سورۃ السبا ۔ مکمل مع اردو ترجمہ

سورۃ السبا ۔ مکمل مع اردو ترجمہ

سورۃ سبا مع اردو ترجمہ۔ سورہ سبا مکی سورہ ہے جو کہ ۵۴ آیات اور ۶ رکوع پر مشتمل ہے۔ ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری

Play Audio

Download MP3

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ وَ لَہُ الۡحَمۡدُ فِی الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۱﴾

سب تعریف اللہ ہی کیلئے ہے جو سب چیزوں کا مالک ہے یعنی وہ کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف ہے۔ اور وہ حکمت والا ہے خبردار ہے۔

یَعۡلَمُ مَا یَلِجُ فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا یَخۡرُجُ مِنۡہَا وَ مَا یَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعۡرُجُ فِیۡہَا ؕ وَ ہُوَ الرَّحِیۡمُ الۡغَفُوۡرُ ﴿۲﴾

جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس میں سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس پر چڑھتا ہے سب اسکو معلوم ہے اور وہ مہربان ہے بخشنے والا ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَا تَاۡتِیۡنَا السَّاعَۃُ ؕ قُلۡ بَلٰی وَ رَبِّیۡ لَتَاۡتِیَنَّکُمۡ ۙ عٰلِمِ الۡغَیۡبِ ۚ لَا یَعۡزُبُ عَنۡہُ مِثۡقَالُ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ وَ لَاۤ اَصۡغَرُ مِنۡ ذٰلِکَ وَ لَاۤ اَکۡبَرُ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ٭ۙ﴿۳﴾

اور کافر کہتے ہیں کہ قیامت کی گھڑی ہم پر نہیں آئے گی۔ کہدو کیوں نہیں آئے گی میرے پروردگار کی قسم وہ تم پر ضرور آ کر رہے گی وہ پروردگار غیب کا جاننے والا ہے ذرہ بھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور کوئی چیز ذرے سے بھی بڑی یا چھوٹی نہیں مگر کتاب روشن میں لکھی ہوئی ہے۔

لِّیَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۴﴾

اس لئے کہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے انکو بدلہ دے۔ یہی ہیں جنکے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

وَ الَّذِیۡنَ سَعَوۡ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیۡنَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِیۡمٌ ﴿۵﴾

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کے بارے میں ہمیں ہرانے کی کوشش کی انکے لئے سخت درد دینے والے عذاب کی سزا ہے۔

وَ یَرَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ہُوَ الۡحَقَّ ۙ وَ یَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَمِیۡدِ ﴿۶﴾

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ یقینًا حق ہے۔ اور اس اللہ کا رستہ بتاتا ہے جو غالب ہے قابل تعریف ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ہَلۡ نَدُلُّکُمۡ عَلٰی رَجُلٍ یُّنَبِّئُکُمۡ اِذَا مُزِّقۡتُمۡ کُلَّ مُمَزَّقٍ ۙ اِنَّکُمۡ لَفِیۡ خَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ۚ﴿۷﴾

اور کافر کہتے ہیں کہ بھلا ہم تمہیں ایسا آدمی بتائیں جو تمہیں خبر دیتا ہے کہ جب تم مر کر بالکل ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تم نئے سرے سے پیدا ہو گے۔

اَفۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَمۡ بِہٖ جِنَّۃٌ ؕ بَلِ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ فِی الۡعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الۡبَعِیۡدِ ﴿۸﴾

یا تو اس نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا ہے۔ یا اسے جنون ہے۔ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ آفت اور پرلے درجے کی گمراہی میں پڑے ہیں۔

اَفَلَمۡ یَرَوۡا اِلٰی مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اِنۡ نَّشَاۡ نَخۡسِفۡ بِہِمُ الۡاَرۡضَ اَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَیۡہِمۡ کِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّکُلِّ عَبۡدٍ مُّنِیۡبٍ ٪﴿۹﴾٪۱

کیا انہوں نے اسکو نہیں دیکھا جو انکے آگے اور پیچھے ہے یعنی آسمان اور زمین۔ اگر ہم چاہیں تو انکو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔ اس میں ہر بندے کے لئے جو رجوع کرنے والا ہے ایک نشانی ہے۔

