سورۃ یونس مع اردو ترجمہ

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

الٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۱﴾

الٓرا ۔ یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں۔

اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی رَجُلٍ مِّنۡہُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنَّ لَہُمۡ قَدَمَ صِدۡقٍ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕؔ قَالَ الۡکٰفِرُوۡنَ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۲﴾

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ انکے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے ایسے شخص کی نسبت کافر کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادوگر ہے۔

اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ یُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ ؕ مَا مِنۡ شَفِیۡعٍ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ اِذۡنِہٖ ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۳﴾

تمہارا پروردگار تو اللہ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر جلوہ افروز ہوا وہی ہر ایک کام کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی اسکے پاس اسکی اجازت حاصل کئے بغیر کسی کی سفارش نہیں کر سکتا۔ یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے۔

اِلَیۡہِ مَرۡجِعُکُمۡ جَمِیۡعًا ؕ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقًّا ؕ اِنَّہٗ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ لِیَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالۡقِسۡطِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَہُمۡ شَرَابٌ مِّنۡ حَمِیۡمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ بِمَا کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ ﴿۴﴾

اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اسکو دوبارہ پیدا کرے گا۔ تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے اور جو کافر ہیں انکے لئے پینے کو نہایت کھولتا پانی اور درد دینے والا عذاب ہوگا کیونکہ وہ کفر کرتے تھے۔

ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ الشَّمۡسَ ضِیَآءً وَّ الۡقَمَرَ نُوۡرًا وَّ قَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعۡلَمُوۡا عَدَدَ السِّنِیۡنَ وَ الۡحِسَابَ ؕ مَا خَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ اِلَّا بِالۡحَقِّ ۚ یُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۵﴾

وہی تو ہے جس نے سورج کو خوب روشن اور چاند کو بھی منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور کاموں کا حساب معلوم کرو یہ سب کچھ اللہ نے تدبیر سے پیدا کیا ہے سمجھنے والوں کے لئے وہ اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔

اِنَّ فِی اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَّقُوۡنَ ﴿۶﴾

رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور جو چیزیں اللہ نے آسمان اور زمین میں پیدا کی ہیں سب میں ڈرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوۡا بِالۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ اطۡمَاَنُّوۡا بِہَا وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوۡنَ ۙ﴿۷﴾

جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطمئن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں۔

اُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۸﴾

ان کا ٹھکانہ ان اعمال کے سبب جو وہ کرتے ہیں دوزخ ہے۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَہۡدِیۡہِمۡ رَبُّہُمۡ بِاِیۡمَانِہِمۡ ۚ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہِمُ الۡاَنۡہٰرُ فِیۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۹﴾

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے انکو انکا پروردگار انکے ایمان کی وجہ سے جنتوں میں پہنچا دے گا انکے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہ رہی ہوں گی۔

دَعۡوٰىہُمۡ فِیۡہَا سُبۡحٰنَکَ اللّٰہُمَّ وَ تَحِیَّتُہُمۡ فِیۡہَا سَلٰمٌ ۚ وَ اٰخِرُ دَعۡوٰىہُمۡ اَنِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۱۰﴾

جب وہ ان میں انکی نعمتوں کو دیکھیں گے تو بیساختہ کہیں گے سبحان اللہ۔ اور آپس میں انکی دعا سلام علیکم ہو گی۔ اور ان کا آخری قول یہ ہوگا کہ اللہ رب العالمین کی حمد اور اس کا شکر ہے۔