سورۃ آل عمران مع اردو ترجمہ ۔ رکوع ۱۸

اَلَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِلّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَصَابَہُمُ الۡقَرۡحُ ؕۛ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا مِنۡہُمۡ وَ اتَّقَوۡا اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۷۲﴾ۚ

جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے اللہ اور رسول کے حکم کو قبول کیا۔ جو لوگ ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے۔

اَلَّذِیۡنَ قَالَ لَہُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدۡ جَمَعُوۡا لَکُمۡ فَاخۡشَوۡہُمۡ فَزَادَہُمۡ اِیۡمَانًا ٭ۖ وَّ قَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰہُ وَ نِعۡمَ الۡوَکِیۡلُ ﴿۱۷۳﴾

جب ان سے لوگوں نے آ کر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے مقابلے کے لئے لشکر کثیر جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو۔ تو ان کا ایمان اور زیادہ ہو گیا۔ اور کہنے لگے ہم کو اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔

فَانۡقَلَبُوۡا بِنِعۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَضۡلٍ لَّمۡ یَمۡسَسۡہُمۡ سُوۡٓءٌ ۙ وَّ اتَّبَعُوۡا رِضۡوَانَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ ذُوۡ فَضۡلٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۷۴﴾

پھر وہ اللہ کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ خوش و خرم واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا اور وہ اللہ کی خوشنودی کے تابع رہے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے۔

اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَّیۡطٰنُ یُخَوِّفُ اَوۡلِیَآءَہٗ ۪ فَلَا تَخَافُوۡہُمۡ وَ خَافُوۡنِ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۷۵﴾

یہ خوف دلانے والا تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا۔

وَ لَا یَحۡزُنۡکَ الَّذِیۡنَ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡکُفۡرِ ۚ اِنَّہُمۡ لَنۡ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَلَّا یَجۡعَلَ لَہُمۡ حَظًّا فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۷۶﴾

اور جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں ان کی وجہ سے غمگین نہ ہونا۔ یہ اللہ کا کچھ نقصان نہیں کر سکتے اللہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے اور ان کے لئے بڑا عذاب تیار ہے۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الۡکُفۡرَ بِالۡاِیۡمَانِ لَنۡ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیۡئًا ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۷۷﴾

جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہو گا۔

وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّمَا نُمۡلِیۡ لَہُمۡ خَیۡرٌ لِّاَنۡفُسِہِمۡ ؕ اِنَّمَا نُمۡلِیۡ لَہُمۡ لِیَزۡدَادُوۡۤا اِثۡمًا ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۱۷۸﴾

اور کافر لوگ یہ نہ خیال کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دئیے جاتے ہیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے نہیں بلکہ ہم انکو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کر لیں آخر کار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہو گا۔

مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَذَرَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ عَلٰی مَاۤ اَنۡتُمۡ عَلَیۡہِ حَتّٰی یَمِیۡزَ الۡخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّبِ ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُطۡلِعَکُمۡ عَلَی الۡغَیۡبِ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَجۡتَبِیۡ مِنۡ رُّسُلِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ۪ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ۚ وَ اِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ تَتَّقُوۡا فَلَکُمۡ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۷۹﴾

لوگو جب تک اللہ ناپاک کو پاک سے الگ نہ کر دے گا مومنوں کو اس حال میں جس میں تم ہو ہرگز نہیں رہنے دے گا۔ اور اللہ تم کو غیب کی باتوں سے بھی مطلع نہیں کرے گا۔ البتہ اللہ اپنے پیغمبروں میں سے جسے چاہتا ہے منتخب کر لیتا ہے سو تم اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو۔ اور اگر ایمان پر قائم رہو گے اور پرہیزگاری کرو گے تو تم کو اجر عظیم ملے گا۔

وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبۡخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ بَلۡ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمۡ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۱۸۰﴾٪

جو لوگ مال میں جو اللہ نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں وہ اچھا نہیں بلکہ ان کے لئے برا ہے وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا اور آسمانوں اور زمین کا وارث اللہ ہی ہے اور جو عمل تم کرتے ہو اللہ کو معلوم ہے۔