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضۡلًا ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیۡ مَعَہٗ وَ الطَّیۡرَ ۚ وَ اَلَنَّا لَہُ الۡحَدِیۡدَ ﴿ۙ۱۰﴾

اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے برتری بخشی تھی۔ اور کہا تھا اے پہاڑو انکے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو ان کا مسخر کر دیا اور انکے لئے ہم نے لوہے کو نرم کر دیا۔

اَنِ اعۡمَلۡ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرۡ فِی السَّرۡدِ وَ اعۡمَلُوۡا صَالِحًا ؕ اِنِّیۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۱۱﴾

کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کو اندازہ سے جوڑو اور نیک عمل کرو جو عمل تم کرتے ہو میں انکو دیکھنے والا ہوں۔

وَ لِسُلَیۡمٰنَ الرِّیۡحَ غُدُوُّہَا شَہۡرٌ وَّ رَوَاحُہَا شَہۡرٌ ۚ وَ اَسَلۡنَا لَہٗ عَیۡنَ الۡقِطۡرِ ؕ وَ مِنَ الۡجِنِّ مَنۡ یَّعۡمَلُ بَیۡنَ یَدَیۡہِ بِاِذۡنِ رَبِّہٖ ؕ وَ مَنۡ یَّزِغۡ مِنۡہُمۡ عَنۡ اَمۡرِنَا نُذِقۡہُ مِنۡ عَذَابِ السَّعِیۡرِ ﴿۱۲﴾

اور ہوا کو ہم نے سلیمان کے تابع کر دیا تھا اسکی صبح کی منزل ایک مہینے کی راہ ہوتی اور شام کی منزل بھی مہینے بھر کی ہوتی۔ اور انکے لئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا اور جنوں میں سے ایسے تھے جو انکے پروردگار کے حکم سے انکے آگے کام کرتے تھے اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم کیخلاف کرے گا اسکو ہم جہنم کی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔

یَعۡمَلُوۡنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنۡ مَّحَارِیۡبَ وَ تَمَاثِیۡلَ وَ جِفَانٍ کَالۡجَوَابِ وَ قُدُوۡرٍ رّٰسِیٰتٍ ؕ اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُکۡرًا ؕ وَ قَلِیۡلٌ مِّنۡ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ ﴿۱۳﴾

وہ جو چاہتے یہ انکے لئے بناتے یعنی قلعے اور تصویریں اور بڑے بڑے لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں اے آل داؤد شکر کرتے رہو اور میرے بندوں میں شکرگذار تھوڑے ہیں۔

فَلَمَّا قَضَیۡنَا عَلَیۡہِ الۡمَوۡتَ مَا دَلَّہُمۡ عَلٰی مَوۡتِہٖۤ اِلَّا دَآبَّۃُ الۡاَرۡضِ تَاۡکُلُ مِنۡسَاَتَہٗ ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الۡجِنُّ اَنۡ لَّوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ الۡغَیۡبَ مَا لَبِثُوۡا فِی الۡعَذَابِ الۡمُہِیۡنِ ﴿ؕ۱۴﴾

پھر جب ہم نے انکے لئے موت کا حکم صادر کیا تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑے سے جو انکے عصا کو کھاتا رہا پھر جب وہ گر پڑے تب جنوں کو معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے۔

لَقَدۡ کَانَ لِسَبَاٍ فِیۡ مَسۡکَنِہِمۡ اٰیَۃٌ ۚ جَنَّتٰنِ عَنۡ یَّمِیۡنٍ وَّ شِمَالٍ ۬ؕ کُلُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ رَبِّکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لَہٗ ؕ بَلۡدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّ رَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴿۱۵﴾

اہل سبا کے لئے انکے وطن میں ایک نشانی تھی یعنی دو باغ ایک داہنی طرف اور ایک بائیں طرف کہا گیا کہ اپنے پروردگار کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر کرو۔ یہاں تمہارے رہنے کو یہ پاکیزہ علاقہ ہے اور وہاں بڑا بخشنے والا مالک۔

