سزا اس جیسی ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

قُلۡ اِنَّنِیۡ ہَدٰىنِیۡ رَبِّیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ۬ۚ دِیۡنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ۚ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۶۱﴾

کہدو کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے یعنی دین صحیح طریقہ ابراہیم کا جو ایک اللہ ہی کے ہو رہے تھے۔ اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۲﴾ۙ

یہ بھی کہدو کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین ہی کے لئے ہے۔

لَا شَرِیۡکَ لَہٗ ۚ وَ بِذٰلِکَ اُمِرۡتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۶۳﴾

جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی بات کا حکم ملا ہے اور میں سب سے اول فرمانبردار ہوں۔

قُلۡ اَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡغِیۡ رَبًّا وَّ ہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ وَ لَا تَکۡسِبُ کُلُّ نَفۡسٍ اِلَّا عَلَیۡہَا ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ۚ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ مَّرۡجِعُکُمۡ فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾

کہو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور آقا تلاش کروں۔ جبکہ وہی تو ہر چیز کا مالک ہے اور جو کوئی برا کام کرتا ہے تو اسکا ضرر اسی کو ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا۔

وَ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَکُمۡ خَلٰٓئِفَ الۡاَرۡضِ وَ رَفَعَ بَعۡضَکُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبۡلُوَکُمۡ فِیۡ مَاۤ اٰتٰکُمۡ ؕ اِنَّ رَبَّکَ سَرِیۡعُ الۡعِقَابِ ۫ۖ وَ اِنَّہٗ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۶۵﴾٪٪۲۰

اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب دینے والا ہے اور بیشک وہ بخشنے والا ہے مہربان بھی ہے۔

سورۃ المائدۃ سورۃ الاعراف