فَاَعۡرَضُوۡا فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ سَیۡلَ الۡعَرِمِ وَ بَدَّلۡنٰہُمۡ بِجَنَّتَیۡہِمۡ جَنَّتَیۡنِ ذَوَاتَیۡ اُکُلٍ خَمۡطٍ وَّ اَثۡلٍ وَّ شَیۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِیۡلٍ ﴿۱۶﴾

تو انہوں نے شکرگذاری سے منہ پھیر لیا پس ہم نے ان پر بند توڑ سیلاب چھوڑ دیا اور انہیں انکے باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیئے جنکے میوے بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ کے پیڑ تھے اور تھوڑی سی بیریاں۔

ذٰلِکَ جَزَیۡنٰہُمۡ بِمَا کَفَرُوۡا ؕ وَ ہَلۡ نُجٰزِیۡۤ اِلَّا الۡکَفُوۡرَ ﴿۱۷﴾

یہ ہم نے انکو ناشکری کی سزا دی۔ اور ہم سزا ناشکرے ہی کو دیا کرتے ہیں۔

وَ جَعَلۡنَا بَیۡنَہُمۡ وَ بَیۡنَ الۡقُرَی الَّتِیۡ بٰرَکۡنَا فِیۡہَا قُرًی ظَاہِرَۃً وَّ قَدَّرۡنَا فِیۡہَا السَّیۡرَ ؕ سِیۡرُوۡا فِیۡہَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیۡنَ ﴿۱۸﴾

اور ہم نے انکے اور ملک شام کی ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی ایک دوسرے کے متصل دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمدورفت کا اندازہ مقرر کر دیا تھا کہ رات دن بےخوف و خطر چلتے رہو۔

فَقَالُوۡا رَبَّنَا بٰعِدۡ بَیۡنَ اَسۡفَارِنَا وَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَجَعَلۡنٰہُمۡ اَحَادِیۡثَ وَ مَزَّقۡنٰہُمۡ کُلَّ مُمَزَّقٍ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ ﴿۱۹﴾

تو انہوں نے دعا کی کہ اے پروردگار ہماری مسافتوں میں دوری پیدا کر دے اور اس سے انہوں نے اپنے حق میں ظلم کیا تو ہم نے انہیں نابود کر کے داستان بنا دیا اور انہیں بالکل منتشر کر دیا اس میں ہر صابر و شاکر کے لئے نشانیاں ہیں۔

وَ لَقَدۡ صَدَّقَ عَلَیۡہِمۡ اِبۡلِیۡسُ ظَنَّہٗ فَاتَّبَعُوۡہُ اِلَّا فَرِیۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۰﴾

اور شیطان نے انکے بارے میں اپنا خیال سچ کر دکھایا کہ مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اسکے پیچھے چل پڑے۔

وَ مَا کَانَ لَہٗ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَۃِ مِمَّنۡ ہُوَ مِنۡہَا فِیۡ شَکٍّ ؕ وَ رَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَفِیۡظٌ ﴿٪۲۱﴾٪۲

اور اس کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر ہمارا مقصود یہ تھا کہ جو لوگ آخرت میں شک رکھتے ہیں ان سے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان رکھتے ہیں ممتاز کر دیں۔ اور تمہارا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے۔

قُلِ ادۡعُوا الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ۚ لَا یَمۡلِکُوۡنَ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا لَہُمۡ فِیۡہِمَا مِنۡ شِرۡکٍ وَّ مَا لَہٗ مِنۡہُمۡ مِّنۡ ظَہِیۡرٍ ﴿۲۲﴾

کہدو کہ جنکو تم اللہ کے سوا معبود خیال کرتے ہو انکو بلاؤ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ان میں انکی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔

وَ لَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَہٗ ؕ حَتّٰۤی اِذَا فُزِّعَ عَنۡ قُلُوۡبِہِمۡ قَالُوۡا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّکُمۡ ؕ قَالُوا الۡحَقَّ ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡکَبِیۡرُ ﴿۲۳﴾

اور اللہ کے ہاں کسی کے لئے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لئے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے یہاں تک کہ جب انکے دلوں سے اضطراب دور کر دیا جائے گا تو کہیں گے کہ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے۔ فرشتے کہیں گے کہ حق فرمایا ہے اور وہ عالی رتبہ ہے گرامی قدر ہے۔

قُلۡ مَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ قُلِ اللّٰہُ ۙ وَ اِنَّاۤ اَوۡ اِیَّاکُمۡ لَعَلٰی ہُدًی اَوۡ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۴﴾

پوچھو کہ تمکو آسمانوں اور زمین سے کون رزق دیتا ہے؟ کہو کہ اللہ اور ہم یا تم یا تو سیدھے رستے پر ہیں یا کھلم کھلا گمراہی میں۔

قُلۡ لَّا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّاۤ اَجۡرَمۡنَا وَ لَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۵﴾

کہدو کہ نہ ہمارے گناہوں کی تم سے پرسش ہو گی اور نہ تمہارے اعمال کی ہم سے پرسش ہو گی۔

قُلۡ یَجۡمَعُ بَیۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفۡتَحُ بَیۡنَنَا بِالۡحَقِّ ؕ وَ ہُوَ الۡفَتَّاحُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۲۶﴾

کہدو کہ ہمارا پروردگار ہمکو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے گا اور وہ خوب فیصلہ کرنے والا ہے صاحب علم ہے۔

قُلۡ اَرُوۡنِیَ الَّذِیۡنَ اَلۡحَقۡتُمۡ بِہٖ شُرَکَآءَ کَلَّا ؕ بَلۡ ہُوَ اللّٰہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۲۷﴾

کہو کہ مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جنکو تم نے اللہ کا شریک بنا کر اسکے ساتھ ملا رکھا ہے۔ کوئی نہیں بلکہ وہی اللہ غالب ہے حکمت والا ہے۔

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۸﴾

اور اے محمد ﷺ ہم نے تمکو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۹﴾

اور کہتے ہیں اگر تم سچ کہتے ہو تو بتاؤ یہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہو گا؟

قُلۡ لَّکُمۡ مِّیۡعَادُ یَوۡمٍ لَّا تَسۡتَاۡخِرُوۡنَ عَنۡہُ سَاعَۃً وَّ لَا تَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿٪۳۰﴾٪۳

کہدو کہ تم سے ایک ایسے دن کا وعدہ ہے جس سے نہ ایک گھڑی پیچھے رہو گے اور نہ آگے بڑھو گے۔

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ بِہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ ؕ وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ مَوۡقُوۡفُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۚۖ یَرۡجِعُ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضِۣ الۡقَوۡلَ ۚ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا لِلَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡا لَوۡ لَاۤ اَنۡتُمۡ لَکُنَّا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۳۱﴾

اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان کتابوں کو جو اس سے پہلے کی ہیں اور کاش ان ظالموں کو تم اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے پر الزام دھر رہے ہوں گے۔ جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لے آتے۔

قَالَ الَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡا لِلَّذِیۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡۤا اَنَحۡنُ صَدَدۡنٰکُمۡ عَنِ الۡہُدٰی بَعۡدَ اِذۡ جَآءَکُمۡ بَلۡ کُنۡتُمۡ مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿۳۲﴾

جو لوگ بڑے بن بیٹھے تھے وہ کمزوروں سے کہیں گے کہ بھلا ہم نے تمکو ہدایت سے جب وہ تمہارے پاس آ چکی تھی روکا تھا نہیں بلکہ تم ہی گنہگار تھے۔

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا لِلَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡا بَلۡ مَکۡرُ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ اِذۡ تَاۡمُرُوۡنَنَاۤ اَنۡ نَّکۡفُرَ بِاللّٰہِ وَ نَجۡعَلَ لَہٗۤ اَنۡدَادًا ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ ؕ وَ جَعَلۡنَا الۡاَغۡلٰلَ فِیۡۤ اَعۡنَاقِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ ہَلۡ یُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۳۳﴾

اور کمزور لوگ ان بڑے لوگوں سے کہیں گے نہیں بلکہ تمہاری رات دن کی چالوں نے ہمیں روک رکھا تھا جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور اس کا شریک بنائیں۔ اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔ اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔ بس جو اعمال وہ کرتے تھے انہی کا ان کو بدلہ ملے گا۔

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِیۡ قَرۡیَۃٍ مِّنۡ نَّذِیۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡہَاۤ ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِہٖ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۴﴾

اور ہم نے جس بستی میں بھی کوئی ڈرانے والا بھیجا تو وہاں کے خوشحال لوگوں نے یہ ضرور کہا کہ تم لوگ جو چیز دے کر بھیجے گئے ہو ہم اسکو نہیں مانیں گے۔

وَ قَالُوۡا نَحۡنُ اَکۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّ اَوۡلَادًا ۙ وَّ مَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِیۡنَ ﴿۳۵﴾

اور یہ بھی کہنے لگے کہ ہم بہت سا مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہمکو عذاب نہیں ہو گا۔

قُلۡ اِنَّ رَبِّیۡ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۳۶﴾٪۴

کہدو کہ میرا رب جسکے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور جسکے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ مَاۤ اَمۡوَالُکُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُکُمۡ بِالَّتِیۡ تُقَرِّبُکُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰۤی اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ۫ فَاُولٰٓئِکَ لَہُمۡ جَزَآءُ الضِّعۡفِ بِمَا عَمِلُوۡا وَ ہُمۡ فِی الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ ﴿۳۷﴾

اور تمہارے مال اور اولاد ایسی چیز نہیں کہ تمکو ہم سے قریب کر دیں ہاں ہمارا مقرب وہ ہے جو ایمان لایا اور عمل نیک کرتا رہا ایسے ہی لوگوں کو انکے اعمال کے سبب دگنا بدلہ ملے گا اور وہ امن و چین سے بلند و بالا عمارتوں میں رہیں گے۔

وَ الَّذِیۡنَ یَسۡعَوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیۡنَ اُولٰٓئِکَ فِی الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ ﴿۳۸﴾

جو لوگ ہماری آیتوں کے سلسلے میں ہمیں ہرانے کی کوشش کرتے ہیں وہ گرفتار عذاب کئے جائیں گے۔

قُلۡ اِنَّ رَبِّیۡ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ وَ یَقۡدِرُ لَہٗ ؕ وَ مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَہُوَ یُخۡلِفُہٗ ۚ وَ ہُوَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۳۹﴾

کہدو کہ میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جسکے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے اور تم جو چیز خرچ کرو گے وہ اس کا تمہیں عوض دے گا۔ وہ سب سے اچھا رزق دینے والا ہے۔

وَ یَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ یَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اَہٰۤؤُلَآءِ اِیَّاکُمۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ ﴿۴۰﴾

اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا۔ کیا یہ لوگ تمکو پوجا کرتے تھے۔

قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ اَنۡتَ وَلِیُّنَا مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ بَلۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ ۚ اَکۡثَرُہُمۡ بِہِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۴۱﴾

وہ کہیں گے تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے نہ کہ یہ بلکہ یہ جنات کو پوجا کرتے تھے۔ اور اکثر ان ہی کو مانتے تھے۔

فَالۡیَوۡمَ لَا یَمۡلِکُ بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ نَّفۡعًا وَّ لَا ضَرًّا ؕ وَ نَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ بِہَا تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۴۲﴾

تو آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ اب دوزخ کے عذاب کا جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے مزہ چکھو۔

وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوۡا مَا ہٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیۡدُ اَنۡ یَّصُدَّکُمۡ عَمَّا کَانَ یَعۡبُدُ اٰبَآؤُکُمۡ ۚ وَ قَالُوۡا مَا ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفۡکٌ مُّفۡتَرًی ؕ وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ ۙ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۴۳﴾

اور جب انکو ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ایک ایسا شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے ان سے تمکو روک دے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ قرآن محض جھوٹ ہے جو اپنی طرف سے بنا لیا گیا ہے اور کافروں کے پاس جب حق آیا تو اسکے بارے میں کہنے لگے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔

وَ مَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ کُتُبٍ یَّدۡرُسُوۡنَہَا وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہِمۡ قَبۡلَکَ مِنۡ نَّذِیۡرٍ ﴿ؕ۴۴﴾

اور ہم نے نہ تو ان مشرکوں کو کتابیں دیں جنکو یہ پڑھتے ہوں اور اے نبی ﷺ نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا بھیجا۔

وَ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۙ وَ مَا بَلَغُوۡا مِعۡشَارَ مَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ فَکَذَّبُوۡا رُسُلِیۡ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ نَکِیۡرِ ﴿٪۴۵﴾٪۵

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی اور جو کچھ ہم نے انکو دیا تھا یہ اسکے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے پھر انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا سو میرا عذاب کیسا ہوا؟

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَعِظُکُمۡ بِوَاحِدَۃٍ ۚ اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلّٰہِ مَثۡنٰی وَ فُرَادٰی ثُمَّ تَتَفَکَّرُوۡا ۟ مَا بِصَاحِبِکُمۡ مِّنۡ جِنَّۃٍ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا نَذِیۡرٌ لَّکُمۡ بَیۡنَ یَدَیۡ عَذَابٍ شَدِیۡدٍ ﴿۴۶﴾

کہدو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہو جاؤ پھر غور کرو۔ تمہارے رفیق یعنی اس نبی ﷺ کو کسی طرح کا جنون نہیں یہ تو تمکو سخت عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے والے ہیں۔

قُلۡ مَا سَاَلۡتُکُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ فَہُوَ لَکُمۡ ؕ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ ۚ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۴۷﴾

کہدو کہ میں نے تم سے کچھ صلہ مانگا ہو تو وہ تمہارا۔ میرا صلہ اللہ ہی کے ذمے ہے۔ اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے۔

قُلۡ اِنَّ رَبِّیۡ یَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ ۚ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ ﴿۴۸﴾

کہدو کہ میرا پروردگار اوپر سے حق ہی نازل کرتا ہے اور وہ غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے۔

قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَ مَا یُبۡدِئُ الۡبَاطِلُ وَ مَا یُعِیۡدُ ﴿۴۹﴾

کہدو کہ حق آ چکا اور باطل نہ تو پہلے کچھ کر سکتا ہے اور نہ دوبارہ کچھ کرے گا۔

قُلۡ اِنۡ ضَلَلۡتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰی نَفۡسِیۡ ۚ وَ اِنِ اہۡتَدَیۡتُ فَبِمَا یُوۡحِیۡۤ اِلَیَّ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ سَمِیۡعٌ قَرِیۡبٌ ﴿۵۰﴾

کہدو کہ اگر میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی کا ضرر مجھی کو ہے۔ اور اگر ہدایت پر ہوں تو یہ اس وحی کے طفیل ہے جو میرا پروردگار میری طرف بھیجتا ہے۔ بیشک وہ سننے والا ہے نزدیک ہے۔

وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ فَزِعُوۡا فَلَا فَوۡتَ وَ اُخِذُوۡا مِنۡ مَّکَانٍ قَرِیۡبٍ ﴿ۙ۵۱﴾

اور کاش تم دیکھو جب یہ گھبرا جائیں گے تو عذاب سے بچ نہیں سکیں گے اور نزدیک ہی سے پکڑ لئے جائیں گے۔

وَّ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِہٖ ۚ وَ اَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنۡ مَّکَانٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿ۚۖ۵۲﴾

اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لے آئے اور اب اتنی دور سے ان کا ہاتھ ایمان کے لینے کو کیسے پہنچ سکتا ہے؟

وَّ قَدۡ کَفَرُوۡا بِہٖ مِنۡ قَبۡلُ ۚ وَ یَقۡذِفُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ مِنۡ مَّکَانٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۵۳﴾

جبکہ پہلے تو اس کا انکار کرتے رہے اور بن دیکھے دور ہی سے اٹکل کے تیر چلاتے رہے۔

وَ حِیۡلَ بَیۡنَہُمۡ وَ بَیۡنَ مَا یَشۡتَہُوۡنَ کَمَا فُعِلَ بِاَشۡیَاعِہِمۡ مِّنۡ قَبۡلُ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا فِیۡ شَکٍّ مُّرِیۡبٍ ﴿٪۵۴﴾٪۶

اور ان میں اور انکی خواہشوں میں پردہ حائل کر دیا گیا جیسا کہ پہلے انکے ہم جنسوں سے کیا گیا وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے۔

سورۃ الاحزاب سورۃ فاطر